?️
صہیونی حکومت نے مستقبل قریب میں حماس کے عہدیدار سے ٹرمپ کی خصوصی ایلچی کی ملاقات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی برائے مغربی ایشیا اسٹیو وائٹکاف کی عنقریب حماس کے سینئر رہنما خلیل الحیہ سے ممکنہ ملاقات نے اسرائیلی حکام میں بے چینی بڑھا دی ہے۔ تل ابیب کو خدشہ ہے کہ واشنگٹن غزہ کی تعمیرِ نو حماس کے غیر مسلح ہونے سے قبل شروع کرنے اور ممکنہ فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی طرف بڑھ رہا ہے۔
اسرائیلی میڈیا والا نیوز کے مطابق صہیونی حکام نے اس مجوزہ ملاقات پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایک امریکی ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ وائٹکاف جلد ہی خلیل الحیہ سے غزہ کے مستقبل اور جنگ بندی سے متعلق معاملات پر گفتگو کریں گے۔ الحیہ حماس کے سیاسی دفتر کے اہم رکن اور مذاکراتی ٹیم کے سربراہ رہ چکے ہیں۔
اس پیشرفت کے بعد اسرائیل یہ دیکھنے کا منتظر ہے کہ آیا صدر ٹرمپ اپنی سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کے ساتھ ہونے والی اہم ملاقات میں فلسطینی ریاست کے قیام پر براہ راست بات کریں گے یا نہیں۔ اس بارے میں ان کے حالیہ بیانات نے تل ابیب اور واشنگٹن کے درمیان تناؤ میں اضافہ کیا ہے۔
اسرائیل کا مؤقف ہے کہ غزہ کی کسی بھی تعمیرِ نو کا آغاز حماس کی مکمل غیر مسلحیت کے بعد ہی ہونا چاہیے، جبکہ امریکہ رفح سمیت کئی علاقوں میں رہائشی منصوبوں کی تعمیر شروع کرنے کا خواہاں ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل اس وقت سیاسی دباؤ اور چیلنجوں کے شدید دور سے گزر رہا ہے، جن میں امریکہ کے ساتھ اختلافات، سعودی عرب سے تعلقات، اور وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کے اثرات شامل ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی کابینہ میں شامل دائیں بازو کے انتہائی سخت گیر وزرا ہر اس اقدام کی مخالفت کر رہے ہیں جسے کسی بیرونی ملک کے لیے ’’نرمی‘‘ سمجھا جائے۔
ایک سابق امریکی اہلکار نے والا نیوز کو بتایا کہ ٹرمپ اس ہفتے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل اور حامیوں کے پودکاسٹ کے ذریعے ایک بڑی میڈیا مہم شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تاکہ سعودی عرب کے ساتھ دوستی کا مضبوط تاثر دیا جا سکے اور انہیں ’’توافقِ ابراہیم‘‘ میں شامل ہونے پر آمادہ کیا جا سکے، جو امریکہ کے سیاسی و معاشی مفاد میں تصور کیا جا رہا ہے۔
دریں اثنا، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل منگل کی صبح اس امریکی تجویز پر رائے شماری کرے گی جس میں فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ’’قابلِ اعتماد سیاسی راستے‘‘ کی بات کی گئی ہے۔ بعض اسرائیلی سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام سعودی عرب کو ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت اور ایف-35 طیاروں کی خریداری کی اجازت دینے کے لیے واشنگٹن کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
اگرچہ اسرائیل ایف-35 کی فروخت پر اعتراض نہیں رکھتا، تاہم وہ چاہتا ہے کہ ٹرمپ اس سودے کو عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کی مزید بہتری کے لیے دباؤ کے طور پر استعمال کریں۔
ٹرمپ اور سعودی ولیعہد کی یہ ممکنہ ملاقات منگل کو وائٹ ہاؤس میں متوقع ہے، تاہم حتمی وقت کا اعلان نہیں کیا گیا۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات خطے اور امریکہ دونوں کے لیے انتہائی اہم ہوگی اور ’’توافقِ ابراہیم‘‘ اس کا مرکزی موضوع ہو گا۔
اس دوران یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ امریکی حکام جانتے ہیں کہ اس وقت فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے عملی سیاسی راستہ موجود نہیں، تاہم ’’قابلِ اعتبار راستے‘‘ جیسے الفاظ نے اسرائیلی حکومت میں سیاسی تناؤ مزید بڑھا دیا ہے۔


مشہور خبریں۔
عبرانی زبان کا میڈیا: آج کی اقوام متحدہ کی قرارداد اسرائیل کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے
?️ 13 ستمبر 2025سچ خبریں: عبرانی زبان کے ایک میڈیا آؤٹ لیٹ کے مطابق، اقوام
ستمبر
اسرائیل ہرگز امن نہیں چاہتا‘ حملوں کی محض مذمت کافی نہیں اب راستہ روکنا ہوگا، اسحاق ڈار
?️ 16 ستمبر 2025دوحہ: (سچ خبریں) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا
ستمبر
اسرائیلی باشندے بیرونی پاسپورٹ کے حصول کے لیے سرگرداں
?️ 6 ستمبر 2025سچ خبریں: عبرانی اخبار گلوبس نے جمعہ کے روز شائع ہونے والی
ستمبر
شہباز شریف کی دعوت، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اتوار کو پاکستان آئیں گے
?️ 31 جولائی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) ایران کے صدر مسعود پزشکیان 2 اگست کو
جولائی
صیہونی حکومت کے ستارے گردش میں
?️ 29 جون 2023سچ خبریں:یورپی پارلیمنٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی نے یورپی یونین سے
جون
پاراچنار حملے کا مقصد مسلمانوں کے اتحاد کو نقصان پہنچانا تھا:آیت اللہ سیستانی
?️ 23 نومبر 2024سچ خبریں:شیعہ مرجع تقلید آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی کے دفتر
نومبر
حماس کا ایک وفد شام روانہ
?️ 7 اکتوبر 2022سچ خبریں: خبر رساں ادارے روئٹرز نے دو باخبر ذرائع کے حوالے
اکتوبر
ائمہ بیگ کے ساتھ کنسرٹ کے دوران بدتمیزی، ویڈیو وائرل
?️ 27 دسمبر 2021کراچی (سچ خبریں) پاکستانی معروف گلوکارہ آئمہ بیگ کے ساتھ میوزک کنسرٹ
دسمبر