اردوغان مسئلہ فلسطین کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

اردوغان

?️

سچ خبریں:    وائٹ ہاؤس میں بائیڈن ہیرس حکومت کی تاثیر ترکی کے اقتصادی مسائل میں اضافے اور مغربی ایشیا کے خطے میں ترک حکام کی حکمت عملی میں تبدیلی کے ساتھ، ملک کی خارجہ پالیسی منجمد تناؤ اور بہتری کی طرف بڑھی۔

آنکارا میں حکمت عملی کی اس تبدیلی کی ایک مثال اس ملک اور صیہونی حکومت کے درمیان تعلقات میں بہتری تھی۔ ترکی میں جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے قیام کے بعد سے رجب طیب اردوغان نے خود کو صیہونی مخالف سیاست دان اور فلسطینی عوام کا حامی ظاہر کیا ہے۔
صیہونی حکومت کی مذمت میں شاید ایک دیرپا تصویر اردگان کا ڈیووس اجلاس میں اسرائیل کے اس وقت کے صدر پر زبانی حملہ تھا۔ اب ترکی کی تل ابیب کی جغرافیائی سیاسی اور اقتصادی ضروریات خاص طور پر مشرقی بحیرہ روم میں گیس فیلڈز کے معاملے میں آنکارا کی پالیسیوں میں ایڈجسٹمنٹ اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی کا سبب بنی ہے۔ اس نوٹ کے تسلسل میں ہم مسئلہ فلسطین کے حوالے سے ترکی کی سیاست کی نوعیت اور صیہونی حکومت کے ساتھ اس ملک کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ کا جائزہ لینے کی کوشش کریں گے۔

صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا
بدھ، 17 اگست، 2022 کو اسرائیلی وزیر اعظم Yair Lapid نے ترکی کے ساتھ تعلقات کو مکمل طور پر معمول پر لانے اور سفارتی تعلقات کو سفارتی سطح پر اپ گریڈ کرنے کا اعلان کیا۔ ایک اعلیٰ صہیونی عہدے دار نے منگل کے روز یدیعوت احرونوت اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ تل ابیب اور ترکی ایک معاہدے کے قریب ہیں جس کے تحت اسرائیلی طیاروں کو برسوں کی پابندی کے بعد ترکی کے ہوائی اڈوں پر واپس جانے کی اجازت ہوگی۔ اس گفتگو کے تسلسل میں انہوں نے پیشین گوئی کی کہ آئندہ چند ہفتوں میں صیہونی حکومت کی تجارتی فضائی کمپنیوں کو ترکی کے ہوائی اڈوں پر اترنے کی اجازت دی جائے گی۔ ترکی میں صدر اردوغان سے صیہونی حکومت کے صدر کی ملاقات کے بعد اس خبر کا شائع ہونا کوئی عجیب اور غیر متوقع پیش رفت نظر نہیں آتی۔
2018 میں غزہ کی پٹی میں فلسطینی مظاہرین کی ہلاکت کے بعد آنکارا اور تل ابیب نے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا اور پھر ایک دوسرے کے خلاف سخت ترین تنقید کی۔ دونوں ممالک کے درمیان دشمنی کی گہرائی کا اندازہ شاید موساد کے سابق سربراہ کے بیانات سے ہوسکتا ہے۔ ایک نجی ملاقات میں یوسی کوہن نے اپنے عرب ہم منصبوں سے کہا کہ صیہونی حکومت اور خطے کے عرب ممالک کے مفادات کے خلاف سب سے بڑا خطرہ ایران نہیں بلکہ ترکی ہے۔

مشہور خبریں۔

حکومت نے چیف جسٹس کو مدت ملازمت میں توسیع دی تو پیپلز پارٹی مخالفت کرے گی، پیپلز پارٹی

?️ 26 مئی 2024کراچی: (سچ خبریں) پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے کہا کہ

فلسطین کو تسلیم کرنے پر اقوام متحدہ کے ارکان کا ردعمل

?️ 11 مئی 2024سچ خبریں: اقوام متحدہ کے ارکان نے فلسطین کی آزاد ریاست کے

سپریم کورٹ نے وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا جواب غیر تسلی بخش قرار دے دیا

?️ 27 اکتوبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) سپریم کورٹ آف پاکستان کراچی رجسٹری نے کراچی کے

جنوبی غزہ اور جنین شہر کے خلاف صیہونیوں کی تازہ ترین جارحیت

?️ 7 جنوری 2024سچ خبریں: غزہ کی پٹی کے جنوب اور مغربی کنارے پر صیہونی

امریکی تاریخ کا سب نفرت انگیز نائب صدر

?️ 27 جون 2023سچ خبریں:این بی سی کی جانب سے کرائے گئے نئے پولز کے

سیول: ایران کے خلاف ٹرمپ کا دعویٰ ثابت نہیں ہوا

?️ 6 مئی 2026سچ خبریں: جنوبی کوریا کی حکومت، جو واشنگٹن کے دباؤ میں آبنائے

اسرائیل نے جنگ بندی کی خلاف وزری کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر غزہ کی پٹی پر فضائی حملے شروع کردیئے

?️ 16 جون 2021غزہ (سچ خبریں) دہشت گرد ریاست اسرائیل نے جنگ بندی کی خلاف

امریکہ کی مہم جوئی نے سعودی اسٹاک مارکیٹ کے ساتھ کیا کیا؟:صیہونی میڈیا کی زبانی

?️ 2 فروری 2026سچ خبریں:خطے میں امریکی مہم جوئی اور ٹرمپ کے فیصلوں کے باعث

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے