?️
سچ خبریں:مسیار شادی کی ایک قسم ہے جو ازدواجی فرائض کی پاسداری کے بغیر انجام دی جاتی ہے اور عام طور پر چھپ کر کی جاتی ہے ،اس کا سعودی عرب رجحان تیزی سے بڑھ رہاہے۔
مسیار شادی جو سعودی عرب میں قانونی ہے اور کئی دہائیوں سے سعودی عرب اور کچھ دوسرے خلیجی ممالک کے مسلمانوں میں مقبول رہی ہے ، ایک ایسی شادی ہے جس میں مرد اور عورت مستقل طور پر ایک ہی چھت کے نیچے نہیں رہتے ہیں اور نہ ہی مرد پر خواتین کے لئے جگہ اور کھانا پینا مہیا کرنے کی کوئی ذمہ داری ہے تاکہ اس کے باوجود ان کے درمیان جنسی تعلقات ہوتے ہیں۔
اس سلسلے میں فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی ایک رپورٹ تیار کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب میں اس طرح کی شادی کم آمدنی والے مردوں میں بہت مشہور ہے ،تاہم اس بہت زیادہ تنقید بھی کیا جاتی ہےیہاں تک کہ کچھ علما بھی اس طرح کے تعلقات کو مرد اور عورت کے مابین شرعی نکاح کے فریم ورک سے باہر سمجھتے ہیں اور اسے حرام سمجھتے ہیں،تاہم اس قسم کا رشتہ کچھ غیر شادی شدہ خواتین اور مردوں میں بہت مشہور ہے جو اپنے جنسی تعلقات کےلیےمذہبی کور ڈھونڈنا چاہتے ہیں۔
ایک 40 سالہ سعودی ملازم جو 30 سال کی بیوہ سے دو سال سے زیادہ عرصے سے اس طرح کے رشتے میں منسلک ہے ، نے اے ایف پی کو بتایا کہ مسیار مرد اور عورت کے مابین ایک پرسکون،آزاد اور قانونی شراکت کے امکان کو مہیا کرتا ہے، وہ ، جو شادی شدہ ہیں اور تین بچوں کا باپ ہیں ، کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ وہ جب بھی چاہتا ہیں ریاض میں اپنے دوسری بیوی سے ملنے جاتے ہیں۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ میرے نئے دوست کی مسیار شادی کے ذریعے 11 خفیہ بیویاں ہیں،وہ مسلسل ایک کو طلاق دے کر دوسری سے شادی کررہا ہے۔،سعودی عرب میں مقیم سعودی اور غیر ملکی اکثراس طرح کی شادی کرنے کے لئے ڈیٹنگ سائٹوں اور ایپس کا استعمال کرتے ہیں۔
ریاض میں ایک 40 سالہ مصری فارماسسٹ نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ شادی بہت سستی ہے،اس میں نہ مہر دینا پڑتا ہے اور نہ ہی خرچے کی کوئی ذمہ داری ہے ،انھوں نے کہا کہ جب سے کورونا شروع ہوا ہے میں نے اپنی اہلیہ اور پانچ سالہ بیٹے کو قاہرہ بھیج دیا اور خود سعودی عرب میں زندگی گزارنے کے لیے اس طرح کی شادی کی تلاش کرنا شروع کر دی ۔
انھوں نے کہا کہ میں بہت سارے ایسے لوگوں سے رابطہ کیا ہے جو اس طرح کے کام کرواتے ہیں اور اس کے بدلہ میں 5 ہزار ریال (ایک ہزار یورو سے زیادہ) وصول کرتے ہیںمتاہم ابھی تک مجھے کوئی ملا نہیں۔
واضح رہے کہ سعود عرب کے مقامی اخبار الوطن کی ایک رپورٹ کے مطابق 2018 میں سعودی وزارت انصاف نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس طرح کی شادیاں اکثر وقتی طور پر ہوتی ہیں اور ان میں سے زیادہ تر 14 سے 60 دن کی مدت کے بعد ختم ہوجاتی ہیں۔


مشہور خبریں۔
رضوان کی شاندار سنچری کی بدولت افریقہ کو ملا 370 رنز کا ہدف
?️ 7 فروری 2021راولپنڈی {سچ خبریں} پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلے جارہے دوسرے
فروری
سوشل میڈیا پرگمراہ کن پروپیگنڈا ، مسافروں کو بغیروجہ آف لوڈ نہیں کیا جاتا ، ایف آئی اے
?️ 27 نومبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے
نومبر
شام کے بحران کو سبوتاژ کرنے کے ذمہ دار مغربی ممالک ہیں:شام
?️ 24 نومبر 2021سچ خبریں:شام کے وزیر خارجہ فیصل المقداد نے منگل کی رات کہا
نومبر
سعودی حکام خانۂ خدا کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
?️ 9 جون 2024سچ خبریں: یمن کی تحریک انصاراللہ کے سربراہ نے حج کے معاملے
جون
ایس سی او اجلاس: ضلعی انتظامیہ کو اسلام آباد میں فول پروف سیکیورٹی یقینی بنانے کا حکم
?️ 14 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے موقع پر ضلعی
اکتوبر
جنگ بندی کے بعد غزہ کی پٹی میں جاسوسوں کو پھنسانے کے لیے وسیع مزاحمتی کارروائیاں
?️ 14 اکتوبر 2025سچ خبریں: غزہ کی پٹی کے سیکورٹی ذرائع نے اعلان کیا کہ
اکتوبر
نیب نے بیڑا غرق کر دیا، سیاسی انتقام کو چھوڑ کر بھی کوئی پرسان حال نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ
?️ 9 ستمبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس محسن اختر کیانی
ستمبر
اولمپکس میں بچوں کو مارنے والی حکومت کی موجودگی کی کیا وجہ ہے؟
?️ 25 جولائی 2024سچ خبریں: فلسطین میں صیہونی حکومت کے جرائم کے حوالے سے دوہرا معیار
جولائی