دوحہ آپریشن کی ناکامی کا ذمہ دار موساد یا اسرائیلی فضائیہ؟

فضائیہ

?️

دوحہ آپریشن کی ناکامی کا ذمہ دار موساد یا اسرائیلی فضائیہ؟
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے اسرائیلی فضائی حملہ ناکام ہونے کے بعد صہیونی اداروں کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ بعض ماہرین اس ناکامی کو فضائیہ کی تاخیر اور آپریشنل کمزوری قرار دیتے ہیں، جبکہ دیگر کے نزدیک یہ ناکامی موساد کی خفیاتی غلطی کا نتیجہ ہے۔
ذرائع کے مطابق اسرائیل نے 18 ستمبر کو یوم الحساب نامی کارروائی کے تحت حماس کے سیاسی دفتر کو نشانہ بنایا۔ اس سے ایک دن قبل اسرائیلی حکام نے امریکی امن منصوبے پر رضامندی ظاہر کر کے حماس کو اجلاس میں شریک ہونے پر آمادہ کیا۔ تاہم حملے کے وقت تنظیم کی اعلیٰ قیادت محفوظ رہی اور صرف دفتر کے کچھ معاونین اور خلیل الحیہ کے بیٹے و سیکریٹری مارے گئے۔
قطری روزنامہ الشرق نے رپورٹ دی کہ اجلاس کے دوران رہنماؤں نے نماز عصر کے لیے باہر نکلنے پر اپنی موبائل فونز دفتر میں ہی چھوڑ دیے تھے۔ اسرائیلی میزائل انہی موبائل سگنلز پر لاک تھے اور دفتر کو نشانہ بنایا گیا، یوں رہنما محفوظ رہے۔ اس وضاحت کے مطابق، ناکامی کی ذمہ دار اسرائیلی فضائیہ ہے جس نے بروقت حملہ نہیں کیا۔
دوسری جانب سعودی اخبار الشرق الاوسط نے دعویٰ کیا کہ اصل میں حماس کے رہنما اس دفتر میں موجود ہی نہیں تھے بلکہ وہ سابق صدر دفتر اسماعیل ہنیہ کے مقام پر اجلاس کر رہے تھے۔ یہ دعویٰ موساد کی سنگین خفیاتی غلطی کی نشاندہی کرتا ہے۔
کچھ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ امریکہ نے قطر کو اس کارروائی کی پیشگی اطلاع دے دی تھی، لیکن دوحہ کے حکام نے اس امکان کو یکسر مسترد کر دیا۔ مبصرین کے مطابق اسرائیل کا مقصد ممکنہ طور پر حماس کو دھمکی دینا تھا، مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس پیغام کے لیے قطر جیسی امریکی اتحادی ریاست پر براہِ راست حملہ کرنا ناگزیر تھا؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مہنگی مگر بے فائدہ کارروائی اسرائیل کی ان مسلسل ناکام کوششوں میں شامل ہو گئی ہے جو حالیہ برسوں میں خطے میں دیکھنے کو ملی ہیں۔ رواں سال ایران کے اعلیٰ حکام پر ناکام قاتلانہ حملہ اور یمن کے وزراء کو نشانہ بنانے میں بھی اسرائیل اپنے اصل مقاصد حاصل نہیں کر پایا۔
مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ تمام ناکامیاں موساد اور اسرائیلی فوجی انٹیلی جنس کے درمیان پرانے اختلافات کا نتیجہ ہیں، جو اب کھلے عام صہیونی اداروں کے لیے ایک دردِ سر بن چکے ہیں۔

مشہور خبریں۔

تین صیہونی فوجیوں کو ہلاک کرنے والا مجاہد کون تھا؟

?️ 9 ستمبر 2024سچ خبریں: خبری ذرائع نے اردن اور مقبوضہ فلسطین کے درمیان سرحدی

فلسطینی مزاحمتی تحریک کی صیہونی جیلوں میں قید مجاہدین کے آزادی سے متعلق حکمت عملی

?️ 5 جولائی 2021فلسطین سے باہر حماس اسلامی مزاحمتی تحریک کے سربراہ نے کہاکہ صیہونی

ایران کے ہاتھوں یونانی ٹینکرز کا پکڑے جانے پر امریکی ردعمل

?️ 30 مئی 2022سچ خبریں:امریکی بحریہ نے کہا کہ وہ خلیج فارس میں دو یونانی

پی ٹی آئی اراکین مشترکہ طور پر قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفیٰ

?️ 11 اپریل 2022اسلام آباد(سچ خبریں)سابق وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی

امریکہ کی ایران کے خلاف ایک بار پھر الزامات کی بوچھار

?️ 16 فروری 2021سچ خبریں:اسکائی نیوز عربی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے پینٹاگون کے ترجمان

سائفر کیس: چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے ٹیلیفونک گفتگو کرانے کی درخواست پر رپورٹ طلب

?️ 5 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کے تحت خصوصی عدالت

مہنگائی کی شرح کم نہ کی تو روپے کی قدر میں اور کمی ہو گی: مشیر خزانہ

?️ 4 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) مشیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ

اسرائیل کی معیشت کو حزب اللہ کا جھٹکا

?️ 24 جنوری 2024سچ خبریں:لبنان کی اسلامی مزاحمت، جس نے غزہ کے عوام کی مدد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے