جنوبی لبنان میں صیہونی جنگی اور انسانیت مخالف جرائم، بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

جنوبی لبنان

?️

سچ خبریں:ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی لبنان میں صہیونی حکومت کی جانب سے دیہات، رہائشی علاقوں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی بین الاقوامی قانون کے مطابق جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آ سکتی ہے، جس کے لیے آزادانہ تحقیقات کی ضرورت ہے۔

المیادین کے مطابق جنوبی لبنان میں صہیونی فوج کی جانب سے رہائشی علاقوں، دیہات اور بنیادی ڈھانچے کی منظم تباہی پر مبنی پالیسی کے حوالے سے بین الاقوامی قانون میں واضح قانونی بنیادیں موجود ہیں، جن کی روشنی میں عالمی برادری کی سنجیدہ کوشش کی صورت میں شیعہ آبادی کے خلاف صہیونی حکومت کے جنگی اور انسانیت مخالف جرائم کو ثابت کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی انسانی قانون صرف جنگ کے دوران شہریوں کی جانوں کے تحفظ تک محدود نہیں بلکہ ان کے اموال، اپنی سرزمین پر رہنے کے حق اور ان کے سماجی و ثقافتی روابط کے تحفظ کو بھی یقینی بناتا ہے، جو ان کی اجتماعی شناخت کی بنیاد ہوتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق چوتھے جنیوا کنونشن کی دفعہ 53 فوجی قبضے والے علاقوں میں نجی یا سرکاری املاک کی تباہی پر پابندی عائد کرتی ہے، سوائے ان حالات کے جہاں فوجی ضرورت ناگزیر ہو۔

اسی طرح بین الاقوامی فوجداری عدالت کے روم اساسنامے کی دفعہ 8 فوجی ضرورت کے بغیر بڑے پیمانے پر املاک کی تباہی یا ان پر قبضے کو جنگی جرم قرار دیتی ہے، جس پر انفرادی فوجداری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اسی اساسنامے کی دفعہ 7 کے مطابق آبادی کی جبری بے دخلی یا ان کے خلاف وسیع اور منظم ظلم و ستم انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آ سکتا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنوبی لبنان میں صہیونی حکومت کے اقدامات صرف عمارتوں، تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک منظم پالیسی کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جس کا مقصد دیہات کا مکمل خاتمہ، مقامی آبادی کی واپسی کو روکنا اور علاقے کی آبادیاتی و جغرافیائی حقیقت کو تبدیل کرنا ہے۔

صہیونی حکومت کے وزیر جنگ یسرائیل کاتس نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی لبنان کے لاکھوں شیعہ باشندے دوبارہ اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکیں گے۔ رپورٹ کے مطابق یہ بیان نسل کشی کی روک تھام اور سزا سے متعلق کنونشن کی دفعہ 2 کی روشنی میں غیر قانونی قرار دیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی عدالتی نظائر، خصوصاً بین الاقوامی فوجداری عدالت کے فیصلے، ریاستی حکام کے عوامی بیانات کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں اور متعدد مقدمات میں انہیں مجرمانہ نیت ثابت کرنے کے لیے اہم قرینہ قرار دیا گیا ہے۔

اس لیے جب وسیع پیمانے پر تباہی کے ساتھ کسی مخصوص آبادی کی واپسی روکنے یا اس کے وجود کے بنیادی عناصر کو ختم کرنے کے اعلانات بھی شامل ہوں تو ایسے بیانات جنوبی لبنان میں صہیونی پالیسی کے حقیقی مقاصد اور اس کی قانونی نوعیت کے تعین میں اہم ثبوت بن جاتے ہیں۔

قانونی نقطۂ نظر سے اگر کسی مخصوص گروہ کے خلاف وسیع یا منظم انداز میں جبری بے دخلی، واپسی سے محروم کرنا، شہری املاک کی تباہی اور زندگی کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنا ثابت ہو جائے تو یہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی واضح مثال ہو سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنوبی لبنان میں صہیونی حکومت کے اقدامات کا جائزہ لینے سے تین بنیادی عناصر نمایاں طور پر سامنے آتے ہیں، جن میں غیر فوجی دیہات اور رہائشی علاقوں کی وسیع پیمانے پر تباہی، شیعہ باشندوں کی واپسی نہ ہونے سے متعلق صہیونی حکام کے اعلانیہ بیانات، اور جنوبی لبنان میں شیعہ آبادی کے جغرافیائی علاقے کو نشانہ بنانا شامل ہیں۔ ان تمام عناصر کو یکجا کر کے دیکھا جائے تو صہیونی حکومت کی پالیسی اس کے اعلان کردہ سکیورٹی مقاصد سے کہیں آگے دکھائی دیتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی لبنان کے دیہات کی مکمل تباہی، ان کا صفحۂ ہستی سے مٹایا جانا، مقامی باشندوں کی واپسی کو روکنا اور اس کے ساتھ صہیونی حکام کے سرکاری بیانات بین الاقوامی قانون کی رو سے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب کے شبہے کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔

اس صورت حال میں نسل کشی کے امکان سے متعلق آزادانہ اور جامع تحقیقات ناگزیر ہیں، جس کے پیش نظر لبنان کی حکومت پر لازم ہے کہ وہ فریم ورک معاہدے کی شق 13 پر نظرثانی کرے۔

 

 

مشہور خبریں۔

اقوام متحدہ کی بچوں کی قاتل حکومت کی طرفداری

?️ 29 جون 2023سچ خبریں: اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے فلسطین سمیت

عمران خان نے ہم سے کوئی ذکر نہیں کیا کہ ان سے کسی اہم شخصیت کی ملاقات ہوئی ہے، علیمہ خان

?️ 17 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان

صیہونی آباد کار نیتن یاہو کے کس دعوے پر ہنستے ہیں؟

?️ 27 اپریل 2024سچ خبریں: سدیروت کی مقبوضہ بستی میں رہنے والے صہیونی آبادکاروں نے

غزہ پر اسرائیلی حملے ایک مکمل جنگی جرم ہے:حماس

?️ 25 اپریل 2026 سچ خبریں:اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے آج صبح سے غزہ کی

صہیونی فوج کو گزرتے دن کے ساتھ اپنی طاقت کم ہونے کا اعتراف

?️ 24 جولائی 2024سچ خبریں: عبرانی زبان کے میڈیا نے بدھ کو اعتراف کیا کہ

قومی ہیرو کا ملک میں بےمثال استقبال

?️ 11 اگست 2024سچ خبریں: پاکستان میں ہفتے کی رات اولمپیئن گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم

سعودی عدالت میں ایک بار پھر بے عدالتی کا مظاہرہ؛خاتون سماجی کارکن کو18 سال قید

?️ 26 ستمبر 2021سچ خبریں:سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کی ایک عدالت نے اس ملک

رائٹرز: بھارت پاکستان میں پانی کی آمد کو کم کرنا چاہتا ہے

?️ 16 مئی 2025سچ خبریں: رائٹرز نے ایک خصوصی رپورٹ میں لکھا ہے کہ کشمیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے