?️
امارات سے آنے والے دو جہاز بغیر اجازت یمن کی بندرگاہ المکلا میں داخل ہوئے:سعودی اتحاد کے ترجمان
یمن میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ترکی المالکی نے انکشاف کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والے دو بحری جہاز بغیر کسی سرکاری اجازت کے یمن کے مشرقی صوبے حضرموت کی بندرگاہ المکلا میں داخل ہوئے تھے۔ ان کے مطابق نہ تو یمن کی مستعفی حکومت اور نہ ہی اتحاد کی قیادت نے ان جہازوں کو بندرگاہ میں داخلے کی اجازت دی تھی۔
سعودی اتحاد کے ترجمان نے بتایا کہ یہ دونوں جہاز یمنی سمندری حدود میں داخل ہونے سے قبل اپنے ٹریکنگ اور شناختی نظام بند کر چکے تھے، جو بین الاقوامی اور مقامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بندرگاہ میں داخلے کے بعد معلوم ہوا کہ جہازوں میں 80 سے زائد فوجی گاڑیاں، اسلحہ اور گولہ بارود موجود تھا۔
ترکی المالکی کے مطابق جہازوں کی آمد کے وقت بندرگاہ المکلا کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا اور تمام مقامی کارکنان کو وہاں سے نکال دیا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اماراتی فریق نے سعودی عرب کو اطلاع دیے بغیر گاڑیوں، کنٹینرز اور اپنے اہلکاروں کو الریان فوجی اڈے منتقل کیا، جو کشیدگی کو ہوا دینے کے مترادف ہے۔
سعودی اتحاد کے ترجمان نے کہا کہ اماراتی حکام کو واضح طور پر آگاہ کر دیا گیا تھا کہ اس نوعیت کے اقدامات ناقابل قبول ہیں کیونکہ ان کا مقصد یمن میں جاری تنازعات کو مزید بھڑکانا ہے۔ ان کے بقول بعد ازاں گاڑیوں کو دوبارہ بندرگاہ واپس کر دیا گیا، جبکہ اسلحے سے بھرے کنٹینرز الریان اڈے پر ہی رکھے گئے ہیں۔
انہوں نے المکلا بندرگاہ پر اتحاد کی جانب سے کی گئی محدود فوجی کارروائی کا بھی ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی اس انداز میں کی گئی کہ انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور بندرگاہی تنصیبات کو نقصان نہ پہنچے۔ ان کا کہنا تھا کہ کارروائی کے دوران قواعدِ جنگ کی مکمل پاسداری کی گئی اور اس وقت بھی اسلحے کے کنٹینرز الریان اڈے پر موجود ہیں۔
یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ایک روز قبل سعودی حمایت یافتہ اتحاد نے المکلا بندرگاہ کے بعض حصوں پر بمباری کی تھی اور الزام عائد کیا تھا کہ فجیرہ کی بندرگاہ سے آنے والے دو جہاز بغیر اجازت یمن پہنچے اور انہوں نے جنوبی عبوری کونسل کی حمایت میں اسلحہ اتارا۔
ان واقعات کے بعد سعودی وزارت خارجہ نے ایک سخت بیان میں متحدہ عرب امارات سے مطالبہ کیا کہ وہ یمن کی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی کی درخواست پر فوری عمل کرتے ہوئے 24 گھنٹوں کے اندر اپنے تمام فوجی دستے یمن سے واپس بلائے اور یمن کے داخلی فریقوں کو ہر قسم کی فوجی اور مالی مدد بند کرے۔
سعودی بیان میں خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک کے درمیان بھائی چارے، حسن ہمسائیگی اور مضبوط تعلقات کی اہمیت پر زور دیا گیا اور امید ظاہر کی گئی کہ امارات ایسے اقدامات کرے گا جو یمن کے مفادات اور علاقائی استحکام کے لیے سودمند ہوں۔
تاہم اس بیان پر امارات کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ ابوظبی کی وزارت خارجہ نے سعودی موقف پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یمن کی اندرونی کشیدگی میں کسی بھی قسم کی مداخلت کی تردید کی اور کہا کہ بیان میں بنیادی غلطیاں شامل ہیں۔ امارات نے اس بات کو بھی مسترد کیا کہ وہ کسی یمنی فریق کو سعودی عرب کی سلامتی کے خلاف کارروائیوں کی ترغیب یا رہنمائی دے رہا ہے، اور ریاض کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی وابستگی کا اعادہ کیا۔
ادھر یمن میں زمینی صورتحال بھی تیزی سے بدل رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں جنوبی عبوری کونسل نے یمن کے جنوبی صوبوں کے بڑے حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور حضرموت میں پیش قدمی کرتے ہوئے شہر سیئون اور بعض تیل کے میدانوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ ان پیش رفتوں کے نتیجے میں سعودی حمایت یافتہ فورسز کو پسپائی اختیار کرنا پڑی ہے، جس سے نئے تصادم کے خدشات اور یمن کی ممکنہ تقسیم سے متعلق قیاس آرائیاں مزید تقویت پکڑ گئی ہیں۔


مشہور خبریں۔
’اسرائیلی اسپائی ویئر کمپنی نے واٹس ایپ صارفین کو نشانہ بنایا‘
?️ 1 فروری 2025سچ خبریں: میٹا کی مقبول واٹس ایپ چیٹ سروس کے ایک عہدیدار
فروری
حماس کی صیہونی حکومت کو ڈیڈ لائن
?️ 17 دسمبر 2022سچ خبریں:فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے رہنما یحییٰ السنوار نے
دسمبر
یورپی یونین کے رہنما کی 500 بلین یورو پر فیصلہ کرنے کے لیے میٹنگ
?️ 3 فروری 2025سچ خبریں: یورپی یونین کو اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور
فروری
قومی اسمبلی کا اجلاس 25 مارچ کو طلب
?️ 20 مارچ 2022اسلام آباد(سچ خبریں)اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے قومی اسمبلی کا اجلاس
مارچ
نواز شریف اور مریم نواز سے پی پی 52 سے لیگی امیدوار حنا ارشد وڑائچ کی ملاقات
?️ 26 مئی 2025لاہور (سچ خبریں) صدر پاکستان مسلم لیگ ن محمد نواز شریف اور
مئی
شامی حکومت نے اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی معاہدے کی خبروں کی تردید کر دی
?️ 25 اگست 2025شامی حکومت نے اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی معاہدے کی خبروں کی تردید
اگست
سعودی اور فرانسیسی کمپنیوں کے درمیان اربوں ڈالر کے سودے
?️ 5 دسمبر 2021سچ خبریں : فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کا سعودی عرب کا دورہ
دسمبر
بغاوت پر اکسانے کا کیس: فواد چوہدری کی ضمانت منظور
?️ 25 جنوری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے
جنوری