?️
سچ خبریں: امریکی سیکرٹری خارجہ انتھونی بلینکن نے سی این این کے ساتھ ایک انٹرویو میں اپنی اس سابقہ تجزیے کو دہرایا جس میں انہوں نے ایران پر امریکی حملے کو غلط قرار دیا تھا۔
انہوں نے ایران کے جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کی کامیابی پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ وہ امید کرتے ہیں کہ حملہ کامیاب رہا ہو گا، لیکن ابھی اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ کرنا قبل از وقت ہے۔
سابق امریکی عہدیدار نے باراک اوباما کے دور میں معاہدہ برجام پر دستخط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے نے ایران کے جوہری پروگرام کو ایک محدود فریم ورک میں رکھا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ ایران کافی طویل عرصے تک ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے ضروری مواد تیار کرنے کی صلاحیت حاصل نہ کر سکے۔
بلینکن نے ایران کے جوہری اقدامات کی تصدیق کی صلاحیت کو برجام معاہدے کا ایک فائدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے معاہدہ توڑنے اور جوہری ہتھیار بنانے کے لیے ضروری مواد تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہوتا تو ہمیں اس کا پتہ چل جاتا اور ہم رد عمل ظاہر کر سکتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ برجام معاہدے نے ہمیں کم از کم ایک دہائی، اور ممکنہ طور پر 15 سے 20 سال کا وقت خریدا۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، اس کے بعض شق بتدریج ختم ہو گئے، لیکن انہیں توسیع دینے کا امکان موجود تھا۔
سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے وزیر خارجہ نے ایران کی جوہری صلاحیت ختم کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا بھی یہی خیال یا موقع تھا۔ ہم اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے پرعزم تھے۔
بلینکن نے ایران کے ساتھ معاہدہ یا اس کے جوہری تنصیبات پر حملے کے درمیان انتخاب کو برے اور بدتر کے درمیان انتخاب قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اصل سوال یہ تھا کہ بہترین راستہ کون سا ہے؟ ایران کے جوہری تنصیات پر بمباری کے سلسلے میں ہمارا مسئلہ یہ تھا کہ اگرچہ یہ اقدام اسے ایک یا دو سال پیچھے ڈال سکتا تھا، لیکن اگر ایران اپنے پروگرام کو زمین کی گہرائی میں اور ناقابل رسائی مقامات پر دوبارہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کرتا، تو کچھ سال بعد ہمیں اس سے بھی بدتر مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈپلومیٹک معاہدہ ہمیں 10، 15 یا 20 سال کا وقت خریدتا اور اس امکان کو برقرار رکھتا کہ اگر ضرورت پڑی تو مستقبل میں طاقت کا استعمال کیا جائے۔ اس لیے ہم ابھی یہ بات حتمی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ ایران کے جوہری تنصیبات پر حملہ کامیاب تھا یا نہیں؛ کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ ایران کیا فیصلہ کرے گا۔
اس امریکی دیپلومیٹ نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ ایرانی اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ انہیں جوہری پروگرام جاری نہیں رکھنا چاہیے، لیکن مجھے فکر ہے کہ وہ ایسا نہیں کریں گے اور بالآخر پروگرام کو زیادہ خطرناک شکل میں دوبارہ تعمیر کریں گے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
وزیراعظم آفس کے اسٹاف کا بھی کورونا ٹیسٹ مکمل کر لیا گیا
?️ 22 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں) کورونا ویکسین لگنے کے دو دن بعد ہی وزیراعظم
مارچ
اسلووینیا کایوروویژن 2025 میں اسرائیل کی شرکت پر پابندی کا مطالبہ
?️ 22 دسمبر 2024سچ خبریں:اسلووینیا کی حکومت نے باضابطہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ
دسمبر
ایران جنگ نے کیسے امریکہ کو اسٹریٹجک بحران میں دھکیل دیا؟
?️ 22 اپریل 2026سچ خبریں:مغربی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ
اپریل
نوازشریف کی عرفان صدیقی کی رہائش گاہ آمد، اہلخانہ سے اظہار تعزیت
?️ 12 نومبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی
نومبر
ایران کے ساتھ جنگ کے بعد اسرائیل کو معیشت میں گہرا دھچکا/ صیہونیوں کا معیار زندگی گرا
?️ 19 اگست 2025سچ خبریں: صہیونی اقتصادی اخبار کالکالیسٹ نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ
اگست
امریکہ اور ایران جوہری معاہدے پر لچک دکھا رہے ہیں:ترکی وزیر خارجہ
?️ 12 فروری 2026 امریکہ اور ایران جوہری معاہدے پر لچک دکھا رہے ہیں:ترکی وزیر خارجہ
فروری
ٹرمپ کا یوکرین میں جنگ 24 گھنٹے میں ختم کرنے کا آسان حل
?️ 18 جولائی 2023سچ خبریں:سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی یوکرین میں جنگ 24 گھنٹے
جولائی
حکومت مہنگائی پر قابو پانے میں کامیاب رہی ہے
?️ 22 ستمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) سلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےوفاقی وزیر خزانہ
ستمبر