جنرل سلیمانی کے قتل میں جرمن حکومت کا کردار

سلیمانی

?️

سچ خبریں:جنرل شہید سلیمانی کو قتل کرنے کے لیے امریکی دہشت گرد حکومت کا جرمنی کے شہر رامسٹین میں اپنے ایئربیس کا استعمال ایک ایسا مسئلہ ہے جسے کورونا وبا کے پھیلاؤ کی وجہ سے نظر انداز کیا گیا ہے اور اس پر توجہ نہیں دی گئی۔

جنرل شہید سلیمانی کو قتل کرنے کے لیے امریکی دہشت گرد حکومت کا جرمنی کے رامسٹین شہر میں اپنے ایئربیس کا استعمال ایک ایسا مسئلہ ہے جسے کورونا وبا کے پھیلاؤ کی وجہ سے نظر انداز کیا گیا ہے اور اس پر لازمی توجہ نہیں دی گئی، یہ اس حقیقت کے باوجود ہے کہ خود جرمنی میں بھی اس مسئلے نے بعض حلقوں اور افراد کی توجہ مبذول کرائی ہے اور اس ملک کے عدالتی نظام میں امریکی حکومت کی دہشت گردی کی کاروائیوں کے لیے خدمات فراہم کرنے والے رامسٹین بیس کے حوالے سے 4 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ان 4 کیسز میں سے دو کیس جنرل شہید سلیمانی کے بزدلانہ قتل سے متعلق ہیں اور دیگر دو کیسز رامسٹین بیس کو استعمال کرتے ہوئے یمن پر ڈرون حملوں جن میں ایک صومالی اور ایک دوسرے شخص کی ہلاکت ہوئی، سے متعلق ہیں۔

واضح رہے کہ جنرل شہید سلیمانی کے قتل سے متعلق مقدمے میں ایک طرف بائیں بازو کی جماعت کے 8 ارکان اور دوسری جانب جرمنی کی ایک امن پسند شخصیت نے جرمن حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کر رکھا ہے، جرمن بائیں بازو کی پارٹی کے نمائندوں کی درخواست میں درج ذیل چیزیں شامل ہیں: رامسٹین میں امریکی فضائی اڈے کا دہشت گردی کی کارروائی میں استعمال؛ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے جرمنی کی ذمہ داری اور فرض کو نظر انداز کرنا؛ ایک سینئر ایرانی فوجی اور ان کے ساتھیوں کو قتل کرنے میں مدد کرنا ، آخر کار جرمن حکومت کی مجرمانہ ذمہ داری فوجداری قانون کے سیکشن 8 اور 13 اور سیکشن 27 اور 13 اور جرمن بین الاقوامی قانون کے خلاف جرائم کے قانون کی خلاف ورزی ہے۔

یہ کہنا ضروری ہے کہ ڈرون کاروائیوں کے لیے رامسٹین میں امریکی ایئربیس کا کردار بہت اہم ہے، کیونکہ عراق سمیت مشرق وسطیٰ میں براہ راست حملے یا ڈرون آپریشنز زمین کے نشیب و فراز کی وجہ سے امریکی سرزمین سے براہ راست نہیں کیے جا سکتے،شہید سلیمانی کے قتل سے متعلق کاروائی کی ہدایت عراق یا پڑوسی ممالک سے نہیں کی گئی تھی، اگرچہ ڈرونز کی پروازیں عراق یا پڑوسی ممالک کی سرزمین سے ہو سکتی ہیں لیکن اس آپریشن سے متعلق معلومات اور احکامات رامسٹین بیس سے سیٹلائٹ اور ریلے کے ذریعے تشکیل دیے گئے ۔

واضح رہے کہ اگر رامسٹین بیس اس آپریشن میں شامل نہ ہوتا تو امریکہ اسے مکمل نہیں کر پاتا، جنرل سلیمانی کے قتل میں ملوث ڈرونز کو رامسٹین بیس کے ذریعے امریکہ سے آرڈرز بھیجے گئے اور ڈرونز نے اسی بیس کے ذریعے ضروری معلومات امریکہ میں کمانڈ کو منتقل کیں، انکشاف کردہ معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت دنیا میں دو مراکز ہیں جن کے استعمال سے امریکہ دنیا میں ڈرون آپریشن کر سکتا ہے اور ان کے بغیر وہ ایسی کاروائیاں نہیں کر سکتا، ان میں سے ایک اڈہ جرمنی میں رامسٹین اور دوسرا امریکہ کے نیواڈا کے ایک چھوٹے سے قصبے میں کرچ بیس ہے۔ کریچ اور پینٹاگون کے اڈے آپٹیکل فائبر کے ذریعے رامسٹین بیس سے منسلک ہوتے ہیں اور ہر آپریشن کے دوران UAV کنٹرولر اپنا پاس ورڈ درج کرکے ریمسٹین ایئر بیس کے آپریشن سینٹر سسٹم میں داخل ہوتا ہے اور ڈرون کو ہدایت کرتا ہے۔

مشہور خبریں۔

کابل میں بدامنی میں کسی کا ساتھ دینے کے لئے تیار نہیں ہیں: غلام سرور

?️ 31 جولائی 2021راولپنڈی (سچ خبریں)  وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا ہے

مدارس کی رجسٹریشن میں حکومت خود سب سے بڑی رکاوٹ ہے، مولانا فضل الرحمٰن

?️ 17 دسمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل

وزیراعظم عمران خان کی  اپنی رہائش گاہ پر  میڈیا ٹیم سے ملاقات

?️ 25 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے قرنطینہ میں ہیں انہوں نے

ایرانی تارپیڈو میں دشمن کے جہازوں کے ڈھانچے کو تباہ کعرنے کی صلاحیت

?️ 19 جون 2022سچ خبریں:   ایک ایرانی عسکری تجزیاتی ویب سائٹ نے خلیج فارس اور

شامی بحران کی اصلی وجہ کیا ہے؟

?️ 25 جولائی 2023سچ خبریں: اقوام متحدہ میں روس کے نائب مستقل نمائندے نے غیر

امریکہ نے ایران اور غزہ جنگ کے بارے میں چین سے کیا کہا؟

?️ 28 اکتوبر 2023سچ خبریں: امریکہ نے چین سے کہا کہ وہ ایران اور مغربی

پی ٹی آئی کے 24 نومبر کے احتجاج کا حتمی فیصلہ کل متوقع ہے، فواد چوہدری

?️ 20 نومبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا ہے

اسرائیلی فوج کے ہاتھوں متعدد فلسطینی گرفتار

?️ 14 فروری 2021سچ خبریں:اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے کچھ حصوں پر چھاپہ مارا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے