?️
سچ خبریں:ایک عراقی تجزیہ کار نےاس بات پر زور دیتے ہوئے کہ الحشد الشعبی عراق اور خطے میں امریکی اسرائیلی منصوبوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے لہذا وہ کسی بھی قیمت پر اس طاقتور اور قانونی تنظیم کا سر قلم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
المعلومہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایک ممتاز عراقی تجزیہ کار عدنان فرج الساعدی نے ’’انھیں الحشد الشعبی کا سر چاہیے‘‘کے عنوان سے اپنے ایک کالم میں لکھاکہ عراق کی صورتحال کا کوئی مشاہدہ کرنے والا ہر انصاف پسند انسان یہ محسوس کر سکتا ہے کہ 2003 میں عراق پر حملہ کرنے کا ریاستہائے متحدہ کا فیصلہ عراق کو سیاسی ، معاشی ، اور ثقافتی اعتبار سے منحصر بنانے اور امریکی فوجی اڈوں کے قیام نیز اسرائیل کی سلامتی کے لیے ہمارے ملک میں اپنی موجودگی کو مستحکم کرنے کی شدید خواہش کی وجہ سے کیا گیا تھا۔
انہوں نے المالومہ میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ امریکہ کی جانب سے پروپگنڈوں اور میڈیا کوریج کے باوجود کہ اس حملے کا مقصد عراق کو خطے میں جمہوریت کی کرن بنانا ہے ، تاہم ایک کے بعد ایک علامت دکھائی دے رہی ہیں یہاں تک کہ سادہ ترین لوگوں پر بھی یہ بات واضح ہوگئی کہ امریکی فوجوں کے عراق سے انخلا کرنے کی آخری تاریخ 2011 کے بعد بھی وہ عراق نہیں چھوڑیں گی،یہاں تک کہ اگر وہ مزاحمتی گروہوں کے حملوں کی وجہ سے عراق چھوڑنے پر مجبور ہوبھی جاتے ہیں تو یہ ایک ظاہری انخلا ہوگا کیونکہ وہ ہماری سیاست ، معیشت ، سلامتی ، فوج اور سکیورٹی خدمات کی لائنوں سے جڑے رہیں گے۔
تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ اوباما انتظامیہ نے خلیجی ریاستوں کے ساتھ مل کر ، انبار ، نینوا اور صلاح الدین پر قبضہ کرتے ہوئے مخلوط دہشت گردی کی تحریکیں پیدا کیں اور انہیں عراق میں لے آئے،یہ عراقی حکام کے لئے ایک سزا تھی کہ وہ عراق سے چلے جانے اور واشنگٹن سے مدد کی اپیل کرنے کی اپنی درخواست پر واپس آجائیں، تجزیہ کے مطابق تاہم مبارک کے فتویٰ کے اجراء اور دہشت گردوں کو بے دخل کرنے نیز پورے عراق کو آزاد کرانے کے لئے الحشد الشعبی تنظیم کے قیام سے ہلیری کلنٹن اور اوباما کےمنصوبے کو ایک مہلک دھچکا لگا اور انھیں اپنی بدقسمتی پر افسوس ہوا،اس نئی قوت نے وائٹ ہاؤس میں تیار کردہ تمام منصوبوں کومٹی میں ملا دیا۔
الساعدی نے لکھاکہ ٹرمپ کی آمد کے ساتھ ہی متحدہ عرب امارات نے الحشد الشعبی کا سر قلم کرنے کا عزم کیا اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ٹرمپ اور کوچنر کو اربوں ڈالر دیےتاکہ اپنے خیال میں عراق کو الحشد الشعبی سے پاک کردے ، اس نے امریکی حکومت پر مستقل دباؤ ڈالا کہ اس تنطیم کے ہیڈ کوارٹر پر حملے کیے جائیں،تاہم وہ اس مبارک تنظیم کو ختم نہیں کرسکے۔


مشہور خبریں۔
کیا اسرائیل اپنے انجام کے قریب ہے ؟
?️ 13 دسمبر 2023سچ خبریں:تحریک حماس کے رہنما اسامہ حمدان نے اس بات پر زور
دسمبر
27 ویں ترمیم کی اضافی شقیں سینیٹ سے منظور، عدلیہ مارشل لا کی توثیق نہیں کرسکے گی، وزیر قانون
?️ 13 نومبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت
نومبر
برطانوی وزیر خارجہ اپنی رعایا پر صہیونی حملے سے خوفزدہ
?️ 11 اگست 2024سچ خبریں: برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے بھی آج غزہ کے
اگست
دہشت،غربت اور بےگھر؛افغانستان پر 20 سال کے قبضے کی وراثت
?️ 16 اگست 2022سچ خبریں:گزشتہ برس امریکہ نے افغانستان پر 2 دہائیوں پر محیط قبضہ
اگست
پاکستان اور چین بشام دہشتگردی پر رابطہ میں ہیں، ترجمان دفتر خارجہ
?️ 7 جون 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان
جون
دمشق میں میکرون کی رہائش گاہ کے قریب دھماکہ، 4 ہلاک اور 18 زخمی
?️ 8 جولائی 2026سچ خبریں: خبری ذرائع جنہوں نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی رہائش گاہ
جولائی
آبنائے ہرمز میں کشتیوں کی آمد و رفت تین ہفتوں کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی؛ کپلر کی رپورٹ
?️ 17 جولائی 2026سچ خبریں:کشتی رانی سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے ادارے کپلر نے
جولائی
ایرانی حملوں کے بعد مقبوضہ فلسطین کے خالی ہونے سے نتن یاہو پریشان
?️ 21 جون 2025ایران کی جانب سے صہیونیستی ریاست کے خلاف میزائل حملوں کے بعد،
جون