غزہ جنگ کے دوران حزب اللہ کی کاروائیاں

غزہ

?️

سچ خبریں: غزہ جنگ کے دوران حزب اللہ نے غزہ اور لبنان میں صیہونی جرائم کے جواب میں 230 سے ​​زائد مرتبہ صیہونی اہداف کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔

العہد نیوز ایجنسی نے اپنی ایک رپورٹ میں غزہ کی 50 روزہ جنگ میں حزب اللہ کی کارکردگی کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر ہم اس کارکردگی کا مختصراً حوالہ دینا چاہیں تو ہم حزب اللہ کے سکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ کے بیانات کا حوالہ دے سکتے ہیں جنہوں نے کہا کہ لبنانی محاذ ایک تہائی سے زائد صیہونی فوج کو لبنان کی سرحدوں پر مشغول کرنے میں کامیاب ہوا جو صیہونی خصوصی اور آپریشنل فورسز کا ایک اہم حصہ تھا،اس کے علاوہ اسرائیلی بحریہ کی نصف طاقت بحیرہ روم میں تعینات تھی نیز اس حکومت کی فضائیہ کا ایک چوتھائی حصہ بھی لبنان کے محاذ پر موجود تھا،جبکہ اسرائیل کے نصف میزائل ڈیفنس سسٹم کو لبنانی محاذ پر بھیج دیا گیا نیز اس عرصے کے دوران 43 صہیونی بستیوں کو مکمل طور پر خالی کرایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکہ کیوں حزب اللہ سے کیا ڈر رہا ہے؟

اس عرصے میں حزب اللہ نے 230 سے ​​زائد بیانات شائع کیے ہیں جن میں اس نے 206 صیہونی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے اور 24 حملوں کا اعلان کیا ہے، حزب اللہ کی کارروائیوں کا ٹائم فریم 9 اکتوبر کو شروع ہوا جو سلسلہ روز بروز جاری رہا اور مزید شدت اختیار کرتا گیا۔

غزہ کے عوام اور لبنان کے معصوم شہریوں کے خلاف صہیونی دشمن کے وحشیانہ جرائم کے جواب میں حزب اللہ نے 5 نومبر کو پہلی بار گراڈ میزائل کا استعمال کیا اور کریات شمعون کی صہیونی بستی کو نشانہ بنایا۔

نیز 20 نومبر کو لبنانی مزاحمت نے پہلی بار بارکان ہیوی میزائلوں کا استعمال کیا اور ان میں سے چار میزائلوں کو صیہونی حکومت کے 91ویں ڈویژن کے ہیڈ کوارٹر برنیت فوجی اڈے پر داغا۔

حزب اللہ کی صیہونی مخالف کاروائیوں کا عروج 23 نومبر کو تھا جب اس نے 22 بیانات شائع کیے جن میں سے ہر ایک میں سرحدوں اور مشرقی علاقوں میں صہیونی دشمن کے مراکز اور اجتماعات پر حملہ کرنے کا اعلان تھا۔

رپورٹ کے مطابق حزب اللہ نے ان کاروائیوں میں مختلف ہتھیاروں کا استعمال کیا، جس میں صرف ان میں سے کچھ کی نوعیت کا ذکر کیا گیا ہے، ان ہتھیاروں میں ہم 57 ایم ایم کی توپیں، انٹرسیپٹر میزائل، راکٹ، توپ خانہ، زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل، گراڈ اور بارکان میزائل اور حملہ آور ڈرونز کا ذکر کر سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: عصر حجر سے صیہونیوں کیوں خوفزدہ ہوتے ہیں؟

اگرچہ صیہونی حکومت نے لبنانی مزاحمت کے حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات اور جانی نقصان کو خفیہ رکھنے کی کوشش کی۔ لیکن حزب اللہ کے میڈیا کیمروں نے سرحدوں پر صہیونی دشمن کی بہت سی ہلاکتیں ریکارڈ کی ہیں۔

مشہور خبریں۔

شام اور ترکی کے درمیان تعلقات کو بحال کرنےمیں کون سی رکاوٹیں ہیں

?️ 16 نومبر 2024سچ خبریں: شام کے ساتھ معمول اور سرکاری سفارتی تعلقات بحال کرنے

صیہونی حملوں میں ہمارا کوئی کردار نہیں:ٹرمپ

?️ 15 جون 2025 سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ

قوم اور سرزمین کے دفاع میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا:شہباز شریف

?️ 12 اکتوبر 2025قوم اور سرزمین کے دفاع میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگاؔ:شہباز شریف پاکستان

میں اپنے فوجیوں کے لیے مزید فنڈ حاصل کرنے کے لیے کانگریس جا رہا ہوں: ٹرمپ

?️ 23 اگست 2025سچ خبریں: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے زور دے کر کہا ہے کہ

لبنان کو اسرائیل کے لیے کھیل کا میدان ہونا چاہیے:انتہاپسند صیہونی وزیر

?️ 22 جون 2026سچ خبریں:صہیونی حکومت کے داخلی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے

ایرانی میزائلوں کے حملوں کے بعد صہیونی حکومت کی پناہ گاہوں میں نئی تبدیلیوں کی تیاری

?️ 26 دسمبر 2025سچ خبریں:  کئی ماہ گزرنے کے باوجود، 12 روزہ جنگ کے دوران ایران

چینی سفارتکار کا جاپان اور جنوبی کوریا پر طنز

?️ 10 جولائی 2023سچ خبریں:چینی حکومت کے سینئر سفارت کار اور ملک کے سابق وزیر

امریکہ چین کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے میں ایماندار نہیں: چینی میڈیا

?️ 6 فروری 2023سچ خبریں:انتھونی بلنکن نے جمعے کے روز اپنا چین کا دورہ ملتوی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے