فرانس میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا، مکرون سے استعفی کا مطالبہ

مکرون

?️

فرانس میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا، مکرون سے استعفی کا مطالبہ
 فرانس کے صدر ایمانوئل مکرون ایک بار پھر شدید سیاسی دباؤ میں ہیں۔ حال ہی میں ان کے پانچویں وزیرِاعظم سباستین لکرنو (Sébastien Lecornu) کے اچانک استعفے نے ملک کو ایک نئے سیاسی بحران میں دھکیل دیا ہے۔ اس واقعے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے مکرون سے قومی اسمبلی کی تحلیل، استعفا یا حتیٰ کہ برطرفی کا مطالبہ کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، لکرنو نے صرف تین ہفتے قبل عہدہ سنبھالا تھا اور ابھی اپنی کابینہ کی فہرست اسمبلی میں پیش بھی نہیں کر پائے تھے کہ انہوں نے استعفی دے دیا۔ لکرنو کو کابینہ کی تشکیل کے آغاز سے ہی سخت مخالفت کا سامنا تھا کیونکہ ان کی مجوزہ ٹیم میں نصف وزراء سابق حکومت سے تعلق رکھتے تھے، جب کہ دیگر سیاسی جماعتوں نے مفاہمت کی کوششوں کے باوجود انہیں قبول کرنے سے انکار کیا۔
استعفے کے فوراً بعد مکرون کے مخالفین نے ان پر تنقید کے تیر چلانے شروع کر دیے۔مارین لو پن، جو پچھلے صدارتی انتخابات میں مکرون کی اہم حریف تھیں، نے کہا: ہم سیاسی بند گلی میں پہنچ چکے ہیں۔ اب صرف اسمبلی کی تحلیل ہی اس بحران کا حل ہے۔ یہ تماشہ بہت ہو چکا، مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
ان کے ہم جماعت ژوردن باردیلا (Jordan Bardella) نے بھی کہا کہ ملک میں استحکام صرف نئی پارلیمانی انتخابات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔دوسری جانب، سوشلسٹ رہنما فیلیپ برُن (Philippe Brun) نے صدر سے مطالبہ کیا کہ وہ نیا وزیرِاعظم بائیں بازو سے منتخب کریں تاکہ ملک میں توازن قائم ہو۔اسی دوران بائیں بازو کی جماعت فرانس تسلیم‌ناپذیر کے رہنماؤں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر صدر کے استعفے کی مہم شروع کر دی۔
پارٹی کی پارلیمانی رہنما ماتیلد پانو (Mathilde Panot) نے لکھا شمارشِ معکوس شروع ہو چکی ہے، مکرون کو جانا ہوگا۔اسی جماعت کے سربراہ ژان لوک ملانشوں (Jean-Luc Mélenchon) نے اعلان کیا کہ ۱۰۴ اراکینِ اسمبلی نے صدر کی برطرفی کی تجویز پیش کی ہے جسے فوری طور پر زیرِ غور لایا جانا چاہیے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مکرون کے حامیوں میں بھی اضطراب بڑھ رہا ہے۔ان کی جماعت کی رکنِ پارلیمنٹ النور کاروآ (Éléonore Caroit) نے کہا:ہم ایک ایسے سیاسی کھیل میں شامل ہو چکے ہیں جو ہمارا انتخاب نہیں تھا۔ ہمیں کام کرنے دیا جائے۔
سابق وزیرِ ماحولیات اَنیِیس پنیه روناشے (Agnès Pannier-Runacher) نے موجودہ صورتحال کو "سیاسی سرکس” قرار دیا اور کہا کہ “ہم اس بحران سے صرف اتحاد کے ذریعے نکل سکتے ہیں، تقسیم سے نہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مکرون کی دوسری صدارتی مدت کے دوران پانچ وزرائے اعظم کی تبدیلی فرانسیسی جمہوریہ پنجم کے لیے غیر معمولی بحران کی نشاندہی کرتی ہے۔ چونکہ مکرون کی جماعت کو اسمبلی میں اکثریت حاصل نہیں، انہیں ہر نئے وزیرِاعظم کے ساتھ سیاسی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اب فرانس ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے — جہاں صدر کے سامنے تین راستے ہیں:
اسمبلی کی تحلیل، استعفا، یا پارلیمانی برطرفی۔

مشہور خبریں۔

سیلاب متاثرین کے لیے ریلیف مانگنا سیاست نہیں: شازیہ مری

?️ 26 ستمبر 2025کراچی: (سچ خبریں) پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری نے کہا ہے

مولانا فضل الرحمٰن کا حماس رہنما اسمعیل ہنیہ سے ٹیلفونک رابطہ، بیٹوں اور پوتوں کی شہادت پر تعزیت

?️ 17 اپریل 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی- ف) کے

صیہونیوں کا UNRWA کے ملازمین کے ساتھ غیر انسانی سلوک

?️ 10 مارچ 2024سچ خبریں: UNRWA نے حال ہی میں صہیونیوں کے ہاتھوں گرفتار ہونے

اسرائیلی فوج کے لیے نئے امریکی ہتھیاروں کی کھیپ

?️ 26 جنوری 2024سچ خبریں:خبر رساں ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ امریکہ اسرائیل کو

اسرائیل اقوام متحدہ کی قرارداد پر عمل نہیں کرے گا : نیتن یاہو

?️ 2 جنوری 2023سچ خبریں:     اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اقوام

پہلی بار شہزاد رائے کی اپنی عمر پر کھل کر گفتگو

?️ 12 نومبر 2024کراچی: (سچ خبریں) گلوکار و سماجی رہنما شہزاد رائے نے ہر وقت

صیہونی حکومت کو پیرس اولمپکس سےکیوں محروم نہیں کیا گیا؟

?️ 7 اگست 2024سچ خبریں: پیرس میں 2024 کے سمر اولمپک کھیلوں نے فلسطین کا

پاکستانی وزیرِ دفاع کا طالبان کے ترجمان پر رد عمل سامنے آگیا

?️ 2 نومبر 2025پاکستانی وزیرِ دفاع کا طالبان کے ترجمان پر رد عمل سامنے آگیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے