ایران جنگ میں اسرائیل سب سے بڑا نقصان اٹھانے والا فریق کیوں قرار پایا؟

اسرائیل

?️

سچ خبریں:الجزیرہ نے ایران کے خلاف امریکی۔صہیونی جنگ کے سوویں روز شائع ہونے والے تجزیے میں اسرائیل کو اس جنگ کا سب سے بڑا نقصان اٹھانے والا فریق قرار دیا ہے، رپورٹ میں جنگی اہداف، عسکری نقصانات، سیاسی اثرات اور خطے کی بدلتی طاقت کے توازن کا جائزہ لیا گیا ہے۔

الجزیرہ نیوز چینل نے حالیہ علاقائی جنگ میں طاقت کے توازن اور فتح و شکست کے معیارات کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکہ اور صہیونی ریاست کی جانب سے ایران پر حملے کے آغاز کو تین ماہ سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ان وجوہات کا دوبارہ جائزہ لیا جائے جو جنگ کے آغاز میں اس حملے کے لیے پیش کی گئی تھیں۔

اس وقت دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے قریب پہنچ چکا ہے اور اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے نہ صرف جوہری صلاحیتوں کا خاتمہ ضروری ہے بلکہ ملک کی اعلیٰ قیادت کو بھی ختم کرنا اور ایران کے نظامِ حکومت میں تبدیلی لانا بھی ضروری ہے۔

ان اہداف کے ساتھ ساتھ یہ بھی منصوبہ تھا کہ ایران کی دیگر عسکری صلاحیتیں، جن میں فضائی اور بحری افواج، میزائل فورس، ڈرون صلاحیتیں اور میزائل لانچنگ پلیٹ فارم شامل ہیں، مکمل طور پر تباہ کر دیے جائیں۔

جنگ کے آغاز کے بعد جب ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا، جہاں سے دنیا میں استعمال ہونے والے تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کے علاوہ کھاد اور ہیلیم جیسی اہم مصنوعات گزرتی ہیں، تو اس آبی گزرگاہ کو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولنا بھی امریکہ کے اہم اہداف میں شامل ہو گیا۔

یہ وہ مجموعی اہداف تھے جن کے حصول کے لیے امریکہ اور صہیونی ریاست نے ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا، لیکن موجودہ زمینی حقائق ان مقاصد سے بالکل مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق اگرچہ حملے کے ابتدائی گھنٹوں میں ایران کے متعدد اعلیٰ عہدیدار شہید ہوئے، جن میں آیت اللہ خامنہ ای بھی شامل تھے، تاہم ایران کے حکومتی ڈھانچے میں کوئی نمایاں عدم استحکام پیدا نہیں ہوا اور نئی قیادت نے فوری طور پر انتظامی اور عسکری ذمہ داریاں سنبھال لیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ صیہونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جو وعدے کیے تھے، ان کے برعکس موساد ایران کی سڑکوں پر ایسی وسیع بدامنی پیدا کرنے میں ناکام رہی جو نظامِ حکومت کے خاتمے کا سبب بن سکتی۔

الجزیرہ لکھتا ہے کہ ایران نے دونوں فریقوں کے درمیان موجود بڑے عسکری فرق کو سمجھتے ہوئے ایک متبادل حکمت عملی اختیار کی، جس کے تحت جدید جنگی طیاروں اور مہنگے فضائی حملہ آور نظاموں کے بجائے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز پر انحصار کیا گیا، جنہیں ملک کے اندر نسبتاً کم لاگت پر تیار کیا جا سکتا ہے۔

عسکری میدان میں بھی اگرچہ امریکہ نے ایران کی بحری قوت کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا، لیکن تہران نے تیز رفتار حملہ آور کشتیوں پر انحصار بڑھا دیا جو بڑے بحری جہازوں تک دھماکہ خیز مواد پہنچانے اور سمندری بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اس وقت ایسی ہزاروں کشتیاں تیار کی جا چکی ہیں جنہیں مچھر بیڑا کہا جاتا ہے اور ان کی نگرانی سپاہ پاسداران کے پاس ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنگی واقعات نے اس حکمت عملی کی مؤثریت ثابت کر دی۔ ایران نے فضائی اور بحری محاذ پر غیر متناسب عسکری صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دشمن کو ایسے نقصانات پہنچائے جن کا اسے جنگ کے آغاز میں تصور بھی نہیں تھا۔

ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور شاہد طرز کے ڈرونز نے مقبوضہ علاقوں کی فضاؤں میں داخل ہو کر صہیونی ریاست کے کثیر سطحی فضائی دفاعی نظام، جن میں آئرن ڈوم، ڈیوڈ سلنگ اور ایرو 2 اور ایرو 3 نظام شامل تھے، کو عبور کیا۔

ان میں سے متعدد میزائل مقبوضہ علاقوں کے حساس مقامات تک پہنچے، جن میں ڈیمونا کا علاقہ بھی شامل تھا جہاں اسرائیل کی جوہری تنصیبات واقع ہیں، اور وہاں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچا۔

الجزیرہ کے مطابق واضح طور پر امریکہ اور اسرائیل جنگ کے آغاز میں طے کیے گئے اپنے کسی بھی بنیادی مقصد کو حاصل نہیں کر سکے۔ ایران میں مطلوبہ سیاسی تبدیلی واقع نہیں ہوئی، ایران اب بھی عسکری کارروائیوں کی صلاحیت رکھتا ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ تہران آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے بند رکھنے میں کامیاب رہا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ ان نقصانات میں جدید ترین تھاڈ میزائل دفاعی نظام کو نقصان پہنچانا بھی شامل ہے، جس کے صرف آٹھ نظام دنیا بھر میں امریکی اڈوں پر موجود ہیں اور ہر نظام کی مالیت تقریباً ایک ارب ڈالر ہے۔

اسی طرح 42 امریکی طیاروں کی تباہی، جن میں ایف 15، ایف 35 جنگی طیارے اور ایک آواکس جاسوس طیارہ شامل تھا، امریکی نقصانات کا حصہ قرار دی گئی۔ آواکس طیارے کی مالیت 700 ملین ڈالر سے زیادہ بتائی گئی ہے۔

اس کے علاوہ ٹام ہاک حملہ آور میزائلوں اور پیٹریاٹ دفاعی میزائلوں کے استعمال پر آنے والی بھاری لاگت کو بھی جنگی اخراجات میں شامل کیا گیا ہے۔

اگرچہ پینٹاگون نے کانگریس کو پیش کی گئی اپنی رپورٹ میں جنگ کی لاگت صرف 29 ارب ڈالر بتائی ہے، لیکن موڈیز سمیت متعدد آزاد اداروں کا خیال ہے کہ یہ جنگ امریکی عوام کو اب تک 100 ارب ڈالر سے زیادہ مہنگی پڑ چکی ہے۔

الجزیرہ کے مطابق اگر عسکری اور اقتصادی میدان سے ہٹ کر سیاسی اثرات کا جائزہ لیا جائے تو جنگ کے اثرات امریکہ کے اندر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں شدید کمی کی صورت میں ظاہر ہوئے ہیں، جس کے آئندہ وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی پر منفی اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بھی اسرائیل کو سنگین سیاسی نتائج کا سامنا ہے اور دنیا کے بیشتر ممالک کی سرکاری اور عوامی سطح پر اس کی پالیسیوں کے خلاف تنقیدی مؤقف مزید نمایاں ہوا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ امریکہ کی مکمل ہم آہنگی نے بھی امریکی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ اب یہ سوال سنجیدگی سے زیر بحث ہے کہ آیا اسرائیل اپنے مقاصد کے حصول کے لیے امریکہ کو استعمال کر رہا ہے، چاہے اس کے نتیجے میں امریکی مفادات کو نقصان ہی کیوں نہ پہنچے۔

الجزیرہ کے مطابق امریکی معاشرے کا ایک بڑا طبقہ، خصوصاً چالیس سال سے کم عمر نوجوان نسل، اب اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقیدی مؤقف اختیار کر چکی ہے۔

مشہور خبریں۔

خطے کے استحکام میں شہید ابراہیم رئیسی اور امیر عبداللہیان کیا کردار رہا

?️ 21 مئی 2024سچ خبریں: ہیلی کاپٹر حادثے کے دردناک حادثے میں آیت اللہ سید ابراہیم

بلوچستان کے وزیر اعلی کا نئی حکومت کے بارے میں اہم بیان دیا

?️ 17 ستمبر 2021کوئٹہ (سچ خبریں)  تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے

صیہونی حکومت کے خلاف مشترکہ آپریشن میں یمنیوں کے اہداف کیا ہیں؟

?️ 26 جولائی 2024سچ خبریں: لبنانی اخبار الاخبار کے مطابق غزہ میں فلسطینی قوم کی

ٹرانس جینڈر بچوں کیلئے چائلڈ پروٹیکشن یونٹ قائم کیا جائے، وفاقی شرعی عدالت

?️ 15 دسمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی شرعی عدالت نے ٹرانسجینڈر پرسن (حقوق کا

جارحین نے جیلوں اور قبرستانوں کو بھی نہیں بخشا:انصاراللہ

?️ 21 ستمبر 2022سچ خبریں:یمن کی انصاراللہ تحریک کے رہنما نے 21 ستمبر کو ہونے

روس کا افریقی ممالک کی طرف جھکاؤ

?️ 6 اگست 2023سچ خبریں: روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے اعلان کیا کہ یہ

برکس کیا کرنے والا ہے؟

?️ 21 اگست 2023سچ خبریں: چینی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ

الیکشن کے بعد تمام سیاسی جماعتیں مل کر رول آف گیم طے کریں، بلاول

?️ 3 فروری 2024جیکب آباد: (سچ خبریں) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے