جنوبی افریقہ کے خلاف امریکی بائیکاٹ: غزہ مقدمے کا سیاسی انتقام؟

جنوبی افریقہ

?️

جنوبی افریقہ کے خلاف امریکی بائیکاٹ: غزہ مقدمے کا سیاسی انتقام؟

 تازہ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے جنوبی افریقہ میں ہونے والے جی 20 اجلاس کا بائیکاٹ انسانی حقوق کے دفاع کا معاملہ نہیں بلکہ سیاسی، جغرافیائی اور انتخابی محرکات کا نتیجہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق واشنگٹن نے اس بائیکاٹ کو جنوبی افریقہ میں سفید فام آبادی کے خلاف مبینہ "نسل کشی” کے دعوے سے جوڑنے کی کوشش کی، حالانکہ کسی بھی بین الاقوامی ادارے نے ایسی کسی پالیسی یا کارروائی کی موجودگی کی تصدیق نہیں کی۔

تجزیہ میں بتایا گیا کہ جنوبی افریقہ میں زمین کی ملکیت کی تاریخی ناہمواری، جو دورِ آپارتھائیڈ سے چلی آرہی ہے، اصلاحات کا بنیادی محرک ہے، اور یہ اقدام کسی نسلی گروہ کو نشانہ بنانے سے متعلق نہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق صرف 7 فیصد سفید فام آبادی اب بھی 70 فیصد زرعی زمین کی مالک ہے، جس نے اصلاحات کو قومی ضرورت بنا دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ کی ناراضی کی بڑی وجہ جنوبی افریقہ کا حالیہ عالمی کردار ہے، خصوصاً بریکس کی توسیع میں اس کا نمایاں حصہ اور ڈالر سے انحصار کم کرنے کی کوششیں۔ واشنگٹن اس تبدیلی کو اپنی عالمی اثر و رسوخ کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔

اس کے علاوہ لابیِ صہیونیت کا دباؤ بھی اس پالیسی میں اہم عنصر قرار دیا گیا ہے۔ جنوبی افریقہ نے غزہ میں کارروائیوں پر اسرائیلی حکام کے خلاف نسل کشی کا مقدمہ عالمی عدالتِ انصاف میں دائر کیا، جس کے بعد امریکہ نے سفارتی ردعمل تیز کیا اور اب بائیکاٹ کو دباؤ بڑھانے کے ایک طریقے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

رپورٹ میں یہ پہلو بھی نمایاں ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت موقف کے پیچھے امریکہ کی اندرونی سیاست اور ان کے سفید فام قوم پرست ووٹرز کی ترجیحات بھی شامل ہیں۔ سفید فام برتری کے بیانیے کو تقویت دینا اور مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہوئے جنوبی افریقہ کی زمین اصلاحات کو "سفید فام مخالف تشدد” کے طور پر پیش کرنا اسی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

اسلام ٹائمز کے مطابق جی 20 اجلاس کا بائیکاٹ دراصل ایک ایسا سیاسی پیغام ہے جو انسانی حقوق سے زیادہ عالمی طاقت کی کشمکش، اسرائیل سے وابستہ مفادات اور امریکی انتخابی سیاست کا عکس ہے، جبکہ جنوبی افریقہ پر لگائے گئے الزامات حقیقت کے قریب بھی نہیں۔

مشہور خبریں۔

سعودی اتحاد یمنی بچوں کے ساتھ بدسلوکی کرتا ہے اور انہیں میدان جنگ میں بھیجتا ہے

?️ 14 اکتوبر 2021سچ خبریں:  صوبہ معرب کے شہر صراوا کے بڑے علاقوں کی آزادی

منصور ہادی کی حکومت کے دو اعلیٰ عہدیداروں نے یمنی جنگ کو بے فائدہ قرار دیا

?️ 1 دسمبر 2021سچ خبریں:  مشاورتی کونسل کے چیئرمین احمد عبید بن دغر اور مستعفی

ملیشیا کے وزیر اعظم کا یحییٰ السنوار کی شہادت پر حیرت انگیز بیان

?️ 20 اکتوبر 2024سچ خبریں: ملیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے حماس کے سیاسی

غزہ میں عام سوگ

?️ 20 نومبر 2022سچ خبریں:فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ اور فلسطینی گروپوں نے غزہ میں ایک

رافال جنگندے کا گرنا بھارتی فضائیہ پر تاریخی ضرب

?️ 10 مئی 2025سچ خبریں: پاکستانی حکومت نے سماجی میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر

پنجاب حکومت کا اسموگ سے نمٹنے کیلئے منصوبہ ترتیب

?️ 10 مارچ 2024لاہور: (سچ خبریں) پنجاب کی نئی حکومت نے صوبے کو اسموگ سے

عرب ممالک صہیونی ہتھیاروں کے سب سے بڑےخریدار

?️ 14 جون 2023سچ خبریں:اسرائیلی حکام نے اعلان کیا کہ 2022 میں اس حکومت کی

کشمیری نوجوانوں کو حق خود ارادیت کا مطالبہ کرنے پر بے رحمی سے شہید کیا جارہا ہے

?️ 16 مارچ 2021سرینگر (سچ خبریں) مقبوضہ کشمیر میں آئے دن بھارتی دہشت گرد فوج

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے