?️
سچ خبریں:لبنان کی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے شہید رہنماؤں کی برسی کے موقع پر کہا ہے کہ ان کی جماعت جنگ کی خواہاں نہیں ہے لیکن کسی بھی جارحیت کے خلاف دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
انہوں نے علاقائی صورت حال، صیہونی مظالم اور لبنان کی داخلی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔
(بیروت) حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے شہید رہنماؤں سید عباس الموسوی، شیخ راغب حرب اور عظیم مجاہد کمانڈر حاج عماد مغنیہ کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حاج عماد مغنیہ جہادی تحریک کے بنیادی ستونوں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے ابتدا ہی سے اس راستے کی تشکیل اور ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہید مغنیہ 2000 اور 2006 کی دو عظیم فتوحات کے معمار تھے۔ وہ ایک تخلیقی، اختراعی اور باکمال کمانڈر تھے جنہوں نے ایسی پائیدار بنیادیں استوار کیں جن کے ثمرات آج بھی ہم حاصل کر رہے ہیں۔
شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ یہ تینوں عظیم شہید، سید عباس الموسوی، شیخ راغب حرب اور حاج عماد مغنیہ، عملی طور پر امام خمینی (قدس سرہ) کے اس فرمان کے پیروکار تھے کہ ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے، وہ عاشورا سے ہے۔
امریکہ غزہ کی نسل کشی کا ذمہ دار
سیکریٹری جنرل حزب اللہ نے اپنے خطاب میں امریکہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ وہ ملک ہے جو غزہ میں کارروائیوں، الحاق، قبضے، قتل عام اور نسل کشی کا انتظام اور رہنمائی کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ آج فلسطین میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔
صیونیستوں کی بدعهدی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگر صیہونی حکومت کسی معاہدے پر راضی بھی ہو جائے تو وہ اسے صرف کاغذی اقرار تک محدود رکھے گی اور اس پر کبھی عمل نہیں کرے گی۔ اس کی واضح مثالیں ہمارے سامنے ہیں، اوسلو سے لے کر میڈرڈ تک کے معاہدے۔
نسل کشی کے خلاف مزاحمت ہی واحد راستہ
شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ صیہونی حکومت لبنان کی خودمختاری کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے شہریوں کے قتل، اغواء اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر رہی ہے۔ انہوں نے ان کارروائیوں کو نسل کشی اور انسانی زندگی کے خاتمے کی واضح علامت قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس دشمن کے مقابلے میں جو زندگی کی بنیادوں کو تباہ کرنا چاہتا ہے، ہماری عظیم اور مجاہد قوم نے ایمان اور شہادت کی روح پر بھروسہ کرتے ہوئے مزاحمت کا راستہ چنا ہے۔
2024 معاہدہ اور صیہونی بددیانتی
سیکریٹری جنرل حزب اللہ نے کہا کہ 2024 کا معاہدہ، جو جارحیت کے خاتمے، مقبوضہ علاقوں سے پسپائی اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے تھا، لبنان کی حکومت نے اسے مکمل طور پر نافذ کیا، لیکن مقبوضہ حکومت نے اپنے عہد شکنی کے کلچر کے تحت اس پر عملدرآمد سے انکار کر دیا۔ انہوں نے اس معاہدے کو عالمی برادری میں لبنان کے حق اور دشمن کے جارحانہ کردار کو بے نقاب کرنے والا اہم موڑ قرار دیا۔
ہم جنگ کے خواہاں نہیں، مگر تسلیم نہیں ہوں گے
