?️
سرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا، خطے میں ایک پرانی حکمتِ عملی کا نیا باب
اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو باضابطہ طور پر تسلیم کیے جانے کے فیصلے نے عرب، اسلامی اور افریقی دنیا میں شدید ردِعمل کو جنم دیا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف صومالیہ کی علاقائی سالمیت کے خلاف قرار دیا جا رہا ہے بلکہ اسے مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ میں اسرائیل کی ایک دیرینہ جیوپولیٹیکل حکمتِ عملی کا تسلسل بھی سمجھا جا رہا ہے، جسے پیرامونی ڈاکٹرائن کے نام سے جانا جاتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق، اسرائیل کا یہ فیصلہ محض ایک سفارتی قدم نہیں بلکہ ایک طویل المدتی اور منظم حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد عرب اور اسلامی دنیا کے اطراف کمزور، علیحدہ یا غیر مستحکم سیاسی اکائیوں کو تقویت دے کر خطے میں طاقت کے توازن کو اپنے حق میں تبدیل کرنا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حکمتِ عملی سب سے پہلے 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں وضع کی گئی، جب اسرائیل خود کو معاند عرب ریاستوں کے محاصرے میں محسوس کر رہا تھا۔ اس نظریے کے تحت اسرائیل نے عرب دنیا کے پیرامون یعنی اس کے اطراف موجود غیر عرب ممالک، نسلی و مذہبی اقلیتوں اور مرکزی حکومتوں سے ناراض علاقوں کے ساتھ تعلقات مضبوط کیے۔ ماضی میں ایران، ترکی، ایتھوپیا اور جنوبی سوڈان اس پالیسی کی نمایاں مثالیں رہے ہیں۔
جنوبی سوڈان کا قیام اسی ڈاکٹرائن کا ایک عملی نمونہ سمجھا جاتا ہے۔ اسرائیل نے برسوں تک خفیہ طور پر جنوبی سوڈان کے باغی گروہوں کی سیاسی، عسکری اور انٹیلی جنس سطح پر مدد کی، جس کے نتیجے میں 2011 میں سوڈان تقسیم ہوا۔ اگرچہ نیا ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا، تاہم اسرائیل کے نزدیک اس منصوبے کا بنیادی ہدف یعنی ایک بڑی عرب ریاست کو کمزور کرنا حاصل ہو گیا۔
اسی تناظر میں سومالی لینڈ کو بھی ایک نیا اسٹریٹجک اثاثہ قرار دیا جا رہا ہے۔ سومالی لینڈ نے 1991 میں یکطرفہ طور پر صومالیہ سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا، تاہم اسے اب تک عالمی سطح پر تسلیم نہیں کیا گیا۔ اسرائیل کی جانب سے اس خطے کو تسلیم کرنا اسے بین الاقوامی سطح پر جائز حیثیت دلانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سومالی لینڈ کی اصل اہمیت اس کے جغرافیائی محلِ وقوع میں ہے۔ اس کا ساحل خلیجِ عدن اور بحیرۂ احمر کے قریب واقع ہے اور باب المندب کی آبی گزرگاہ کے بالکل سامنے ہے، جو حالیہ برسوں میں اسرائیل اور یمن کے درمیان جیوپولیٹیکل کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ اس مقام تک رسائی اسرائیل کو یمن، ایران اور خطے میں سرگرم مزاحمتی قوتوں پر نظر رکھنے اور دباؤ بڑھانے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس عمل میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے کلیدی کردار ادا کیا۔ مبینہ طور پر موساد نے برسوں پہلے سومالی لینڈ میں پسِ پردہ روابط، سکیورٹی تعاون اور انٹیلی جنس نیٹ ورکس قائم کر لیے تھے، جس کے بعد باضابطہ سفارتی اعلان سامنے آیا۔ ماہرین کے مطابق اسرائیل میں اکثر خفیہ ادارے پہلے زمینی حقائق تیار کرتے ہیں اور بعد میں سیاسی فیصلے کیے جاتے ہیں۔
اسرائیل کے اس اقدام پر عرب لیگ، اسلامی تعاون تنظیم (OIC)، افریقی یونین اور متعدد ممالک نے شدید اعتراضات اٹھائے ہیں اور صومالیہ کی علاقائی خودمختاری کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سومالی لینڈ کو تسلیم کرنا عالمی نظام میں خطرناک مثال قائم کر سکتا ہے اور دنیا کے دیگر کمزور ممالک میں علیحدگی پسند تحریکوں کو تقویت دے سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، سومالی لینڈ کو تسلیم کرنا ایک بڑے اسٹریٹجک شطرنجی کھیل کا حصہ ہے، جس میں اسرائیل خفیہ سفارت کاری، انٹیلی جنس اثرورسوخ اور علاقائی اتحادوں کے ذریعے طویل المدتی غلبہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس حکمتِ عملی کو محض ایک خبر کے طور پر نظر انداز کرنا خطے میں مستقبل کی بڑی عدم استحکام کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہوگا۔

مشہور خبریں۔
فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کے سخت نتائج ہوں گے
?️ 20 اپریل 2021سندھ(سچ خبریں) گورنر سندھ عمران اسمٰعیل کانے فرانسیسی سفیر کے خلاف اسمبلی
اپریل
یمن نے سعودی بینکوں سے کیا مطالبہ کیا؟
?️ 23 جولائی 2023سچ خبریں:صنعاء کی حکومت نے سعودی عرب سے کہا کہ وہ یمنی
جولائی
اسرائیلی فوج کی دہشت گردی، درجنوں فلسطینی طلبہ کو گرفتار کرلیا
?️ 16 جولائی 2021تل ابیب (سچ خبریں) اسرائیلی فوج نے تازہ ترین دہشت گردی کی
جولائی
امریکہ نے لگائی ایران کے پیٹرو کیمیکل سیکٹر پر پابندیاں
?️ 1 اگست 2022سچ خبریں: امریکی محکمہ خزانہ نے پیر کے روز اعلان کیا کہ
اگست
ججز کے تبادلوں میں 4 مراحل پر عدلیہ کی منظوری لازمی ہے، سپریم کورٹ
?️ 26 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے ججز کے تبادلوں سے متعلق
مئی
پاکستان دہشت گردی کے خلاف دنیا کے لئے ایک ڈھال ہے۔ محسن نقوی
?️ 9 فروری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے
فروری
بھارتی حکومت کی جانب سے حریت کانفرنس پر پابندی، حریت رہنمائوں نے بھارتی ہتھکنڈوں کا مقابلہ کرنے کا اعلان کردیا
?️ 24 اگست 2021سرینگر (سچ خبریں) بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی
اگست
فلسطین اور غزہ کے عوام کی حمایت میں دنیا کے مختلف شہروں میں مظاہرے
?️ 28 اکتوبر 2023سچ خبریں:غزہ کی پٹی پر صیہونی حکومت کے وحشیانہ حملوں کے تسلسل
اکتوبر