فلسطینی عوام کی غزہ سے مصر میں جبری منتقلی کے بارے میں مصر کا کیا کہنا ہے؟

فلسطینی

?️

سچ خبریں: مصری صدر نے غزہ سے فلسطینی عوام کی جبری نقل مکانی کے خلاف اس ملک کی شدید مخالفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام کو اپنے ملک میں رہنا چاہیے۔

مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے تاکید کی کہ اس ملک نے رفح بارڈر کراسنگ کو کبھی بند نہیں کیا جبکہ صیہونیوں نے اس پر چار بار بمباری کی۔

ایک کانفرنس میں خطاب کے دوران السیسی نے کہا کہ اس کراسنگ کی بندش کے بارے میں غلط اطلاعات ہیں، لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ یہ مسلسل کھلی ہے کیونکہ مصر اس کراسنگ کو بند نہیں کرنا چاہتا لیکن دوسری طرف (صہیونی) امداد کی آمد کے حوالے سے اقدامات کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کیا صیہونی حکومت فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کر سکے گی؟

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ طوفان الاقصی آپریشن سے قبل اس کراسنگ سے روزانہ 500 ٹرک فلسطین میں داخل ہوتے تھے ، تاکید کی کہ تمام مصریوں نے غزہ کی پٹی میں فلسطینی عوام کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے کوششیں کیں۔

العربی الجدید اخبار نے السیسی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ کچھ چینلوں نے ہماری توہین کی اور کہا کہ ہم نے امداد کے لیے راستہ بند کر دیا ہے، یہ سچ نہیں ہے،ہم جانتے ہیں کہ [غزہ] کی پٹی میں تقریباً 20 لاکھ 300 ہزار لوگ محاصرے میں ہیں اور انہیں پانی، خوراک اور ایندھن کی ضرورت ہے۔

انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ فلسطینی عوام کی غزہ سے جبری نقل مکانی قاہرہ کی سرخ لکیر ہے، واضح کیا کہ ہم اس مسئلے کو ہرگز قبول نہیں کریں گے اور نہ ہی اس کی اجازت دیں گے، ہم 9 ملین لوگوں کی میزبانی کر رہے ہیں جو پڑوسی ممالک سے بے گھر ہوئے ہیں۔

مصر کے صدر نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ جب ہم کہتے ہیں کہ ہم فلسطینی عوام کی جبری نقل مکانی کے خلاف ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا ملک موجود ہے جو انہیں کا ہے۔

اقوام متحدہ میں فلسطین کے نمائندے ریاض منصور نے بدھ کے روز کہا کہ صیہونی حکومت نے غزہ کی پٹی کے 23 لاکھ افراد کو زندگی اور بقا سے محروم کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب غزہ کے لوگوں کی جبری ہجرت کے خلاف

اپنی تقریر کے تسلسل میں، انہوں نے زور دے کر کہا کہ نکبت ختم ہونی چاہیے اور ہم فلسطینیوں کی ان کی سرزمین سے جبری نقل مکانی کو مسترد کرتے ہیں۔

آخر میں ریاض منصور نے اشارہ کیا کہ اس تنازعہ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور مسئلہ فلسطین کو حل کیے بغیر مشرق وسطیٰ میں امن ممکن نہیں ہے۔

مشہور خبریں۔

پابندیوں کے باوجود ایران دنیا کی بیسویں معاشی طاقت:عالمی مالیاتی فنڈ

?️ 9 مئی 2022سچ خبریں:عالمی مالیات فنڈ نے اعلان کیا ہے کہ سخت ترین معاشی

سعودی عرب پر حملے جاری رہیں گے:انصاراللہ

?️ 13 فروری 2021سچ خبریں:یمن کی انصاراللہ تحریک کے ترجمان نے کہا کہ یمنی فوج

لوگوں کی جائیدادوں کو ضبط کرنا مقبوضہ جموں وکشمیرمیں ایک نیا معمول بن چکا ہے: رپورٹ

?️ 7 جنوری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی

منشیات کی زنجیر توڑنے کیلئے قومی اور عالمی سطح پر جدوجہد ضروری ہے: وزیراعظم

?️ 26 جون 2025لاہور: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ منشیات کی

صہیونی حکومت کی جانب سے جنوب لبنان پر حملوں کا سلسلہ جاری 

?️ 29 جون 2026سچ خبریں: صہیونی حکومت کے جنگی طیاروں نے ایک بار پھر جنوب لبنان

جوہری مذاکرات سے لے کر استقامتی میزائل تک

?️ 25 ستمبر 2022سچ خبریں:   صیہونی حکومت کے وزیر اعظم یائر لاپیڈ نے مذاکرات اور

موروثی سیاست کی پیداوار بلاول اپنے گریبان میں جھانکیں: فیاض الحسن

?️ 29 اگست 2021لاہور (سچ خبریں) ترجمان پنجاب حکومت فیاض الحسن نے بلاول کے بیانات

صیہونی حکومت کے حکمران ڈھانچے کے سکینڈلز کا تسلسل

?️ 2 مئی 2023سچ خبریں:یدیعوت احرانوت اخبار کے مطابق پولیس نے رشوت لینے، دھوکہ دہی،

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے