?️
عراق میں پارلیمان کی صدارت کا معاملہ تعطل کا شکار، وزیرِاعظم اور صدر کے انتخاب پر مشاورت جاری
عراق میں حالیہ پارلیمانی انتخابات کے بعد حکومت سازی کا عمل شدید سیاسی اختلافات کی نذر ہو گیا ہے۔ اہلِ سنت جماعتوں کے درمیان پارلیمان کی صدارت کے امیدوار پر اتفاق نہ ہونے کے باعث یہ مرحلہ تعطل کا شکار ہے، جبکہ شیعہ سیاسی اتحاد فریم ورک وزیرِاعظم کے امیدوار کے انتخاب پر اپنی مشاورت جاری رکھے ہوئے ہے اور کرد جماعتیں بھی تاحال صدرِ مملکت کے نام پر متفق نہیں ہو سکیں۔
عراقی قانون کے مطابق نئی پارلیمان کے پہلے اجلاس میں سب سے پہلے اسپیکر کا انتخاب کیا جاتا ہے، اس کے بعد صدرِ مملکت اور پھر وزیرِاعظم نامزد کر کے حکومت بنانے کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔ صدر کو پارلیمان کے پہلے اجلاس کے ایک ماہ کے اندر منتخب کیا جانا ضروری ہے، جس کے بعد وہ اکثریتی پارلیمانی بلاک کو حکومت سازی کی دعوت دیتے ہیں۔
سیاسی عرف کے مطابق عراق میں پارلیمان کی صدارت اہلِ سنت، صدارت کردوں اور وزارتِ عظمیٰ شیعہ سیاسی قوتوں کے حصے میں آتی ہے۔ تاہم اہلِ سنت جماعتوں کے درمیان گہرے اختلافات کے باعث اسپیکر کے نام پر اتفاق نہیں ہو سکا، جس پر دیگر سیاسی قوتوں میں آئینی مدت کے ضائع ہونے کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے۔
النصر اتحاد کے ترجمان سلام الزبیدی نے کہا ہے کہ اہلِ سنت سیاسی جماعتوں کے اختلافات انتہائی گہرے ہیں اور حل کے لیے بات چیت جاری ہے۔ ان کے مطابق آئینی ٹائم فریم کی پابندی ضروری ہے اور وزیرِاعظم کے انتخاب کا عمل اسپیکر کے انتخاب سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شیعہ فریم ورک کو اہلِ سنت جماعتوں کے درمیان کشیدگی پر تشویش ہے اور اسی لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے تاکہ اسپیکر کے معاملے کو جلد حل کیا جا سکے۔
الزبیدی کے مطابق اہلِ سنت کی اکثریتی سیاسی قیادت سابق اسپیکر محمد الحلبوسی یا ان کی جماعت کے کسی بھی امیدوار کی دوبارہ نامزدگی کی مخالف ہے، جس سے بحران مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔
دوسری جانب شیعہ فریم ورک کے اندر وزیرِاعظم کے امیدوار کے حوالے سے مسلسل اجلاس ہو رہے ہیں۔ فریم ورک کے سینئر رہنما عامر الفائز نے تصدیق کی ہے کہ یہ مشاورت جلد کسی موزوں شخصیت کے انتخاب پر منتج ہو گی۔ ان کے مطابق ایک سے زیادہ نام زیرِ غور ہیں اور مقصد ایسا طریقہ کار طے کرنا ہے جو ووٹرز کے مینڈیٹ کا تحفظ کرے۔
عراقی پارلیمان کے رکن باقر الساعدی نے بتایا کہ اس وقت وزیرِاعظم کے عہدے کے لیے 27 سے 30 نام زیرِ غور ہیں جنہیں فریم ورک کی مرکزی کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق یہ فہرست اب محدود ہو کر چند ناموں تک آ گئی ہے، جن میں محمد شیاع السودانی بھی شامل ہیں، جبکہ کچھ سیاسی شخصیات نے دیگر ناموں کی حمایت کا عندیہ دیا ہے۔
قانونی اتحاد کے رکن زہیر الجلبی کا کہنا ہے کہ فریم ورک کے اندر بعض رہنما السودانی کی مدت میں توسیع کے حق میں نہیں ہیں۔ ان کے مطابق وزیرِاعظم کے انتخاب میں تاخیر کی ایک وجہ کردوں اور اہلِ سنت کی جانب سے اپنے امیدواروں پر فیصلہ نہ ہونا بھی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مستقبل کے وزیرِاعظم کو مزاحمتی گروہوں اور تمام کامیاب سیاسی دھڑوں کا اعتماد حاصل ہونا چاہیے۔
ادھر کرد سیاسی قوتوں کے درمیان بھی صدرِ مملکت کے امیدوار پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ یہ معاملہ کردستان ڈیموکریٹک پارٹی اور پیٹریاٹک یونین آف کردستان کے درمیان جاری مذاکرات سے مشروط ہے۔ کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کی رکن وفا محمد نے کہا ہے کہ اگر کرد جماعتیں اپنے مطالبات پر متحد ہو گئیں تو مشترکہ امیدوار سامنے آئے گا، بصورت دیگر ہر جماعت اپنا الگ امیدوار پیش کرے گی، جو کرد سیاسی اتحاد کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
مجموعی طور پر عراق میں تینوں اعلیٰ ریاستی عہدوں پر تعیناتی کا عمل سیاسی اختلافات اور مشاورت کے پیچیدہ مرحلے سے گزر رہا ہے، تاہم مختلف سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ تعطل مستقل نہیں ہوگا اور آئندہ دنوں میں حکومت سازی کے عمل میں پیش رفت متوقع ہے۔


مشہور خبریں۔
شمالی محاذ پر حزب اللہ کی عملداری
?️ 5 نومبر 2023سچ خبریں: ایسے وقت میں جب تل ابیب تیسری عالمی جنگ شروع
نومبر
برطانوی نرسوں کی بڑے پیمانے پر ہڑتال کی تیاری
?️ 4 دسمبر 2022سچ خبریں:پورے برطانیہ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ میں 100000 سے زیادہ نرسیں
دسمبر
اسرائیل میں کبھی امن ممکن نہیں :صیہونی سیاستدان
?️ 3 مئی 2025 سچ خبریں:صیہونی سیاستدان آویگدور لیبرمن نے یمن سے داغے گئے میزائلوں
مئی
صدر مملکت کو عہدے سے ہٹانے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر
?️ 18 اپریل 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ آف پاکستان میں صدر مملکت ڈاکٹر
اپریل
یوکرین میں انگلینڈ اور روس کے درمیان براہ راست تصادم کا امکان
?️ 22 اگست 2022سچ خبریں: ایک سینئر برطانوی فوجی اہلکار نے خبردار کیا ہے کہ
اگست
200 امریکی افغانستان چھوڑنے کے خواہاں
?️ 23 اکتوبر 2021سچ خبریں:بائیڈن انتظامیہ نے کانگریس کو آگاہ کیا ہے کہ 300 سے
اکتوبر
خوف کی دیوار ٹوٹنے تک امریکی اور یہودی ظلم رکے گا نہیں: یمنی مفتی
?️ 21 جولائی 2025سچ خبریں: شیخ شمس الدین شرف الدین، مفتی اعظم یمن، نے غزہ
جولائی
ترکی کے صدر کی مغرب دشمنی پر ترک تجزیہ کار کا اظہار خیال
?️ 14 دسمبر 2021سچ خبریں:ترک تجزیہ کار کا خیال ہے کہ اردغان نے گزشتہ چند
دسمبر