ایران کے ساتھ جنگ نیتن یاہو کے سیاسی کیریئر کا خاتمہ بن سکتی ہے

ایران کے ساتھ جنگ نیتن یاہو کے سیاسی کیریئر کا خاتمہ بن سکتی ہے

?️

ایران کے ساتھ جنگ نیتن یاہو کے سیاسی کیریئر کا خاتمہ بن سکتی ہے
عالمی خبر رساں ویب سائٹ مڈل ایسٹ مانیٹر نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ جنگ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل کے لیے خطرہ بن سکتی ہے اور یہ ان کے سیاسی کیریئر کے خاتمے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو گزشتہ چار دہائیوں سے اپنی سیاسی حکمت عملی اس مؤقف پر قائم رکھتے آئے ہیں کہ ایران اسرائیل کے لیے ایک وجودی خطرہ ہے اور اس کا مقابلہ صرف فوجی طاقت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
تحلیل میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے  یروشلم میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران کے میزائل اور جوہری پروگرام کو نہ روکا گیا تو اسے قابو میں رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ مبصرین کے مطابق یہ بیان دراصل اس جنگ کی تمہید تھا جس کے لیے وہ برسوں سے تیاری کرتے رہے تھے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جس جنگ کو اسرائیلی قیادت مختصر اور فیصلہ کن سمجھ رہی تھی، وہ اب ایک طویل اور تھکا دینے والی جنگ کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں اور اسرائیلی فوجی حکام کے مطابق تل ابیب ہمیشہ ایسی طویل جنگ سے بچنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان اس معاملے پر مختلف حکمت عملیاں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ طویل جنگ کے بجائے ایران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کو ترجیح دے سکتے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں وسیع پیمانے پر جنگ سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔
تحلیل میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ خطے میں امریکی زمینی فوج بھیجنے یا طویل جنگ میں الجھنے کے خواہاں نہیں ہیں۔ امکان ہے کہ کسی سیاسی معاہدے یا کامیابی کے اعلان کے بعد امریکہ اس تنازع سے فاصلے پر چلا جائے، جس سے اسرائیل مزید مشکل صورتحال میں آ سکتا ہے۔
رپورٹ میں ایران کی فوجی صلاحیتوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق ایران کے پاس روایتی فوجی طاقت کے ساتھ ساتھ خطے میں اتحادی گروہوں کا ایک نیٹ ورک، جدید ڈرون ٹیکنالوجی اور غیر متوازن جنگی حکمت عملی موجود ہے، جو طویل جنگ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
مڈل ایسٹ مانیٹر کے مطابق ایسی صورتحال میں یہ جنگ اسرائیل کے لیے طویل اور مہنگی ثابت ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں اندرونی سیاسی اور معاشی دباؤ میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں عالمی معیشت پر اثرات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے چند ہی دنوں بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمت ۹۲ ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو ایک ہفتے کے دوران تقریباً ۲۸ فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
تحلیل کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں عدم استحکام یا بندش پیدا ہوتی ہے تو اس سے دنیا میں تیل اور گیس کی تقریباً ۲۰ فیصد سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے اثرات امریکہ، یورپ اور دیگر ممالک کی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ جس جنگ کو  نیتن یاہو اپنی بڑی اسٹریٹجک کامیابی سمجھتے تھے، وہی بالآخر ان کے سیاسی دور کی سب سے بڑی آزمائش بن سکتی ہے۔

مشہور خبریں۔

حکومت کا نیکٹا کو بحال کرنے کا فیصلہ

?️ 20 مئی 2022اسلام آباد(سچ خبریں)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے

میکرون کو صیہونی ربی کے ہاتھوں قتل کی دھمکی

?️ 10 اگست 2025سچ خبریں: فرانسیسی پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر نے صیہونی ربی ڈیوڈ ڈینیئل

عمران خان استعفیٰ نہیں دیں گے:شیخ رشید

?️ 30 مارچ 2022اسلام آباد (سچ خبریں)وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد خان  نے اسلام

فیس بک گروپس میں ’نِک نیم‘ کے ساتھ پوسٹ کرنے کی سہولت متعارف

?️ 29 نومبر 2025سچ خبریں: انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے فیس بک گروپس میں پوسٹ

ایران نے نیتن یاہو کی رہائش گاہ پر حملے سے تعلق کی تردید کی

?️ 20 اکتوبر 2024سچ خبریں: ایران نے اقوام متحدہ میں اعلان کیا ہے کہ وہ

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسرائیلی پولیس کے جرائم کے بارے میں اہم انکشاف کردیا

?️ 26 جون 2021رام اللہ (سچ خبریں) ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسرائیلی پولیس کے جرائم کے

این 83، این اے 85 میں انتخابات ملتوی کرنے کے ریٹرننگ افسران کے نوٹیفکیشن منسوخ

?️ 22 جنوری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے این 83 اور

گروپ20کے رکن ممالک مقبوضہ کشمیر میں اجلاس کا بائیکاٹ کریں، بشیر عرفانی

?️ 14 اپریل 2023سرینگر: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے