?️
یمن کی انصاراللہ تحریک کے رہبر عبدالملک الحوثی نے یومِ خواتین اور حضرت فاطمہ زہرا ؑ کی ولادت کے موقع پر جاری اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ موجودہ دور میں پورا عالم اسلام ایک فتنہ انگیز، گمراہ کن اور شیطانی نرم جنگ کا شکار ہے جو ایمانی شناخت کو نشانہ بنا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری امت پہلے سے کہیں زیادہ اس نرم جنگ کی زد میں ہے جس کے اثرات سخت جنگ سے کہیں زیادہ سنگین ہیں۔ آج کی انتشار اور دشمنوں کی اتباع کی کیفیت اس کی واضح دلیل ہے۔
امت اسلامی پر نرم جنگ کے مہلک اثرات
الحوثی نے زور دیا کہ امت اسلامی نرم جنگ سے سخت جنگ سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔ عالم اسلام میں پھیلا ہوا انتشار، ذلت اور اندھی تقلید اس کا برملا ثبوت ہے۔ دشمنوں نے زیادہ تر حکومتوں کو اپنا تابع بنا لیا ہے جبکہ اکثر اسلامی امت سر تسلیم خم کیے ہوئی ہے۔ ان کے وسائل لوٹے جا رہے ہیں، اسلامی ممالک کی زمین پر فوجی اڈے قائم کیے گئے ہیں اور ان کی انسانی قوتیں دشمنوں کے لیے کام کر رہی ہیں۔
فلسطین میں نسل کشی پر خاموشی کی مذمت
انہوں نے کہا کہ دشمنوں نے امت اسلامی کو انسانی، اخلاقی اور اسلامی مواد سے خوفناک طور پر محروم کر دیا ہے۔ فلسطینی عوام کی نسل کشی کے معاملے پر عالم اسلام کا موقف اس کی واضع مثال ہے۔ صہیونی یہودیوں نے فلسطین میں ہزاروں مسلمان خواتین کو شہید کیا ہے جن میں حاملہ خواتین، چھوٹی بچیاں، نوجوان لڑکیاں اور بزرگ خواتین شامل ہیں۔ انہوں نے انسانی عزت کو پامال کیا ہے اور جنسی تشدد کے مظالم کے مرتکب ہوئے ہیں۔
عرب و اسلامی حکومتوں پر تنقید
انصاراللہ رہنما کے مطابق صہیونی جرائم کے باوجود دنیا کے عوام اپنے ضمیر کی آواز سن رہے ہیں جبکہ عرب و اسلامی ممالک کی صورتحال مختلف ہے جنہوں نے کوئی اقدام نہیں اٹھایا اور نہ ہی کوئی واضع موقف اختیار کیا۔
انہوں نے کہا کہ کچھ عرب حکومتوں کا اسرائیلی دشمن کو معاشی، مالیاتی، میڈیا اور معلوماتی حمایت دینا اور امت اسلامی کے ہاتھ فلسطینی عوام کی حمایت میں کسی بھی اقدام سے باندھ دینا ان کی سرسپردگی سے بھی بدتر ہے۔
امت کے اخلاقی ورشکستگی کا نوحہ
الحوثی نے کہا کہ دنیا بھر کے بیشتر مسلمان حقیقی بحران اور اخلاقی و قدرتی ورشکستگی کا شکار ہیں۔ منافقین نے اصل امن کے مفہوم کو مسخ کر کے اسے مصالحت، غلامی کی قبولیت اور اسرائیل جیسے ظالم ترین دشمن کے سامنے مکمل ہتھیار ڈال دینے سے تعبیر کیا ہے۔
انہوں نے سوریا میں موجودہ صورتحال پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے حکومتی گروہوں کو نفاق اور تسلیم کی روش کی مثال قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ گروہ امریکہ پر منحصر ہیں اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے میں مصروف ہیں۔
اسرائیل کی جارحانہ فطرت کی نشاندہی
انصاراللہ رہنما نے اسرائیل کی جارحانہ فطرت کو واضح کرنے کے لیے تل ابیب کی جانب سے بین الاقوامی معاہدوں کی مسلسل خلاف ورزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے غزہ کی جنگ اور لبنان کی سرحدی کشیدگی کی مثالیں دیں۔
انہوں نے موجودہ عالم اسلامی صورتحال کو بصیرت کے فقدان، آگاہی کی کمزوری اور انسانی ضمیر کی موت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے اسے مسلم معاشروں کے خلاف شیطانی گمراہ کن جنگ کا منطقی انجام بتایا۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
قتل کے حکم عراق کے باہر سے ملتے ہیں:عراقی سیاسی تنظیم
?️ 14 نومبر 2022سچ خبریں:عراق کے الفتح اتحاد کے ایک رکن نے کہا کہ اس
نومبر
غیر ملکی حکام کی جانب سے شہید صدر کو خراج عقیدت پیش کرنے کی تقریب اور چند اہم نکات
?️ 26 مئی 2024سچ خبریں: غیر ملکی حکام کا شہید صدر اور ان کے ساتھیوں کو
مئی
حکومت پولیو کے مکمل خاتمے کے لئے پرعزم ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف
?️ 3 جولائی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہبازشریف نے اپنے بیان میں کہا حکومت
جولائی
ہر حال میں ایران کے ساتھ کھڑے ہیں: پاکستان کا دوٹوک اعلان
?️ 22 جنوری 2026سچ خبریں:وزیرِ دفاع پاکستان خواجہ محمد آصف نے ایران کے سفیر سے
جنوری
عمران خان کی عبوری ضمانت میں 31 اکتوبر تک توسیع
?️ 17 اکتوبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے سابق وزیر اعظم اور
اکتوبر
جی ایچ کیو حملہ کیس: استغاثہ کے مزید 8 گواہوں کی شہادتیں ریکارڈ
?️ 15 فروری 2025راولپنڈی: (سچ خبریں) بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان
فروری
عراقی عوام کا ہر طبقہ صیہونیوں کا مخالف
?️ 2 اکتوبر 2021سچ خبریں:عراقی ثقافتی شخصیات نے ایک بیان میں اربیل سمٹ کی شدید
اکتوبر
پاکستان کی خوشحالی کیلئے نئی حکومت کیساتھ کام کرنے کے منتظر ہیں، آئی ایم ایف
?️ 23 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا
فروری