?️
تیونس میں جمہوریت کی بحالی، امریکہ قیس سعید سے کیا چاہتا ہے؟
حالیہ دنوں میں امریکی حکام کے دورہ تیونس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی کانگریس میں ایک متنازع بل تیونس میں جمہوریت کی بحالی کے عنوان سے پیش کیا گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ بل تیونس اور اس کے صدر قیس سعید کے لیے سنگین چیلنجز لا سکتا ہے۔
تحلیل نگار صالح عطیہ کے مطابق، یہ مسودہ جمہوری اور عدالتی کمیٹیوں میں بحث کے بعد سینیٹ اور پھر امریکی صدر کے دستخط کے لیے بھیجا جائے گا۔ اس بل میں قیس سعید کی حکومت پر آمریت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس کے تحت ۲۰۱۴ کے آئین کے مطابق نئے انتخابات کا مطالبہ کیا گیا ہے، جسے سعید نے معطل کر کے اپنی مرضی کا آئین نافذ کیا تھا۔
اگر یہ بل منظور ہو گیا تو تیونس پر چار برس کے لیے سخت پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں، جن میں فوج اور متعلقہ اداروں کے لیے امریکی امداد کی بندش،امریکہ میں موجود تیونسی اثاثوں کی ضبطی،تیونس کے اعلیٰ حکام پر امریکی ویزا کی پابندی شامل ہے۔مبصرین کے مطابق یہ اقدامات یورپی ممالک کو بھی اسی راستے پر ڈال سکتے ہیں، جو تیونس-امریکہ تعلقات پر گہرا اثر ڈالیں گے۔
گزشتہ ہفتوں میں تیونس اور امریکہ کے تعلقات میں کئی اہم واقعات پیش آئے۔ امریکی صدر کے مشیر مسعد بولوس نے جولائی میں تیونس کا دورہ کیا اور سعید سے جمہوریت کی بحالی اور نوجوانوں کو اقتدار میں کردار دینے کا مطالبہ کیا۔ لیکن سعید نے اس مطالبے کو سخت لہجے میں رد کرتے ہوئے کہا کہ تیونس اپنی خارجہ پالیسی نئی عالمی شراکت داری ایران، روس اور چین کی بنیاد پر تشکیل دے رہا ہے۔
بولوس کی موجودگی میں سعید نے غزہ میں فلسطینی بچوں کے قتل عام کی تصاویر دکھا کر امریکہ کے انسانی حقوق کے دعووں پر سوال اٹھایا۔ اس ردعمل نے واشنگٹن کو برہم کر دیا۔
کچھ روز بعد اطالوی وزیراعظم جورجیا میلونی نے بھی سعید کو سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ امریکی خدشات کو نظرانداز نہ کریں۔ تاہم سعید کی حتمی پوزیشن منظر عام پر نہیں آئی۔
۲۸ اگست کو امریکی کانگریس کا ایک وفد تیونس پہنچا، بظاہر باہمی سرمایہ کاری پر بات کرنے کے لیے۔ لیکن ماہرین کے مطابق اصل مقصد تیونس پر دباؤ ڈالنا اور ممکنہ پابندیوں سے بچنے کے لیے قائل کرنا تھا۔ سعید نے وفد سے ملاقات سے انکار کر دیا اور الجزائر میں ایک کانفرنس کے دوران امریکہ کو بالواسطہ پیغام دیا کہ تیونس اپنی دولت اور خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
عطیہ کے مطابق امریکہ ایک طرف تیونس پر انسانی حقوق اور جمہوریت کے حوالے سے دباؤ ڈال رہا ہے اور دوسری طرف غزہ میں اسرائیل کی کھلی حمایت کر رہا ہے۔ یہی تضاد امریکی ساکھ کو تونسی عوام کے نزدیک کمزور بنا رہا ہے۔
اس کے باوجود واشنگٹن نے تعلقات ختم کرنے کے بجائے نئے امریکی سفیر کی تقرری کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ انسداد دہشت گردی اور دفاعی تعاون جیسے معاملات جاری رہ سکیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورت حال ۲۰۰۹ کی یاد دلاتی ہے جب امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے صدر زین العابدین بن علی پر سیاسی اصلاحات کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔ بن علی نے انکار کیا اور بالآخر انقلاب یاسمین کے ذریعے اقتدار سے ہٹایا گیا۔اب سوال یہ ہے کہ کیا قیس سعید پر امریکی دباؤ بھی تیونس میں ایک نئے سیاسی دھماکے کا پیش خیمہ ثابت ہوگا یا نہیں؟
فی الحال تیونس کے پاس محدود راستے ہیں۔ اگر قیس سعید اپنے سخت مؤقف پر قائم رہے تو ملک مزید بحران اور غیر یقینی صورت حال کا شکار ہو سکتا ہے۔ مبصرین کے مطابق، تیونس کے سیاسی مستقبل کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا ملک دوبارہ جمہوری عمل کی طرف لوٹتا ہے یا موجودہ بحران مزید گہرا ہوتا ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
سعودی عرب کی مصر اور اردن کے ساتھ فوجی مشقیں
?️ 10 جنوری 2022سچ خبریں: سعودی وزارت دفاع نے اعلان کیا کہ مصری اور اردنی
جنوری
ٹرمپ کا بھاری درآمدی ٹیکسز کا اعلان: گاڑیوں پر 25% محصول عائد
?️ 4 اپریل 2025 سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تمام غیر ملکی درآمدی گاڑیوں
اپریل
ایرانی ایٹمی معاہدے سے نکلنا ہماری سب سے بڑی غلطی تھی:امریکہ
?️ 8 دسمبر 2021سچ خبریں:وال سٹریٹ جرنل کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے
دسمبر
2 ججز بینچ سے علیحدہ، 7 رکنی بینچ نے سماعت کا دوبارہ آغاز کردیا
?️ 22 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) فوجی عدالتوں میں آرمی ایکٹ کے تحت عام شہریوں
جون
اسرائیل پر فتح ایران کے ہاتھوں ہوگی: عمان کے مفتی اعظم
?️ 14 جون 2025سچ خبریں: عمان کے مفتی اعظم شیخ احمد بن حمد الخلیلی نے
جون
فلسطین پر قبضہ، خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ؛ اسرائیل کی بین الاقوامی مذمت کی لہر
?️ 3 مئی 2026سچ خبریں: عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل، پاکستان کے نمائندہ اور لبنانی
مئی
روس سے گہرے تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں:وزیر خارجہ
?️ 7 اپریل 2021اسلام آباد(سچ خبریں) اسلام آباد میں روسی ہم منصب کے ہمراہ پریس
اپریل
خضدار سکول بس پر حملے میں شہید طلبہ کی تعداد 6 ہوگئی
?️ 23 مئی 2025کوئٹہ (سچ خبریں) خضدار میں سکول بس پر بھارتی حمایت یافتہ دہشت
مئی