شیخ نعیم قاسم نے لبنانی حکومت کی طرف سے مزاحمت کے تخفیف اسلحہ پر غیر ضروری زور دینے کو ایک بہت بڑی غلطی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ نقطہ نظر عملی طور پر صیہونی حکومت کے جارحانہ عزائم کی تکمیل کرتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ آزادی، وطن کے تحفظ، قومی یکجہتی اور داخلی تعاون کے اہداف پر توجہ مرکوز کرے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہم حزب اللہ میں جنگ کے خواہاں نہیں ہیں اور نہ ہی ہم نے اس کی تلاش کی ہے، لیکن ہم کبھی تسلیم نہیں کریں گے اور دفاع کے لیے ہر لمحہ تیار ہیں۔ دفاع اور پہلے سے منصوبہ بند جنگ چھیڑنے میں بنیادی فرق ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر تسلیم شدگی ہی مقصود ہے تو آئین میں ترمیم کر لی جائے، کیونکہ موجودہ آئین لبنانی سرزمین کی آزادی کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے پر زور دیتا ہے۔
یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی
سیکریٹری جنرل حزب اللہ نے بعض گروہوں کی طرف سے سیاسی مفادات کی خاطر فتنہ پردازی پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ انتہائی ذلت کی بات یہ ہے کہ بعض لوگ عوام کو فوج کے خلاف اور مزاحمت کے خلاف اکسانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہم قومی یکجہتی، مکمل خودمختاری اور آزادی کے خواہاں ہیں۔ ہر قسم کے فتنے کے مخالف ہیں اور قومی سلامتی کی حکمت عملی کی حمایت کرتے ہیں۔
شیخ نعیم قاسم نے صبر کی دو وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ پہلی یہ کہ حکومت اپنی ذمہ داریاں ادا کرے، اور دوسری اس حساس مرحلے میں معاشرے اور ملک سے محبت کا تقاضا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال مزید قائم نہیں رہ سکتی، لیکن یہ کہ تبدیلی کب، کیسے اور کن حالات میں آئے گی، اس کا فیصلہ خود واقعات کریں گے۔
امام خامنہای کی قیادت میں ایران سربلند ہے
سیکریٹری جنرل حزب اللہ نے ایران کی قیادت اور عوام کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ امام خامنہای کی قیادت میں ایران اپنے باوقار اور مجاہد عوام کے ساتھ ایک درخشاں اور سربلند ملک ہے۔
انہوں نے دشمنوں کے دباؤ کے مقابلے میں ایرانی قوم کی مزاحمت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے کامیابی سے استقامت کا مظاہرہ کیا ہے اور خدا کے فضل سے ہمیشہ مزاحمت کرتا رہے گا۔ ایران اپنی صلاحیتوں کی بنا پر ہمیشہ فتح یاب رہے گا اور اس کا شکست کھانا ممکن نہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بالیقین ایران خطے پر اثر انداز ہو گا، جس طرح غزہ اور لبنان نے خطے پر اثر ڈالا ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
غزہ میںڈاکٹروں کی بین الاقوامی تنظیم پر پابندی کے اثرات
?️ 2 فروری 2026سچ خبریں:ڈاکٹروں کی بین الاقوامی تنظیم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے خبردار کیا
فروری
جس قوم کے رول ماڈل دانشور ہوتے ہیں وہ قوم ترقی کرتی ہے
?️ 4 نومبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جب
نومبر
دریاؤں کے بہاؤ میں بہتری، ارسا نے خریف کے پانی کی تقسیم کیلئے مشاورتی اجلاس طلب کرلیا
?️ 2 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے پانی کی
مئی
جسٹس بابر ستار نے فل کورٹ اجلاس سے قبل چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے خلاف چارج شیٹ پیش کردی
?️ 3 ستمبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے
ستمبر
توہین مذہب اور سائبر کرائم کے الزام میں ملزم کو سزائے موت اور عمر قید کی سزا
?️ 13 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے گجر خان
اکتوبر
فلسطین سے غداری کے سائے میں یاسر ابوشباب کا انجام
?️ 7 دسمبر 2025سچ خبریں: عبرانی ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ یاسر ابوشباب، جو غزہ
دسمبر
اسرائیل کا ایران پر حملہ تل ابیب کی وحشی گری کی کھلی علامت ہے:الازہر
?️ 15 جون 2025 سچ خبریں:جامعہ الازہر مصر نے اسرائیل کے ایران پر حملے کو
جون
سینئر اداکارہ ثمینہ احمد ہالی ووڈ میں انٹری کے لئے تیار
?️ 8 اپریل 2021لاہور(سچ خبریں) پاکستان کی سینئر اداکارہ ثمینہ احمد ہالی وڈ میں انٹری
اپریل