تل ابیب میں اپوزیشن رہنماؤں کی ملاقات، کیا وہ نیتن یاہو کے خلاف متحد ہوں گے؟

اسرائیل

?️

تل ابیب میں اپوزیشن رہنماؤں کی ملاقات، کیا وہ نیتن یاہو کے خلاف متحد ہوں گے؟
 اسرائیلی اپوزیشن کی اہم جماعتوں کے رہنماؤں نے تل ابیب میں ملاقات کے بعد ایک مستقل فورم‘کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ انتخابات میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے اور نئی حکومت کی تشکیل کے لیے لائحہ عمل تیار کر رہے ہیں۔
اسرائیلی چینل 13 کے مطابق، اپوزیشن رہنماؤں کی یہ پہلی مشترکہ نشست گزشتہ پانچ ماہ بعد ہوئی جس میں نیتن یاہو کو ہٹانے کے مقصد پر اتفاق کیا گیا۔ تاہم اس اجلاس میں سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ اور بنی گانٹز شریک نہیں ہوئے اور عرب جماعتوں کے رہنما بھی مدعو نہیں تھے۔
یائیر لاپید، جو اپوزیشن کے سربراہ ہیں، نے اعلان کیا کہ آئندہ دو سے تین ہفتوں میں دوبارہ اجلاس بلایا جائے گا تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ کون سی جماعتیں تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس دوران اپوزیشن میں اختلافات بھی سامنے آئے ہیں، بالخصوص گانٹز اور سابق وزیر گادی آیزنکوت کے درمیان جھڑپ اور قیادت کے مسئلے پر تناؤ بڑھا ہے۔
مشترکہ بیان میں یائیر لاپید، گادی آیزنکوت، یائیر گولان  اور آویگدور لیبرمین نے مستقل فورم کے قیام پر اتفاق کیا اور بنی گانٹز و نفتالی بینیٹ کو آئندہ اجلاسوں میں شمولیت کی دعوت دی۔ لاپید نے کہا کہ ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو آئندہ کابینہ کے بنیادی اصول طے کرے گی، جن میں لازمی فوجی سروس اور اسرائیل کی شناخت کو بطور ’’یہودی، جمہوری اور صہیونی ریاست‘‘ برقرار رکھنا شامل ہوگا۔
اپوزیشن رہنماؤں کا الزام ہے کہ نیتن یاہو جنگ غزہ کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے طول دے رہے ہیں اور یہ اسرائیل کے مستقبل کے لیے خطرناک ہے۔ ان کے مطابق، حزب اختلاف کا ہدف ایک متبادل حکومت تشکیل دینا ہے جو لیکوڈ پارٹی کی جگہ لے سکے۔
روزنامہ معاریو کے تازہ ترین سروے کے مطابق، نیتن یاہو کا اتحاد محض 49 نشستوں تک محدود ہو گیا ہے، جب کہ اپوزیشن جماعتیں یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ وہ عرب جماعتوں کی 10 نشستوں کے بغیر بھی اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اپوزیشن کو حقیقی کامیابی چاہیے تو بینیٹ اور آیزنکوت کا اتحاد لازمی ہوگا، جو کم از کم 60 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی فہرست تشکیل دے سکتا ہے۔
ادھر آویگدور لیبرمین نے اسرائیلی چینل 12 کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ کابینہ  ہونی چاہیے اور اس میں عرب جماعتوں یا حریدی (قدامت پسند مذہبی) پارٹیوں کو شامل نہیں کیا جانا چاہیے۔

مشہور خبریں۔

فلمی صنعت میں سعودی صیہونی تعاون کا انکشاف

?️ 2 جولائی 2021سچ خبریں:پی آر نیوز وائر ویب سائٹ نے بتایا ہے کہ سعودی

وزیراعظم ہاؤس کی سیکیورٹی بریچ ہوئی ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ عمران خان

?️ 30 ستمبر 2022پشاور: (سچ خبریں) پی ٹی آئی کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم

حکومت نے پرانے کرنسی نوٹ تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے

?️ 14 دسمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی حکومت نے پرانے کرنسی نوٹ تبدیل کرنے

2 ججز بینچ سے علیحدہ، 7 رکنی بینچ نے سماعت کا دوبارہ آغاز کردیا

?️ 22 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) فوجی عدالتوں میں آرمی ایکٹ کے تحت عام شہریوں

صیہونی ریاست میں خواتین کے ساتھ کیا ہوتا ہے،صیہونی میڈیا کا انکشاف

?️ 18 جولائی 2023سچ خبریں:حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں اس عبرانی

ایرانی صدر کی شہادت پر فلسطینی مزاحمتی کمیٹیوں کا ردعمل

?️ 20 مئی 2024سچ خبریں: فلسطینی مزاحمتی کمیٹیوں نے گزشتہ رات کے ہوائی حادثے کے

روس کا جاپان کے اقدامات کا سخت جواب دینے کا اعلان

?️ 24 نومبر 2024سچ خبریں:روس کے نائب وزیر خارجہ آندری رودینکو نے کہا ہے کہ

اسرائیل میں سیاسی اختلاف عروج پر

?️ 12 جون 2021سچ خبریں:اگر اسرائیل میں کچھ غیر متوقع نہیں ہوتا ہے تو ایتوار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے