?️
سچ خبریں:اینٹی وار میں رون پال نے ایران کے خلاف جنگ جاری رہنے کو نومبر کے انتخابات میں ریپبلکن ارکان کے لیے سیاسی نقصان کا باعث بننے کا امکان ظاہر کیا ہے۔
تجزیاتی ویب سائٹ اینٹی وار نے ایران کے خلاف امریکی جنگ کے حوالے سے ریپبلکن پارٹی کے طرز عمل پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس تنازع کا جاری رہنا نومبر کے انتخابات میں ریپبلکن امیدواروں کے لیے سیاسی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
اینٹی وار میں رون پال کے تحریر کردہ تجزیہ میں کہا گیا ہے کہ بیشتر اشارے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ نومبر میں امریکی ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے ریپبلکن ارکان کو عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جماعتی مقبولیت سے متعلق بعض جائزوں میں ڈیموکریٹس کی نمایاں کامیابی اور ریپبلکن پارٹی کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول کھونے کے امکان کی نشاندہی کی گئی ہے۔
تاہم تجزیہ میں کہا گیا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کی کامیابی پر خوش ہونے کی بھی زیادہ وجہ نہیں ہے، اگرچہ موجودہ حکمران ریپبلکنز نے بڑی حد تک اپنے موجودہ مسائل خود پیدا کیے ہیں۔ تجزیہ نگار کے مطابق ریپبلکن ارکان نے جنگی اختیارات سے متعلق فیصلہ سازی میں آئین کے تحت کانگریس کو حاصل بنیادی کردار ادا کرنے سے گریز کیا ہے۔
ایران کے خلاف جنگ اور امریکی عوام کی مخالفت
رون پال کے مطابق، رواں سال کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ شروع کی، جسے تجزیہ نگار نے امریکہ کی تاریخ کی سب سے غیر مقبول جنگ قرار دیا ہے۔
تجزیہ کے مطابق ٹرمپ نے 28 فروری کو ایران پر بڑے پیمانے پر امریکی حملے کا حکم دیا، جبکہ ایران نے امریکہ پر حملہ نہیں کیا تھا اور نہ ہی اسے دھمکی دی تھی۔ تجزیہ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس برادری کا مؤقف بدستور یہ رہا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہیں کر رہا۔
یہ حملہ گزشتہ سال جون میں ایران پر امریکی بمباری کے بعد ہوا تھا۔ اس حملے کے بعد امریکی صدر نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر تباہ کردیا گیا ہے۔
تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکی کانگریس نے کئی دہائیوں سے صدر کو جنگ اور امن سے متعلق معاملات میں وسیع اختیارات استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔ ان کے مطابق جب عوام جنگ کے دوران حکومت کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں تو کانگریس کے ارکان بھی ذرائع ابلاغ اور بااثر گروہوں کی جانب سے فروغ دی جانے والی حب الوطنی سے سیاسی فائدہ اٹھاتے ہیں، لیکن جب عراق اور افغانستان کی جنگوں کی طرح کوئی جنگ برسوں تک جاری رہتی ہے اور کوئی واضح فتح حاصل نہیں ہوتی تو بہت سے سیاست دان یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ انہوں نے کبھی جنگ کی حمایت ہی نہیں کی تھی۔
ایران جنگ؛ اس بار حالات مختلف ہیں
رون پال کے مطابق اس مرتبہ صورتحال مختلف ہے۔ ان کے بقول جنگ سے قبل کوئی وسیع پیمانے کی تشہیری مہم نہیں چلائی گئی اور نہ ہی امریکی عوام کو جنگ کی حمایت پر آمادہ کرنے کی ایسی کوشش ہوئی جیسی 2003 میں عراق جنگ سے قبل کی گئی تھی۔
تجزیہ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی امریکی عوام کی اکثریت اس کی مخالف تھی اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ مخالفت مزید بڑھی ہے۔
تجزیہ کے مطابق جنگ طول پکڑنے کے دوران امریکی قومی قرض 40 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کرگیا، ڈیزل کی قیمت تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی اور متوسط و کم آمدنی والے طبقوں پر مہنگائی کا دباؤ بڑھ گیا۔
تجزیہ نگار کے مطابق ایک مرتبہ پھر ایسی جنگ کا وعدہ پورا نہیں ہوا جسے آسان اور بے ضرر قرار دیا گیا تھا۔
ریپبلکن ارکان کے لیے سیاسی دباؤ
رون پال کے مطابق موجودہ ریپبلکن ارکان، جو دوبارہ انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں، جنگ کے حوالے سے ووٹرز کے غصے کے باعث اس قدر پریشان ہیں کہ اپنی انتخابی مہمات کے دوران جنگ جلد ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
تاہم تجزیہ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ جب یہی ارکان واشنگٹن واپس پہنچتے ہیں تو ٹرمپ کے غصے کے خوف سے جنگ جاری رکھنے کے حق میں ووٹ دیتے ہیں۔
رون پال نے اس طرز عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا:
یہ قیادت نہیں ہے۔
ایران کی جانب سے مذاکراتی تجویز
تجزیہ کے مطابق گزشتہ ہفتے کے اختتام پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک میں موجود ایرانی وفد نے موجودہ صورتحال سے نکلنے کے لیے ایک تجویز پیش کی۔
رون پال کے مطابق یہ تجویز بنیادی طور پر اسی مفاہمت سے ملتی جلتی تھی جس پر ٹرمپ نے گزشتہ جون میں دستخط کیے تھے اور بعد میں اسے نظرانداز کردیا تھا، تاہم نئی تجویز میں عمل درآمد کے لیے مدت مختصر رکھی گئی تھی۔
تجزیہ میں کہا گیا ہے کہ اتوار تک امریکی صدر نے اعلان کردیا کہ وہ اس معاہدے کو مسترد کردیں گے، حالانکہ تجزیہ نگار کے مطابق یہ اسی نوعیت کا معاہدہ تھا جس پر ٹرمپ خود پہلے دستخط کرچکے تھے۔
جنگ کے لیے واضح حکمت عملی پر سوال
رون پال کے مطابق اس تباہ کن جنگ میں کامیابی کے لیے کوئی واضح حکمت عملی موجود نہیں ہے۔
ان کے بقول امریکی حکومت نے ابتدا میں ایران کی قیادت کو ختم کرنے کے لیے فوجی حملوں کی کامیابی پر بہت زیادہ انحصار کیا، اس کے بعد فوری فوجی فتح کی امید ظاہر کی، جبکہ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ ایران کی معیشت کو مفلوج کرکے جنگ جیتی جائے گی۔
تجزیہ نگار کے مطابق مسئلہ یہ ہے کہ ایران کئی دہائیوں سے سخت پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے اور اقتصادی دباؤ برداشت کرنے کی اس کی صلاحیت کافی زیادہ ہے۔
دونوں جماعتوں کی جنگی پالیسی پر تنقید
رون پال نے واشنگٹن کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کو جنگ کے حوالے سے سخت گیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسی وجہ سے ریپبلکن پارٹی کی ممکنہ انتخابی شکست پر خوش ہونا بھی مشکل ہے۔
تاہم ان کے مطابق بعض اوقات انتخابی شکست ایک خطرے کی گھنٹی کا کردار ادا کرسکتی ہے۔
تجزیہ کے اختتام پر رون پال نے امید ظاہر کی ہے کہ شاید مستقبل میں جنگ مخالف ریپبلکن رہنما دوبارہ نمایاں ہوں اور امریکی آئین میں دیے گئے اختیارات اور ذمہ داریوں پر دوبارہ عمل درآمد کی طرف واپسی ہوسکے۔


مشہور خبریں۔
وزیر اعظم کی ملکی برآمدات کو مزید مسابقتی بنانے کے حوالے سے فوری اقدامات کی ہدایت
?️ 10 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف نے ملکی برآمدات کو
مئی
قائد اعظم کے یومِ وفات پر وزیرِ اعلیٰ سندھ، گورنر کی مزار پر حاضری
?️ 11 ستمبر 2021کراچی (سچ خبریں) بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح ؒ کے
ستمبر
صہیونی افواج کی ایک بار پھر شام کی سرزمین میں دراندازی
?️ 31 دسمبر 2025 صہیونی افواج کی ایک بار پھر شام کی سرزمین میں دراندازی
دسمبر
صیدنایا جیل میں پریس مشین یا خفیہ کمرے ہونے کی افواہیں
?️ 17 دسمبر 2024سچ خبریں:صیدنایا جیل کے قیدیوں کے کمیٹی کے سربراہ دیاب سریہ نے
دسمبر
کوئٹہ: قبضہ مافیا کے خلاف آپریشن میں پولیس اورمسلح افراد میں تصادم
?️ 6 اکتوبر 2024کوئٹہ: (سچ خبریں) صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں غیرقانونی طور پر
اکتوبر
وزیر اعظم ایک بار پھربراہ راست عوام کے سوالات کے جوابات دیں گے
?️ 25 اگست 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان ایک بار پھراتوار کو عوام
اگست
امام خمینی کا سب سے بڑا کارنامہ
?️ 5 جون 2021سچ خبریں:ایران کے روحانی پیشو اور اسلامی انقلاب کے رہبر آیت اللہ
جون
قدس کی حقیقیت کو بدلنے میں صیہونی حکومت کی کوششیں ناکام
?️ 3 مارچ 2022سچ خبریں: حماس نے مقبوضہ بیت المقدس میں صیہونیوں کے جارحانہ اقدامات
مارچ