اسرائیل کی تباہی کی نشانیاں ظاہر ہو چکی ہیں:سید حسن نصر اللہ

نشانیاں

?️

سچ خبریں:حزب اللہ کے جنرل سکریٹری نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ مزاحمتی تحریک کی ڈیٹرنس مساوات صیہونی دشمن کو لبنان کے خلاف کسی بھی جارحیت سے روکتی ہیں، کہا کہ فلسطین میں رونما ہونے والے واقعات غاصب حکومت کی تباہی کی نشانیاں ہیں۔

حزب اللہ کے سکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے اپنی تقریر میں شعبان کے مقدس مہینے کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کینسر کی وجہ سے جمعہ کی صبح اس دنیا سے چلے جانے والے اس تنظیم کے کمانڈر جنرل صالح کی وفات پر تعزیت پیش کی۔

سید حسن نصر اللہ نے مزید کہا کہ ہم خطے کی تمام اقوام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فلسطینی قوم اور ان کے قیدیوں کے ساتھ کھڑے ہوں، خاص طور پر اس مرحلے پر جب وہ صیہونی حکومت کی انتہا پسند کابینہ کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب صیہونی دشمن قیدیوں کو پھانسی دینے کا قانون منظور کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دشمن احمق ہے اس لیے کہ اس طرح کے اقدامات صیہونی قابض حکومت کی تباہی کی علامتیں ہیں۔

حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نے غاصبوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ائے بے وقوف صہیونیو، تمہارے اس فیصلے (قیدیوں کو پھانسی) سے فلسطینی مزاحمت کاروں کے جہادی کاروائیوں کے عزم اور ارادے میں اضافہ ہوگا۔ ہمیں حوارہ میں قابض حکومت کی بربریت کو ثابت کرنے کے لیے کسی ثبوت کی ضرورت نہیں، لیکن ہم دنیا کو بتاتے ہیں جو ہمیشہ ثبوت کی تلاش میں رہتی ہے کہ صہیونیوں کی حقیقت یہ ہے۔

انہوں نے لبنان کی سرحدوں پر غاصب صیہونی حکومت کی کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ دشمنوں کی طرف سے بلیو لائن پر تجاوزات کی کوششیں جاری ہیں اور ہم نے دیکھا کہ لبنان کے نہتے عوام نے بغیر کسی خوف کے بہادری کے ساتھ قابض حکومت کی فوج اور ٹینکوں کا مقابلہ کیا نیز لبنانی فوج اپنے افسروں اور سپاہیوں کے ساتھ قابض حکومت کے خلاف کھڑی ہوئی اور صہیونیوں کو سرحدوں پر تجاوزات سے روکا، انہوں نے کہا کہ یہ مناظر جو ہم نے لبنان کی سرحدوں پر دیکھے صیہونیوں کے خلاف ہماری مساوات کے بغیر رونما نہ ہوتے اور جو کچھ ہم نے دیکھا وہ لبنانی قوم، فوج اور مزاحمت کی مساوات کا مظہر تھا۔

صرف ایران اور شام مزاحمتی ڈیٹرنس مساوات کا دفاع کرتے ہیں
حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نے واضح کیا کہ یہ مساوات آج ہمارے ملک، زمین اور تیل اور گیس کے کنوؤں کی حفاظت کرتی ہے جو شہدا اور جانباز فوجیوں کے خون کی بدولت پیدا ہوئی، تاہم یہاں یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ صرف اسلامی جمہوریہ ایران اور شام نے لبنان کے دفاعی مساوات کے ساتھ کھڑے ہو کر اس کا دفاع کیا، انہوں نے کہا کہ صیہونی دشمن جنگ تموز میں 80 ہزار سے لے کر ایک لاکھ فوج کے ساتھ ہماری سرزمین میں داخل ہونا چاہتا تھا لیکن 33 دنوں میں وہ بنت جبیل اور عیتا میں بھی داخل نہ ہو سکا۔

مشہور خبریں۔

یکم دسمبر سے ڈھائی مہینے کیلئے سی این جی اسٹیشنز بند کرنے کا فیصلہ

?️ 29 نومبر 2021کراچی (سچ خبریں) سندھ اور بلوچستان کے تمام سی این جی اسٹیشنز

پاکستان نے صیہونی حکومت کے فضائی حملے کو نسل کشی قرار دے دیا

?️ 13 ستمبر 2024سچ خبریں: پاکستان کی وزارت خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے

پائیدار ترقی کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ احسن اقبال

?️ 25 اگست 2025لاہور (سچ خبریں) وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے

اسرائیل کا مقصد فلسطینیوں کو بے‌دفاع بنا کر نسل‌کشی کی راہ ہموار کرنا ہے:حماس

?️ 8 فروری 2026سچ خبریں:حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ خالد مشعل نے کہا ہے

امریکہ اور چین دنیا کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں:ہنری کسنجر

?️ 20 مئی 2023سچ خبریں:سابق امریکی وزیر خارجہ نے واشنگٹن اور بیجنگ کی حکومتوں کو

حماس اور فلسطینی اتھارٹی کے سربراہان کے درمیان تاریخی ملاقات

?️ 9 جولائی 2022سچ خبریں:الجزائر ٹی وی نے حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ اور

جہاں صیہونی ہیں وہاں سلامتی نہیں:ایرانی صدر

?️ 30 جون 2022سچ خبریں:اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے اس بات پر تاکید کرتے

صیہونی حکومت یمنی میزائلوں کے سامنے کیوں بے بس ہے؟ صیہونی میڈیا کی زبانی

?️ 23 دسمبر 2024سچ خبریں:صیہونی میڈیا نے یمنی میزائلوں کے خلاف تل ابیب کی ناکامی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے