?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی ممنوعہ فنڈنگ کیس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے درج مقدمے میں ضمانت 31 اکتوبر تک توسیع کردی۔
وفاقی تحقیقاتی ادارہ نے 11 اکتوبر کو عمران خان سمیت 11 افراد کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کا مقدمہ درج کیا تھا، ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے فارن ایکسچینج ایکٹ کی خلاف ورزی کی، ملزمان نجی بینک اکاؤنٹ کے بینفشری ہیں۔
فارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت درج اس مقدمے میں گرفتاری کے خدشے کے پیش نظر عمران خان نے 12 اکتوبر کو حفاظتی ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے ان کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں 18 اکتوبر تک ضمانت دیتے ہوئے عمران خان کو متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔
اسی کیس کے سلسلے میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی اسپیشل جج سینٹرل کی عدالت میں پیش ہوئے۔ اس موقع پرسابق وزیراعظم کے ہمراہ ان کے چیف آف اسٹاف شبلی فراز بھی موجود تھے۔ عمران خان کی پیشی سے قبل سیکیورٹی اہلکاروں نے تمام افراد کو کمرہ عدالت سے باہر جانے کا کہا اور عدالت کی اسکیننگ کی گئی۔
اسپیشل جج سینٹرل راجہ آصف محمود نے درخواست کی سماعت کی، دوران سماعت عمران خان کے وکیل نے کہا کہ مقدمہ میں 10 ملزمان نامزد ہیں، دائرہ اختیار ابھی اسلام آباد ہائی کورٹ نے طے کرنا ہے۔
جج راجہ آصف نے استفسار کیا کہ مقدمہ میں کیا الزامات ہیں؟ جو الزامات لگے ہیں وہ سرکاری ملازم سے متعلق ہوں تو ہمارا اختیار ہے، بینک کے ملازم سے متعلق مقدمہ میں اس عدالت کا اختیار نہیں ہے۔
جج راجہ آصف محمود نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی ڈائریکشن پر عبوری ضمانت دے رہے ہیں، آئندہ سماعت پر آپ نے دائرہ اختیار پر مطمئن کرنا ہے۔
عدالت نے 31 اکتوبر تک عمران خان کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں ایک لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔
عدالت میں پیشی کے موقع پر عمران خان سے سوال کیا گیا کہ لانگ مارچ کی پاداش میں اگر مارشل لا لگ گیا تو آپ کا کیا رد عمل ہوگا جس پر سابق وزیراعظم نے کہا کہ فضل الرحمن کے لانگ مارچ کی دفعہ تو ملک میں مارشل نہیں لگا۔
اس سے قبل، عمران خان کے وکلا نے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر تھی، آج دائر کی گئی درخواست میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے استدعا کی تھی کہ ایف آئی اے کو ان کی گرفتاری سے روکا جائے جب کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی 18 اکتوبر تک حفاظتی ضمانت منظور کی تھی۔
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے 2 اگست 2022 کو پی ٹی آئی کے خلاف 2014 سے زیر التوا ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ثابت ہوگیا کہ تحریک انصاف نے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ تحریک انصاف کا نجی بینک میں اکاؤنٹ تھا اور نجی بینک کے منیجر کو بھی مقدمے میں شامل کیا گیا ہے۔
فیصلے کے مطابق نیا پاکستان کے نام پر بینک اکاؤنٹ بنایا گیا، بینک منیجر نے غیر قانونی بینک اکاؤنٹ آپریٹ کرنے کی اجازت دی، بینک اکاؤنٹ میں ابراج گروپ آف کمپنیز سے 21 لاکھ ڈالر آئے۔
مزید بتایا گیا کہ پاکستان تحریک انصاف نے ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی کا الیکشن کمیشن میں بیان حلفی جمع کرایا تھا، ابراج گروپ کمپنی نے پی ٹی آئی کے اکاؤنٹ میں پیسے بھیجے۔
فیصلے میں بتایا گیا کہ بیان حلفی جھوٹا اور جعلی ہے، ووٹن کرکٹ کلب سے 2 مزید اکاؤنٹ سے رقم وصول ہوئی، نجی بینک کے سربراہ نے مشتبہ غیر قانونی تفصیلات میں مدد کی۔
واضح رہے کہ ایف آئی اے نے 7 اکتوبر کو پی ٹی آئی سینیٹر سیف اللہ نیازی کو اسلام آباد اور لاہور سے حامد زمان کو ممنوعہ فنڈنگ کیس کی تحقیقات کے حوالے سے حراست میں لیا تھا۔
ایف آئی اے لاہور نے بیان میں کہا تھا کہ فارن فنڈنگ کی تحقیقات کے سلسلے میں مقدمہ درج کرکے پی ٹی آئی رہنما حامد زمان کو گرفتار کرلیا تھا۔
بیان میں کہا گیا تھا کہ ایف آئی اے لاہور کی جانب سے ممنوعہ فنڈنگ کا مقدمہ درج کرکے، انصاف ٹرسٹ کے ٹرسٹی حامد زمان کو وارث روڈ سے گرفتار کرلیا گیا۔
10 اکتوبر کو لاہور کی مقامی عدالت نے ممنوعہ فنڈنگ کیس کی تحقیقات کے لیے پی ٹی آئی کے رہنما حامد زمان کے مزید جسمانی ریمانڈ کی ایف آئی اے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے جیل بھیج دیا تھا۔
یاد رہے کہ 8 اکتوبر کو وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں سینیٹر سیف اللہ نیازی اور حامد زمان کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ 2 اگست کو ای سی پی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے خلاف 2014 سے زیر التوا ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ثابت ہوگیا ہے کہ تحریک انصاف نے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے فریقین کے دلائل سننے کے بعد رواں سال 20 جون کو محفوظ کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ یہ ثابت ہوا کہ پی ٹی آئی کو ممنوعہ ذرائع سے فنڈنگ ملی۔
فیصلے میں مزید کہا گیا تھا کہ تحریک انصاف نے 8 اکاؤنٹس ظاہر کیے جبکہ 13 اکاؤنٹس پوشیدہ رکھے، یہ 13 نامعلوم اکاؤنٹس سامنے آئے ہیں جن کا تحریک انصاف ریکارڈ نہ دے سکی۔
فیصلے میں پی ٹی آئی کو ملنے والی ممنوعہ فنڈنگ ضبط کرنے کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو قانون کے مطابق اقدامات کرنے کا حکم دیا تھا، فیصلے کی کاپی وفاقی حکومت کو بھی بھجوانے کی ہدایت کردی گئی۔


مشہور خبریں۔
صیہونیوں کے ہاتھوں مغربی کنارے میں مسجد کی توہین
?️ 15 دسمبر 2023سچ خبریں: فلسطین کے وزیر اوقاف اور مذہبی امور نے مغربی کنارے
دسمبر
کیپٹن بھوپیندر سنگھ کی سزا کی معطلی سے ’جے کے سی سی ایس“ کی رپورٹ کی تقویت ملے گی، بھارتی نیوز پورٹل
?️ 16 نومبر 2023نئی دہلی: (سچ خبریں) شوپیاں جعلی مقابلے میں تین بیگناہ کشمیری نوجوانوں
نومبر
صیہونیوں کے ہاتھوں مغربی کنارے میں 12 فلسطینی گرفتار
?️ 15 مارچ 2022سچ خبریں:اسرائیلی فوج نے پیر کے روز مغربی کنارے سے 12 فلسطینیوں
مارچ
اسرائیل کی حماس کے لئے جنگ بندی کی نئی تجویز کیا ہے؟
?️ 22 دسمبر 2023سچ خبریں:CNN نے آج صبح صیہونی حکومت کی طرف سے غزہ کی
دسمبر
پاکستان اور طالبان کے درمیان سرحدی کشیدگی کے نتائج پر روس کی تشویش
?️ 3 جنوری 2025سچ خبریں: ہندوستانی میڈیا نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی کشیدگی
جنوری
مأرب داعش ، سعودی عرب اور امریکہ کا مشترکہ گڑھ
?️ 22 فروری 2021سچ خبریں:داعش دہشت گرد گروہ کے حالیہ بیان سے یہ ظاہر ہوا
فروری
آرمی چیف کی سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ سے ملاقات، مسئلہ کشمیر و فلسطین پر تبادلہ خیال
?️ 16 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی دورہ
دسمبر
اگر کوئی معاہدہ نہیں ہوا تو یوکرین اپنی آزادی کھو دے گا: زیلنسکی
?️ 5 فروری 2026 سچ خبریں: یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے خبردار کیا ہے
فروری