?️
ایران کے خلاف عسکری دباؤ الٹا پڑسکتا ہے:ایشیا ٹائمز
ہانگ کانگ سے شائع ہونے والے جریدے ایشیا ٹائمز نے خلیج فارس میں امریکی فوجی سرگرمیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف عسکری دباؤ نہ صرف غیر مؤثر ثابت ہو سکتا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں ایران کے اندر قومی یکجہتی میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ جریدے نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ضبطِ نفس اور سفارتی حل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ایشیا ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ خلیج فارس میں امریکہ کی بڑھتی ہوئی فوجی نقل و حرکت کو جنگ کی تیاری کے بجائے ایک خطرناک بازدارانہ حکمتِ عملی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، جس کا تعلق توانائی کی عالمی منڈی میں عدم استحکام اور چین کے ساتھ امریکہ کی طویل المدتی اسٹریٹجک رقابت سے ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اگرچہ امریکی بحریہ کی موجودگی میں اضافے نے ایک نئی جنگ کے خدشات کو جنم دیا ہے، لیکن عملی طور پر یہ اقدامات مکمل جنگ کی تیاری کے بجائے دباؤ ڈالنے کی پالیسی کا حصہ ہیں۔
ایشیا ٹائمز نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی مقبولیت کی بنیاد 2016 اور 2024 میں “ہمیشہ چلنے والی جنگوں” کے خاتمے اور مہنگی بیرونی مداخلتوں سے گریز کے وعدوں پر رہی ہے، جبکہ ایران کے ساتھ جنگ ان وعدوں کے بالکل برعکس ہوگی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ جنگ کا دائرہ طویل، پیچیدہ اور انتہائی مہنگا ہوگا اور اس میں فیصلہ کن فتح حاصل کرنا نہایت مشکل ہے۔ جریدے نے ایران کا موازنہ 2003 کے عراق سے کرنے کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران رقبے، آبادی اور داخلی اتحاد کے لحاظ سے کہیں زیادہ مضبوط ہے اور طویل المدتی تصادم کے لیے بہتر طور پر تیار ہے۔
ایشیا ٹائمز کے مطابق عراق اور افغانستان کی جنگیں امریکہ کے لیے ایک واضح انتباہ ہیں، جن پر طویل المدتی اخراجات کو شامل کرتے ہوئے چھ سے آٹھ کھرب ڈالر تک خرچ آئے، جبکہ یہ جنگیں دہائیوں تک جاری رہیں اور ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ مہنگی ثابت ہوئیں۔ ایسے میں ایران کے ساتھ جنگ اس سے بھی زیادہ بھاری قیمت کا تقاضا کر سکتی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ان جنگوں کی وجہ سے امریکہ نے قیمتی مواقع گنوائے، جبکہ چین اور بھارت جیسے ممالک نے بنیادی ڈھانچے، ٹیکنالوجی اور طویل المدتی معاشی ترقی پر توجہ مرکوز رکھی۔
ایشیا ٹائمز نے زور دیا کہ عالمی مقابلہ اب صرف عسکری نہیں بلکہ ٹیکنالوجی اور معیشت، جیسے مصنوعی ذہانت اور جدید صنعتوں، میں بھی جاری ہے، اور مشرقِ وسطیٰ میں ایک طویل تنازع امریکہ کی اسٹریٹجک توجہ اور وسائل کو کمزور کر سکتا ہے۔
رپورٹ کے آخر میں کہا گیا کہ سیاسی طور پر بھی ایران پر فوجی دباؤ الٹا اثر ڈال سکتا ہے، کیونکہ بیرونی خطرات ایرانی معاشرے میں اندرونی اتحاد کو مضبوط کر دیتے ہیں۔ جریدے نے خبردار کیا کہ سب سے بڑا خطرہ دانستہ جنگ نہیں بلکہ غلط اندازے اور غیر ارادی کشیدگی میں اضافہ ہے، جس سے بچنے کا واحد راستہ خویشتن داری اور مؤثر سفارتکاری ہے۔
ہانگ کانگ سے شائع ہونے والے جریدے ایشیا ٹائمز نے خلیج فارس میں امریکی فوجی سرگرمیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف عسکری دباؤ نہ صرف غیر مؤثر ثابت ہو سکتا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں ایران کے اندر قومی یکجہتی میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ جریدے نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ضبطِ نفس اور سفارتی حل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ایشیا ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ خلیج فارس میں امریکہ کی بڑھتی ہوئی فوجی نقل و حرکت کو جنگ کی تیاری کے بجائے ایک خطرناک بازدارانہ حکمتِ عملی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، جس کا تعلق توانائی کی عالمی منڈی میں عدم استحکام اور چین کے ساتھ امریکہ کی طویل المدتی اسٹریٹجک رقابت سے ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اگرچہ امریکی بحریہ کی موجودگی میں اضافے نے ایک نئی جنگ کے خدشات کو جنم دیا ہے، لیکن عملی طور پر یہ اقدامات مکمل جنگ کی تیاری کے بجائے دباؤ ڈالنے کی پالیسی کا حصہ ہیں۔
ایشیا ٹائمز نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی مقبولیت کی بنیاد 2016 اور 2024 میں “ہمیشہ چلنے والی جنگوں” کے خاتمے اور مہنگی بیرونی مداخلتوں سے گریز کے وعدوں پر رہی ہے، جبکہ ایران کے ساتھ جنگ ان وعدوں کے بالکل برعکس ہوگی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ جنگ کا دائرہ طویل، پیچیدہ اور انتہائی مہنگا ہوگا اور اس میں فیصلہ کن فتح حاصل کرنا نہایت مشکل ہے۔ جریدے نے ایران کا موازنہ 2003 کے عراق سے کرنے کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران رقبے، آبادی اور داخلی اتحاد کے لحاظ سے کہیں زیادہ مضبوط ہے اور طویل المدتی تصادم کے لیے بہتر طور پر تیار ہے۔
ایشیا ٹائمز کے مطابق عراق اور افغانستان کی جنگیں امریکہ کے لیے ایک واضح انتباہ ہیں، جن پر طویل المدتی اخراجات کو شامل کرتے ہوئے چھ سے آٹھ کھرب ڈالر تک خرچ آئے، جبکہ یہ جنگیں دہائیوں تک جاری رہیں اور ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ مہنگی ثابت ہوئیں۔ ایسے میں ایران کے ساتھ جنگ اس سے بھی زیادہ بھاری قیمت کا تقاضا کر سکتی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ان جنگوں کی وجہ سے امریکہ نے قیمتی مواقع گنوائے، جبکہ چین اور بھارت جیسے ممالک نے بنیادی ڈھانچے، ٹیکنالوجی اور طویل المدتی معاشی ترقی پر توجہ مرکوز رکھی۔
ایشیا ٹائمز نے زور دیا کہ عالمی مقابلہ اب صرف عسکری نہیں بلکہ ٹیکنالوجی اور معیشت، جیسے مصنوعی ذہانت اور جدید صنعتوں، میں بھی جاری ہے، اور مشرقِ وسطیٰ میں ایک طویل تنازع امریکہ کی اسٹریٹجک توجہ اور وسائل کو کمزور کر سکتا ہے۔
رپورٹ کے آخر میں کہا گیا کہ سیاسی طور پر بھی ایران پر فوجی دباؤ الٹا اثر ڈال سکتا ہے، کیونکہ بیرونی خطرات ایرانی معاشرے میں اندرونی اتحاد کو مضبوط کر دیتے ہیں۔ جریدے نے خبردار کیا کہ سب سے بڑا خطرہ دانستہ جنگ نہیں بلکہ غلط اندازے اور غیر ارادی کشیدگی میں اضافہ ہے، جس سے بچنے کا واحد راستہ خویشتن داری اور مؤثر سفارتکاری ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
ملک کے مختلف حصوں میں پولنگ کا عمل تاخیر کا شکار
?️ 8 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں)ملک بھر میں عام انتخابات کے لیے پولنگ کا
فروری
مہنگائی کی وجہ سے کئی دفعہ مجھے راتوں کو نیند نہیں آتی: وزیراعظم
?️ 23 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ
جنوری
متحدہ عرب امارات کا شنگھائی تعاون تنظیم کا رکن بننے کے لیے پہلا قدم
?️ 7 مئی 2023سچ خبریں:آج متحدہ عرب امارات نے شنگھائی تعاون تنظیم کا رکن بننے
مئی
امریکی ریپبلکن کی ٹرمپ کے بیانات پر تنقید
?️ 12 فروری 2024سچ خبریں:ڈونلڈ ٹرمپ کے بعض سابق حامیوں نے ان پر تنقید کی
فروری
تحریک انصاف جلد اپنی تجاویز باضابطہ طور پرچیف جسٹس کو دے گی، عمرایوب
?️ 22 فروری 2025سرگودھا: (سچ خبریں) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پاکستان تحریک انصاف
فروری
زیلنسکی پوری دنیا کے لیے خطرہ ہے: امریکی انٹیلی جنس اہلکار
?️ 14 اپریل 2023سچ خبریں:ایک ریٹائرڈ امریکی انٹیلی جنس افسر اسکاٹ رائٹر نے خبردار کیا
اپریل
رواں سال میں شہید ہونے والے فلسطینی بچوں کے چونکا دینے والے اعدادوشمار!
?️ 12 جون 2023سچ خبریں:صیہونی ذرائع ابلاغ نے ایک چونکا دینے والی رپورٹ میں مقبوضہ
جون
28 drown in India bus crash, many of them children
?️ 6 جولائی 2021 When we get out of the glass bottle of our ego