?️
سچ خبریں:بچوں کی قاتل صیہونی حکومت فلسطینی بچوں کو بھی نہیں بخشتی اور وہ قابض حکومت کے فوجیوں کی من مانی اور مسلسل گرفتاریوں سے محفوظ نہیں ہیں، صہیونی ان بچوں کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جیسے وہ اپنے حقوق کے مستحق نہیں ہیں جس کی واضح مثال اس سال کے دوران 815 بچوں کو گرفتار کیا جانا ہے۔
العہد لبنانی نیوز سائٹ نے اس بارے میں لکھا ہے کہ صیہونی حکومت کی جیلوں میں قید فلسطینی بچہ احمد المنصاره اس صہیونی جرم کی واضح مثال ہے جو اسرائیلی جیلوں میں اذیت ناک ذہنی اور جذباتی حالت کا شکار ہے، اس سلسلے میں فلسطینی قیدیوں اور جیلوں سے آزاد ہونے والو کے امور کی نگراں کمیٹی کے تحقیقی مرکز کے سربراہ عبدالناصر فروانہ نے کہا کہ اس سال کے آغاز سے اب تک صیہونی قابض فوج نے 815 فلسطینی بچوں کو گرفتار کیا ہے۔
انہوں نے العہد نیوز سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ قابضین نے اب بھی 150 کے قریب بچوں کو اپنی جیلوں میں قید کر رکھا ہے، فروانہ نے تاکید کی کہ لڑکوں، لڑکیوں ، ان کی کم عمری، کمزور جسمانی ساخ، اور ان میں سے بعض کی صحت کی خراب حالت نیز بچوں کے لیے بین الاقوامی قانون کی طرف سے فراہم کردہ کم سے کم حقوق کی پرواہ کیے بغیر ایک منظم پالیسی کے فریم ورک میں بچوں کو حراست میں لیا جاتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ صہیونیوں نے ان بچوں کو جیلوں میں قید کرنے یا سزائیں سنانے کے بعد ان کے ساتھ نمٹنے میں کم سے کم معیارات پر عمل نہیں کیا ہے،اسرائیل حقیقت کو مسخ کرنے اور ان بچوں کے مستقبل کو تباہ کرنے کے لیے اپنی طاقت کا غلط استعمال کر رہا ہے تاکہ ایک متزلزل اور شکست خوردہ نسل پیدا ہو جو اس کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہو۔
اس فلسطینی عہدیدار نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ قابض فلسطینی بچوں کے خلاف جو کچھ کررہے ہیں اس سے انہیں سلامتی اور امن حاصل نہیں ہوگا بلکہ ان جرائم سے صیہونی دراصل ان فلسطینی بچوں کے دلوں میں نفرت اور نفرت کے بیج بو رہے ہیں۔
درایں اثنا فلسطینی اتھارٹی کے وزیر خارجہ ریاض المالکی نے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے برائے امور اطفال کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ اس سال کے آغاز سے لے کر اب تک صیہونی حکومت نے 52 فلسطینی بچوں کو شہید کیا ہے جن میں سے بعض کو صیہونی فوج براہ راست گولیوں سے شہید کیا گیا ہے، کچھ کو صیہونی آبادکاروں کے حملوں میں اور کچھ طبی خدمات سے محرومی کی وجہ سے بھی مر چکے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ فلسطینیوں کے ذہنوں اسرائیل کی قابض فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والے ہزاروں بچوں کے نام موجود ہیں جن میں ہم شیر خوار "ایمان حجو” کا ذکر کر سکتے ہیں جو 2001 میں خان یونس کے علاقے میں صیہونی حکومت کے ٹینکوں کی گولہ باری میں شہید ہو گیا تھا، یا "محمد الدرہ” کا ذکر کیا جا سکتا ہے جسے 2000 میں اپنے والد کے پیچھے پناہ لینے کے دوران صیہونی فوج نے گولی مار دی تھی، فلسطینیوں کو صیہونی آباد کاروں کے جرائم آج بھی یاد ہیں جن میں یروشلم میں شہید بچے ” محمد ابوخدیر ” کو جلانے اور قتل کرنے کا جرم ، نابلس کے جنوب میں "دوما” گاؤں میں "دوابشہ” خاندان کو ان کے گھر کے اندر جلانا بھی شامل ہے۔


مشہور خبریں۔
صہیونی فوج نے شیرین ابو عاقلہ کے قتل پر معافی مانگی
?️ 12 مئی 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کے ترجمان نے CNN کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا
مئی
وزیراعظم کے دورہ روس سے ہم تاریخ کا اہم باب بن گئے ہیں: فواد چوہدری
?️ 24 فروری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ
فروری
غزہ میں صدی کے جرائم کی ذمہ داری عرب ممالک پر: انصار اللہ
?️ 9 مئی 2025سچ خبریں: یمن کے انصار اللہ تحریک کے رہنما سید عبدالملک بدرالدین
مئی
وزیراعظم آفس کے اسٹاف کا بھی کورونا ٹیسٹ مکمل کر لیا گیا
?️ 22 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں) کورونا ویکسین لگنے کے دو دن بعد ہی وزیراعظم
مارچ
غزہ جنگ کے بعد عرب دنیا میں کس ملک کی مقبولیت بڑھی ہے، کس کی کم ہوئی ہے؟
?️ 9 اپریل 2024سچ خبریں: اردن میں ہونے والے ایک نئے سروے سے معلوم ہوا
اپریل
سعودی عرب کی جنوبی یمن کے تمام دھڑوں کو ریاض کانفرنس میں شرکت کی دعوت
?️ 4 جنوری 2026 سعودی عرب کی جنوبی یمن کے تمام دھڑوں کو ریاض کانفرنس
عمران خان مقدمہ درج نہیں کروا سکتے تو پنجاب حکومت سے استعفیٰ دے کر گھر جائیں، قمر زمان کائرہ
?️ 7 نومبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم کے مشیر برائے کشمیر و گلگت بلتستان
نومبر
سیلاب سے تباہی کی وجہ سے سندھ بھر کو آفت زدہ قرار دینا ہوگا، وزیر اعلیٰ سندھ
?️ 21 اگست 2022 سانگھڑ: (سچ خبریں)وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے
اگست