صیہونیوں کی فلسطینیوں کے خلاف ایک اور مکروہ حقیقت منظر عام پر

صیہونیوں

?️

سچ خبریں: غزہ کی جنگ کے آغاز سے ہی اسرائیلی فوج کے فلسطینی شہریوں کو "انسانی ڈھال” کے طور پر استعمال کرنے کی متعدد رپورٹس سامنے آئی ہیں، اور اب نئی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ صیہونیوں کا یہ منظم جنایت جاری ہے۔
اس سلسلے میں ایسوسی ایٹڈ پریس (AP) نے کچھ فلسطینی قیدیوں اور اسرائیلی فوجیوں کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی افواج فلسطینیوں کو منظم طور پر مجبور کر رہی ہیں کہ وہ غزہ میں انسانی ڈھال کا کردار ادا کریں۔ رپورٹ کے مطابق، صیہونی فوجیوں نے فلسطینیوں کو عمارتوں اور سرنگوں میں دھکیل کر بارود صاف کرنے پر مجبور کیا، اور یہ خطرناک عمل گزشتہ 19 ماہ سے جاری غزہ کی جنگ میں اسرائیلی افواج کا ایک عام طریقہ کار رہا ہے۔
AP نے سات فلسطینیوں سے انٹرویوز کیے ہیں، جنھوں نے غزہ اور ویسٹ بینک میں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال ہونے کی داستانیں بیان کی ہیں۔
ایمن ابوحمدان، ایک فلسطینی شہری، جو اگست میں اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں گرفتار ہوا تھا، نے بتایا کہ صیہونی فوجیوں نے مجھے کہا کہ تمہیں اسرائیلی فوج کے ایک خاص مشن میں حصہ لینا ہوگا۔ انہوں نے مجھے 17 دن تک گھروں اور زمین کے سوراخوں میں سرنگیں تلاش کرنے پر مجبور کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے مجھے مارا پیٹا اور کہا کہ تمہارے پاس کوئی چارہ نہیں، یہ کام کرو ورنہ تمہیں مار دیا جائے گا۔
ایک اور سابق فلسطینی قیدی نے AP کو بتایا کہ اسرائیلی ہمیشہ ہمیں ہتھکڑیاں اور آنکھوں پر پٹی باندھتے تھے۔ صرف اسی وقت میری آنکھوں پر پٹی نہیں ہوتی تھی جب انہوں نے مجھے انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ایک کیمرے کے ساتھ غزہ کے گھروں میں داخل کیا جاتا تھا جو میرے ماتھے سے بندھا ہوتا تھا، تاکہ اسرائیلی فوجی یقین کر سکیں کہ وہاں کوئی بارود یا حماس کے جنگجو موجود نہیں ہیں۔ وہ مجھے دھمکی دیتے تھے کہ اگر میں نے یہ کام نہیں کیا تو وہ مجھے مار دیں گے۔
ایک نامعلوم اسرائیلی سینئر افسر نے بھی اعتراف کیا کہ انسانی ڈھال” کے استعمال کے احکامات اکثر اعلیٰ سطح سے آتے ہیں، اور ہر یونٹ ایک فلسطینی کو پوزیشنز صاف کرنے کے لیے استعمال کرتا تھا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
ان انکشافات کے بعد، انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ فلسطینی شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا اسرائیلی فوج کا ایک روایتی طریقہ کار بن چکا ہے، جو جنگ میں تیزی سے استعمال ہو رہا ہے۔
ناداو وائیمن، قانونی ادارے "شکستن سکوت” کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، نے کہا کہ یہ رپورٹس اسرائیلی فوج میں ایک خوفناک اخلاقی دیوالیہ پن اور نظامی ناکامی کی نشاندہی کرتی ہیں۔
اس سے قبل، ایک اسرائیلی سینئر افسر، جو 9 ماہ تک غزہ کی جنگ میں تعینات رہا اور جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، نے تسلیم کیا کہ اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کو "انسانی ڈھال” کے طور پر استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے جنگ میں سب سے بدترین اقدامات میں سے ایک ‘لیبارٹری کے چوہے اور قربانی کا بکرا’ کا طریقہ کار ہے، جس میں فلسطینیوں کو غزہ کے گھروں میں داخل ہونے اور انہیں چھاننے پر مجبور کیا جاتا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہاں کوئی مسلح افراد یا بارود موجود نہیں ہے۔

مشہور خبریں۔

ملیشیا کے وزیر اعظم کا یحییٰ السنوار کی شہادت پر حیرت انگیز بیان

?️ 20 اکتوبر 2024سچ خبریں: ملیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے حماس کے سیاسی

یوکرین جنگ کےعالمی نظام پر سیاسی اثرات

?️ 24 فروری 2025سچ خبریں: 24 فروری 2022 کو شروع ہونے والی یوکرین کی جنگ

وزیر اعظم کا تحریک انصاف کی حکومت میں نیب کی کاکردگی پر اطمینان کا اظہار

?️ 26 مئی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر اعظم عمران خان نے تحریک انصاف کی حکومت

آئی ایم ایف نے ترسیلات زر کا مقررہ ہدف حاصل نہ ہونے کا خدشہ ظاہر کردیا

?️ 28 جنوری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے رواں

سندھ کی وجہ سے بلوچستان کو پانی کی قلت کا سامناہے

?️ 9 جون 2021کوئٹہ(سچ خبریں) ترجمان حکومت بلوچستان نے ایک بیان میں کہا کہ سندھ

نیا امریکی صدر کون ہو گا؟ٹرمپ یا ایلون مسک

?️ 23 دسمبر 2024سچ خبریں:امریکہ کے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشہور ارب پتی اور

عمران خان کہہ چکے کسی ڈیل کی صورت میں باہرنہیں آؤں گا، بیرسٹر گوہر

?️ 29 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی

کوئی ملک طالبان کو تسلیم نہیں کرے گا: امریکہ

?️ 29 مارچ 2023سچ خبریں:کابل میں امریکن ایمبیسی کی انچارج کیرن ڈیکر کا کہنا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے