عراق میں نیا امریکی کھیل

عراق

?️

سچ خبریں:بغداد حکومت اور واشنگٹن کے مابین اسٹریٹجک مذاکرات کا تیسرا دور ختم ہو گیا ہے جس کے بعد ایسا لگتا ہے کہ امریکی عراق میں مزاحمتی گروپوں پرقابو پانے کےدرپے ہیں۔
عراق اور امریکہ کی حکومتوں کے مابین اسٹریٹجک مذاکرات کا تیسرا دور ابھی ختم ہوا ہے، اسٹریٹجک مذاکرات کے اس دور کے اختتام کے بعد دونوں فریقوں نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں دو طرفہ تعاون کو جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا، امریکی اور عراقی فریقین نے بتایا کہ مذاکرات کے تیسرے دور میں فوجی اور سکیورٹی امور کے علاوہ معاشی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیاجبکہ حقیقت یہ ہے کہ بغداد اور واشنگٹن کے مابین مذاکرات کا تیسرا دور امریکی عہدیداروں کے زور پر ہوا۔

اس دورانیے کے انعقاد پر امریکیوں کے اصرار کی اصل وجہ واشنگٹن پر مختلف سیاسی اور فوجی شعبوں میں مزاحمتی گروپوں اور ان کے رہنماؤں کے ذریعہ دباؤ تھا، اس کی وجہ یہ ہے کہ حالیہ مہینوں میں امریکیوں کو عراقی مزاحمتی گروپوں کی جانب سے ملک چھوڑنے کے لئے وسیع سیاسی اور فوجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس سلسلے میں واضح رہے کہ گذشتہ ماہ کے دوران عراقی فوج سے وابستہ لیجسٹک قافلوں کو ملک کے مختلف حصوں میں نشانہ بنایا گیا ، ان حملوں کے نتیجے میں واشنگٹن کو بہت نقصان اٹھانا پڑا ۔

عراقی مزاحمتی گروپوں کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی قافلوں پر حملوں کا سلسلہ صرف ایک پیغام ہے اور وہ یہ ہے کہ واشنگٹن کے پاس عراقی سرزمین چھوڑنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہےتاہم شواہد سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ امریکیوں کو عراق بھر میں اپنے فوجی قافلوں کو نشانہ بنائے جانے پر سخت تشویش ہے، اس سلسلے میں بغداد میں واشنگٹن کے سفیر میتھیو ٹولر نے حال ہی میں ایک تقریر کی۔ امریکی قافلوں پر فوجی حملوں کا ذکر کرتے ہوئے واضح طور پر ان حملوں کے تسلسل پر تشویش کا اظہار کیا۔

اس کے علاوہ سیاسی میدان میں بھی مزاحمتی گروہوں نے امریکیوں پر بہت دباؤ ڈالا ہےکیونکہ جب بغداد اور واشنگٹن کے مابین اسٹریٹجک مذاکرات شروع ہوئے تو مزاحمتی گروپوں کے قائدین نے دونوں فریقوں کے مابین کسی بھی ممکنہ معاہدے کے خلاف متحدہ موقف اختیار کیا، عراق کے فتح اتحاد کے سربراہ ہادی العامری نے کہاکہ امریکیوں کے بارے میں ان کا مؤقف بالکل واضح ہےاور ان کا کہناتھاکہ ہمارا ماننا ہے کہ امریکی فوجیوں کو عراق چھوڑنا چاہئےکیونکہ ہم کسی بھی صورت میں اپنے ملک پر قبضہ برداشت نہیں کریں گے۔

مشہور خبریں۔

زیاد النخالة: فلسطینی مجاہدین کی شہید رہنما کی الوداعی تقریب میں شرکت عہد کی وفاداری ہے

?️ 5 جولائی 2026سچ خبریں: فلسطین کی اسلامی جہاد تحریک کے سیکریٹری جنرل زیاد النخالة

صیہونی حکومت کی سویدا میں جولانی کے ٹھکانوں پر بمباری 

?️ 17 جولائی 2025 سچ خبریں: صیہونی حکومت کے آرمی ریڈیو نے اس حکومت کے

ایران میں اسلامی انقلاب کی تینتالیسویں سالگرہ پر عوامی جوش و خروش

?️ 12 فروری 2022سچ خبریں:ایران کے اسلامی انقلاب کی تینتالیسویں سالگرہ کے موقع پر ایرانی

عمران خان کو اب ووٹوں کی چوری نہیں کرنے دیں گے:مریم نواز

?️ 27 فروری 2021لاہور(سچ خبریں) لا ہور میں نائب صدر مسلم لیگ ن مریم نواز

(ن) لیگ کا قیادت کےخلاف مقدمات کی سماعت سے 2 ججز کی دستبرداری کیلئے سپریم کورٹ جانے کا اعلان

?️ 22 فروری 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے

ٹرائل کورٹ مقدمے کا فیصلہ ایک سال کے اندر کرنے کی پابند، ضابطہ فوجداری ترامیم کابینہ سے منظور

?️ 18 دسمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی کابینہ نے ضابطہ فوجداری میں ترامیم کی

صیہونی سعودی دوستی کی امریکی کوشش

?️ 25 جون 2022سچ خبریں:امریکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ بائیڈن کے خطے کے

فلسطینی قیدیوں کی رہائی؛ صہیونی رہنماؤں کے درمیان اختلاف کا نیا موضوع

?️ 3 جولائی 2024سچ خبریں: تل ابیب کابینہ کی داخلی سلامتی کے وزیر اٹمر بن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے