امریکی پابندی سے نکلنے کے لیے ترکی کی کوشش

امریکی

?️

سچ خبریں: ان دنوں ترکی برکس گروپ میں شامل ہونے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے

 کچھ ترک سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اردگان کی حکومت صرف برکس میں شامل ہو کر امریکہ اور یورپی یونین کو سیاسی پیغام دینے کی کوشش کر رہی ہے اور انہیں یہ بتانے کی کوشش کر رہی ہے کہ اگر آپ ترکی کو اپنے گروپ میں شامل نہیں ہونے دیں گے تو وہ مشرقی محور کے قریب ہو جائے گا۔

تاہم، دوسرے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترکئی برکس میں شامل ہونے کی کوشش کر رہا ہے، وہ امریکہ کے ساتھ اپنے مسائل کے حل کے لیے پس پردہ بات چیت کر رہا ہے۔

ترکی اور امریکہ کے درمیان اہم ترین سیاسی اختلافات میں سے ایک یہ ہے کہ واشنگٹن آنکارا اور ماسکو کے درمیان دفاعی تعلقات کو کئی سالوں سے ایک سنگین مسئلہ سمجھتا رہا ہے۔ ترکی کا نام امریکی پابندیوں (CAATSA) کے تحت ممالک کی فہرست میں ڈالنا اور نیٹو کے اس اہم رکن کے ہتھیاروں کی پابندی ان اقدامات میں شامل ہیں جو ترکی امریکہ تعلقات پر منفی اثرات ڈالتے ہیں۔

CAATSA پابندیوں کا اطلاق کرتے ہوئے امریکہ کے دشمنوں کا مقابلہ کرنے کا قانون کے متن کے مواد کے مطابق، ترکی پر الزام لگایا گیا ہے کہ اس نے ایک ایسے ملک سے ہتھیار خرید کر غلطی کی ہے جو امریکہ کا دشمن ہے اور اس پر پابندی لگائی جانی چاہیے۔ امریکہ کا مطلب ہے کہ ترکی نے روس سے S-400 میزائل سسٹم کی خریداری کی وجہ سے امریکہ اور نیٹو اتحاد کے مفادات کے خلاف قدم اٹھایا اور اسی بہانے ترکی کو نہ صرف اس کے خریداروں کی فہرست سے نکال دیا گیا۔ F-35 لڑاکا طیارے بلکہ 900 کی پیداوار بھی اس لڑاکا طیارے کے چھوٹے اور بڑے حصے کو ترک دفاعی صنعتوں کی ذیلی کمپنیوں میں روک دیا گیا۔
کیا ہاکان فیدان کا کوئی سنہری فارمولا ہے؟

ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان کے الفاظ نے ظاہر کیا کہ آنکارا اور واشنگٹن تعلقات میں ابھی بھی مسائل موجود ہیں اور ان مسائل پر قابو پانے کے لیے ایک بڑی رکاوٹ کو دور کرنا ہوگا۔ حقان فیدان نے کیا چیز کو رکاوٹ کہا ہے؟ قصہ یہ ہے کہ 2019 میں ترکی امریکہ تعلقات میں تین اہم واقعات رونما ہوئے جنہوں نے سیاسی دفاعی تعاون کی شرائط کو مشکل بنا دیا:

سب سے پہلے، ترکی نے روس سے S-400 فضائی دفاعی نظام خریدا۔ دوسرا مرحلہ یہ تھا کہ امریکہ نے انتہائی فیصلہ کن اور تیزی سے ترکی کو F-35 لڑاکا طیاروں کی مشترکہ پیداوار کے پروگرام سے باہر کر دیا۔ تیسرا مرحلہ یہ تھا کہ ایک پیچیدہ بحرانی صورت حال پیدا ہوئی، جس کا سیاسی اور قانونی نتیجہ ترکی کو CAATSA پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنا تھا۔

یہ وہ بڑی رکاوٹ ہے جس نے آنکارا  اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات کو منجمد کر دیا۔ لیکن اب وزیر کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آنکارا اور امریکی حکومت کے درمیان اتفاق رائے ہے کہ اس نازک صورتحال کو پیچھے چھوڑ دیا جانا چاہیے۔

مشہور خبریں۔

وزیراعظم نے ملک میں چین جیسے جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہسپتال متعارف کرانے کی ہدایت

?️ 3 ستمبر 2025بیجنگ: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں چین جیسے جدید

ترکی اور اسرائیل کے تعلقات علاقائی سلامتی کے لیے اہم ہیں:ترک صدر

?️ 23 دسمبر 2021سچ خبریں:ترک صدر نے یہ بتاتے ہوئے کہ انقرہ اور تل ابیب

نیتن یاہو صرف وقت خریدنا چاہتا ہے،کسی بھی معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے

?️ 24 اگست 2025نیتن یاہو صرف خریدنا چاہتا ہیں،کسی بھی معاہدے کی راہ میں رکاوٹ

ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے نہیں رہیں گے:یمنی عہدیدار

?️ 28 اگست 2022سچ خبریں:یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے رکن نے کہا کہ ہمارے

صہیونی جیلیں فلسطینی بچوں کے لیے ذبح خانے

?️ 13 دسمبر 2022سچ خبریں:بچوں کی قاتل صیہونی حکومت فلسطینی بچوں کو بھی نہیں بخشتی

عمران خان سے ملاقات کا دن، 6 پی ٹی آئی رہنماؤں کی فہرست جیل حکام کو ارسال

?️ 10 دسمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) عمران خان سے ملاقات کیلئے تحریک انصاف نے

حلقہ بندیوں سے متعلق بلوچستان ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

?️ 18 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے عام انتخابات میں تاخیر کرنے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے