ایک بحران زدہ حکومت

بحران

?️

سچ خبریں:لبنانی حزب اللہ کے سربراہ نے عالمی یوم القدس کے موقع پر تقریر کرتے ہوئےکہا کہ اسرائیل ایک بحران زدہ حکومت ہے۔
لبنانی حزب اللہ کے سربرہ سید حسن نصراللہ کے عالمی یوم القدس کے موقع پر تقریر کرتے ہوئےکہا کہ مسئلہ فلسطین کے بارے میں میں یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ فلسطینی اپنے حقوق کا دعویٰ کرتے رہیں اورنہ یروشلم کو ترک کرنے کاان کا کوئی ارادہ ہے، فلسطینی عوام کے لئے یہ ایک اصول ہے، حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نے زور دے کر کہاکہ صیہونیوں کا خیال تھا کہ فلسطینیوں پر مایوسی اور ناامیدی کی کیفیت غالب آجائے گی اور مسلسل محاصرے اور معاشی دباؤ کے پیش نظر فلسطینی شہری ہتھیار ڈال دیں گے، تاہم فلسطینیوں کے رد عمل اور ان کی مزاحمت نے اسرائیلیوں کو حیرت میں ڈال دیا۔

سید حسن نصراللہ نے یہ بھی کہاکہ فلسطینی مزاحمتی گروہوں سے میری درخواست ہے کہ وہ مزاحمت کے آپشن پر عمل کریں کیونکہ یہ آپشن مستقبل میں تنازعات کے اصولوں کو بدل دے گا، اسی کے ساتھ مجھے یقین ہے کہ خطے میں مزاحمت کے محور کا استحکام بہت اہم ہے اور اس نے صہیونی دشمن کے خلاف لڑائی پر بہت بڑا اثر ڈالا ہے، نصراللہ نے مزید کہا،اسرائیل اس وقت خطے میں جاری صورتحال اور مزاحمت کی فتوحات سے بہت پریشان اور خوفزدہ ہے، آج صیہونی حکومت بحران کا شکار ہے، صہیونی حکومت کے اندرونی بحرانوں نے آسمان کو چھوٹا کردیا ہے جو اس حکومت کی کمزوری اور نااہلی کی علامت ہے۔

حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نے مزید کہا کہ آج صہیونیوں کی سب سے زیادہ تشویش ان کی داخلی صورتحال کے بارے میں ہے، صہیونی اس وقت خانہ جنگی کی طرف گامزن ہیں اور اس کی وجہ سے وہ بہت پریشان ہیں، حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نے مقبوضہ علاقوں میں ڈیمونا جوہری تنصیبات پر مزاحمتی تحریک راکٹ حملے کی بھی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ڈیمونا جوہری تنصیبات کے قریب گرنے والا میزائل صیہونیوں کے درمیان سخت تشویش کا باعث بنا۔

انہوں نے مزید کہاکہ اسرائیل کو بہت تشویش ہے کہ مزاحمتی کاروائیوں کو مغربی کنارے تک بڑھایا جائے گا،اطلاعات کی بنیاد پر صیہونی حکومت کو فی الحال بہت سے داخلی اور خارجی بحرانوں کا سامنا ہے، سید حسن نصراللہ نے مزید زور دیاکہ کسی بھی صورت میں قدس کے عالمی دن کے موقع پر ہم سب کا فرض ہے کہ مسئلہ فلسطین کی حمایت کریں، فتح کے راستے پر تمام مسلمانوں اور آزاد لوگوں کو فلسطینیوں کی مدد کرنی ہوگی، یہ امداد مختلف علاقوں میں مہیا کی جانی چاہئے۔

نصراللہ نے کہاکہ میں صہیونی دشمن کو متنبہ کرتا ہوں کہ فوجی مشقوں کے دوران مزاحمتی تحریک کسی بھی جارحانہ حرکت کو برداشت نہیں کرے گی، لہذا توقع کی جارہی ہے کہ اس فوجی تدبیر کے دوران لبنانی سرزمین پر ذرا بھی حملہ نہیں ہوگا ، کیونکہ بصورت دیگر مزاحمتی کاروائی تل ابیب کے اندر ہوگی۔

مشہور خبریں۔

یوکرین جنگ کےعالمی نظام پر سیاسی اثرات

?️ 24 فروری 2025سچ خبریں: 24 فروری 2022 کو شروع ہونے والی یوکرین کی جنگ

ہمارے پاس سعودی عرب اور امارات کی سرزمین کو نشانہ بنانے کی صلاحیت: انصاراللہ

?️ 6 اکتوبر 2022سچ خبریں:  یمن کی انصار اللہ تحریک کے سیاسی دفتر کے رکن

حزب اللہ کی صیہونیوں پر کاری ضرب

?️ 19 اکتوبر 2024سچ خبریں: حزب‌ الله نے ایک بیان میں صیہونی فوجی اڈوں پر

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا کا دورہ عمان

?️ 11 فروری 2022راولپنڈی(سچ خبریں)  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا نے

یمن میں امن مذاکرات عید الفطر کے بعد دوبارہ شروع ہوں گے: اماراتی اخبار

?️ 20 اپریل 2023سچ خبریں:اماراتی اخبار البیان نے بتایا کہ یمن کی تحریک انصار اللہ

امن ہی وینزوئلا اور لاطینی امریکہ کے شایانِ شان راستہ ہے: وینزوئلا کے صدر

?️ 25 دسمبر 2025سچ خبریں:وینزوئلا کے صدر نکولس مادورو نے کہا ہے کہ ان کا

امریکی کانگریس میں اسرائیلی لابی کا اثر کمزور ہو رہا ہے:ٹرمپ

?️ 17 دسمبر 2025امریکی کانگریس میں اسرائیلی لابی کا اثر کمزور ہو رہا ہے:ٹرمپ امریکی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے