قدس کی آزادی عالم اسلام کی ترجیحات میں سرفہرست

قدس

?️

سچ خبریں:   تجزیہ کار نعمت مرزا احمد نے ایک انٹرویو میں اس بات پر زور دیا کہ اہم اور بااثر اسلامی ممالک کو خواہ ایک دوسرے کے درمیان مسائل سے قطع نظر، قدس کو آزاد کرنے کے لیے مل کر آگے بڑھنا چاہیے اوراسے عالم اسلام کی مستقل ترجیحات میں سے ایک بنانا چاہیے ۔

انہوں نے کہا کہ 40 سال قبل امام خمینی نے ماہ مقدس رمضان کے آخری جمعہ کو عالمی یوم قدس کے طور پر منانے کا اعلان کیا تاکہ فلسطین کے مظلوم عوام کی حمایت میں اسلامی اتحاد کی بنیاد فراہم کی جا سکے اور آخرکار اس مسئلے کو حل کیا جا سکےدرحقیقت، اس تاریخی اور خدا کی خوشنودی کے عمل سے امام خمینی نے مسئلہ فلسطین کو نام نہاد عرب یہودی نسلی تصادم کے دائرے سے باہر نکالا اور اسے اسلامی دنیا کے لئے مجلس وحدت مسلمین کے ایجنڈے کا ایک اہم مسئلہ بنا دیا۔ ۔

مرزا احمد نے مزید کہا کہ اس کے بعد ہی مسئلہ قدس کی اسلامی جہت نمایاں ہوئی اور قابض حکومت کے خلاف فلسطینی گروہوں کی اسلامی مزاحمت کی تشکیل کا باعث بنی دوسری جانب فلسطین پر ظلم و ستم کی طرف امت اسلامیہ کی توجہ مبذول کروانے سے صیہونی حکومت اور اس کے حامیوں کی متعدد سازشوں کو تسلیم اور بے اثر کیا گیا جس سے پوری دنیا کے مسلمانوں اور آزادی کے متلاشیوں میں ہمدردی کا جذبہ بیدار ہوا۔ لبنان کے ساتھ 33 روزہ جنگ میں صیہونی حکومت کی شکست، غزہ کے عوام کے ساتھ 22 روزہ اور آٹھ روزہ جنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ غاصبوں کی امریکہ اور مغرب کی بھرپور حمایت کے باوجود مسلمان عوام مقبوضہ علاقوں کو جیتنے اور آزاد کرانے کا پختہ ارادہ رکھتی ہے۔

گفتگو کے ایک اور حصے میں انہوں نے مزید کہا کہ دنیا گواہ ہے کہ 74 سال قبل جب سے صیہونی حکومت نے اپنے وجود کا اعلان کیا اس نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے خلاف وحشیانہ حملے کیے ہیں، جس کی تاریخ انسانی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس خونخوار حکومت نے امریکہ اور برطانیہ کے تعاون سے لاکھوں فلسطینیوں کو اپنی سرزمین سے بے دخل کیا اور اس سرحد کو ایک ایسی جگہ بنا دیا جہاں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا۔ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے فلسطین ایک ایسی سرزمین بن چکا ہے جہاں 24 گھنٹے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جاتی ہیں لیکن انسانی حقوق کی نام نہاد عالمی تنظیمیں غاصب صیہونی حکومت کے جرائم کے سامنے خاموش رہنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ ان تنظیموں کی مالی اور فکری حمایت خود امریکہ کرتا ہے۔ بلاشبہ امریکہ، صیہونی حکومت کو سالانہ اربوں ڈالر فراہم کر کے، درحقیقت فلسطینیوں کے خلاف غاصبوں کے جرائم کی اصل ترغیب ہے۔

مرزا احمد نے مزید صیہونی حکومت کے ساتھ بعض اسلامی ممالک کے حالیہ معاہدوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ مشرق وسطیٰ کے تمام مسائل کینسر کی موجودگی کی وجہ سے ہیں اور جب تک اس کو ختم نہیں کیا جاتا اس وقت تک خطے میں حقیقی استحکام، امن اور ترقی نہیں ہو سکتی۔ بدقسمتی سے بعض عرب ممالک نے فلسطینی عوام اور امت اسلامیہ کے مفادات کو یکسرہ نظر انداز کرتے ہوئے غداری کی اور مجرم صیہونی حکومت کے ساتھ امن معاہدوں اور تعلقات کو معمول پر لانے کے معاہدے کئے۔

مشہور خبریں۔

امریکہ کی مزید صیہونی قبضے کی مخالفت

?️ 24 جنوری 2023سچ خبریں:مقبوضہ فلسطین میں امریکی سفیر تھامس نائیڈز نے کہا کہ امریکی

یورپ کی جانب سے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی میں توسیع کا خیر مقدم 

?️ 28 نومبر 2023سچ خبریں:یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے منگل کی

پاکستان کی ازبکستان کو اہم پیش کش

?️ 11 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خیریں) وزیر اعظم عمران خان نے ازبکستان کے وزیر خارجہ

پاکستان کے ساتھ دوسری قسط کیلئے معاہدہ رواں ہفتے متوقع ہے، سربراہ آئی ایم ایف

?️ 15 نومبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا

شام میں ترکی سے نمٹنے کے لیے اسرائیل کی امریکہ سے مدد کی درخواست

?️ 4 مارچ 2025سچ خبریں:اسرائیلی حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حکومت کی

افغانستان کے خلاف امریکی اقدام انسانی بحران کا سبب:ہیومن رائٹس واچ

?️ 6 اگست 2022سچ خبریں:ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ افغانستان کے مرکزی بینک پر

بائیڈن کے قومی سلامتی کے مشیر کی اسرائیلی آرمی چیف سے ملاقات

?️ 24 جون 2021سچ خبریں:وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ امریکی قومی سلامتی کے مشیر

کشمیریوں کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ

?️ 9 فروری 2021راولپنڈی (سچ خبریں) آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت کور

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے