?️
غزہ کی بحالی کی نگرانی کے لیے امریکی قیادت میں نیا کمانڈ سینٹر جلد فعال ہوگا
امریکی ٹی وی نیٹ ورک ای بی سی نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل میں قائم ایک نیا امریکی قیادت میں مرکزِ فرماندهی (کمانڈ سینٹر) جو غزہ میں جنگ بندی، امدادی کارروائیوں اور تعمیرِ نو کی نگرانی کرے گا، آئندہ چند دنوں میں باضابطہ طور پر کام شروع کر دے گا۔
اس نیٹ ورک نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ یہ مرکز ایک تین ستارہ امریکی جنرل کی سربراہی میں قائم کیا جا رہا ہے، جبکہ اس کے نائب سربراہ کے طور پر ایک دو ستارہ افسر کو تعینات کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق، یہ مرکز اسرائیل کے اندر شمال مشرقی علاقے میں واقع ہے، تاہم سلامتی وجوہات کی بنا پر اس کا درست مقام ظاہر نہیں کیا گیا۔ امریکی حکام نے وضاحت کی ہے کہ یہ مرکز کسی اسرائیلی فوجی اڈے پر نہیں ہوگا تاکہ بین الاقوامی شراکت دار ممالک کے نمائندے بآسانی اس میں شامل ہو سکیں۔
ای بی سی نیوز کا کہنا ہے کہ یہ مرکز غزہ کی تعمیر نو اور امن عمل کے لیے کلیدی ڈھانچے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد جنگ بندی کے بعد غزہ میں سکیورٹی، امدادی اور تعمیراتی سرگرمیوں کو منظم کرنا ہے۔
امریکہ اور دیگر ممالک اب بھی اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ غزہ میں بین الاقوامی امن فورس کس طرح تشکیل دی جائے، اور خوراک و امداد کی تقسیم کیسے کی جائے۔
ذرائع کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی 200 امریکی فوجی اہلکار اسرائیل بھیج چکے ہیں تاکہ یہ مرکز قائم کیا جا سکے۔ ان اہلکاروں کو نقل و حمل، منصوبہ بندی، لاجسٹکس اور سکیورٹی میں مہارت حاصل ہے۔ یہ ٹیمیں عالمی اداروں، نجی شعبے اور غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ بھی تعاون کریں گی۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کمانڈ سینٹر ابتدائی طور پر محدود سطح پر کام شروع کرے گا اور آنے والے دنوں میں “ابتدائی آپریشنل صلاحیت” حاصل کر لے گا۔
یاد رہے کہ 29 ستمبر 2025 کو صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتنیاہو کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں غزہ کے لیے 20 نکاتی جنگ بندی منصوبہ پیش کیا تھا، جس کا مقصد جنگ کا خاتمہ اور علاقے کی تعمیرِ نو بتایا گیا۔
اس کے جواب میں، 3 اکتوبر 2025 کو فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اس شرط پر جنگ بندی قبول کی کہ مکمل فائر بندی، قیدیوں کا تبادلہ اور غزہ کی مقامی انتظامیہ کی خودمختاری یقینی بنائی جائے۔
بعدازاں، 14 اکتوبر کو مصر کے ساحلی شہر شرم الشیخ میں امریکہ کے تجویز کردہ جنگ بندی منصوبے پر عمل درآمد کے لیے مصر، قطر اور ترکی کی ثالثی میں حماس اور اسرائیل کے درمیان بالواسطہ مذاکرات شروع ہوئے۔
ٹرمپ نے 8 اکتوبر 2025 کو اعلان کیا تھا کہ اسرائیل اور حماس نے منصوبے کے پہلے مرحلے پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت تمام مغویوں کی رہائی اور اسرائیلی فوج کا جزوی انخلا عمل میں لایا جائے گا۔
آخرکار، 21 اکتوبر کو مصر میں غزہ امن معاہدہ کے نام سے یہ معاہدہ صدر ٹرمپ کی نگرانی میں 20 سے زائد ملکوں کے رہنماؤں کی موجودگی میں دستخط کیا گیا۔
خیال رہے کہ اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 کو فلسطینی تنظیم حماس کی جانب سے شروع کی گئی طوفان الاقصیٰ کارروائی کے بعد غزہ پر بدترین حملے شروع کیے تھے، جن میں اب تک 66 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
کیا ترکی اور اسرئیل کے درمیان تجارت بند ہو گئی ہے؟
?️ 26 مئی 2024سچ خبریں: ترکی کے صدر نے ایک بار پھر دعوی کیا کہ
مئی
اتحادی حکومت کے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے دعوے
?️ 6 جولائی 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) وفاقی وزیر برائے ریلوے سعد رفیق نے وزیراعظم کے
جولائی
بھارتی اداکارہ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ
?️ 18 ستمبر 2023سچ خبریں: کولکتہ کی عدالت نے دھوکا دہی کے الزام میں بھارتی
ستمبر
وزیر اعظم نے سارک سربراہی اجلاس کی میزبانی کا عندیہ دے دیا
?️ 24 دسمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان میں سارک سربراہی
دسمبر
پی آئی اےنے سڈنی کے لیے براہِ راست پروازیں چلانے کا منصوبہ بنا لیا
?️ 28 فروری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان کی قومی ائیرلائن پی آئی اے نے
فروری
نواز شریف کی کرپشن!
?️ 26 جنوری 2021وزیراعظم عمران خان اگر اپنے کسی سیاسی مخالف کو سب سے زیادہ
جنوری
امریکہ کے غیر محفوظ دل سے لے کر ذریعہ معاش کے بحران تک
?️ 13 اگست 2025سچ خبریں: امریکہ اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے صدارتی دور کے
اگست
صحافی کے خلاف نازیبا زبان کا استعمال، قاسم سوری کے نیشنل پریس کلب میں داخلے پر پابندی
?️ 30 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) سینئر صحافی سلیم صافی کے خلاف بیان دینے پر
دسمبر