?️
سچ خبریں:امریکی ویب سائٹ پولیٹیکو نے سعودی عرب کی درخواست پر یمن کی جنگ میں دوبارہ براہِ راست شامل ہونے سے ڈونلڈ ٹرمپ کی ہچکچاہٹ کی عملی، فوجی اور سیاسی وجوہات کا جائزہ لیا ہے۔
پولیٹیکو: ٹرمپ یمن کی جنگ میں شامل ہونے سے کیوں خوفزدہ ہیں؟
امریکی جریدے پولیٹیکو نے سعودی عرب کی درخواست پر یمن کی جنگ میں براہِ راست شامل ہونے سے ڈونلڈ ٹرمپ کے گریز کی وجوہات کا جائزہ لیا ہے۔
پولیٹیکو کی خارجہ پالیسی کی سینئر صحافی ناہال توسی نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ امریکہ کے یمن کی جنگ میں داخل ہونے سے گریز کے پیچھے عملی، فوجی اور سیاسی وجوہات موجود ہیں۔ ان میں سے بعض وجوہات واشنگٹن کی جانب سے ایک نئے محاذ کو کھولنے سے گریز کی وضاحت کرتی ہیں۔
ایران کے محاذ پر جنگ کی پیچیدگیاں
رپورٹ کے مطابق پہلی وجہ یہ ہے کہ ٹرمپ اس وقت ایران کے ساتھ ایک انتہائی پیچیدہ محاذ کا سامنا کر رہے ہیں۔ تہران کے ساتھ جنگ ابھی کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچی، اس لیے ایران کی حمایت اور اسلحہ حاصل کرنے والے حوثیوں کے ساتھ ایک نئی محاذ آرائی میں داخل ہونا جنگ کا دائرہ وسیع کرنے کے مترادف ہوسکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران کے ساتھ جاری جنگ اب بھی غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہے۔
یمن میں سابقہ ناکامی کا تجربہ
پولیٹیکو نے یمن کے لیے امریکہ کے سابق خصوصی نمائندے ٹم لینڈرکنگ کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ بات قابلِ فہم ہے کہ ٹرمپ اس وقت ایک اور محاذ کھولنے میں دلچسپی کیوں نہیں رکھتے۔
رپورٹ کے مطابق دوسری وجہ یمن میں انصاراللہ کے خلاف امریکہ کے سابقہ تجربے سے متعلق ہے۔ گزشتہ سال امریکی فوج کی جانب سے کیے گئے فضائی حملوں کا اثر محدود رہا تھا، جبکہ اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ یمنی افواج نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔
ٹم لینڈرکنگ کے مطابق دوبارہ طاقت کا استعمال بھی شاید کوئی فیصلہ کن نتیجہ حاصل نہ کرسکے، خاص طور پر اس لیے کہ انصاراللہ نے گزشتہ برسوں کے دوران اپنی فوجی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
انہوں نے ایک مغربی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ یمنی افواج نے میزائلوں میں تبدیلیاں کرنے، رہنمائی کے نظام کو بہتر بنانے اور اپنے ہتھیاروں کی مار بڑھانے کی صلاحیت میں مسلسل بہتری پیدا کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران کی جانب سے اسلحے کی فراہمی روکنے سے اگرچہ ان کی فوجی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے، لیکن ضروری نہیں کہ ان کی صلاحیت مکمل طور پر مفلوج ہوجائے۔
امریکہ کو اسلحے کی قلت کا سامنا
رپورٹ کے مطابق امریکہ کو ایک اور مشکل کا بھی سامنا ہے، اور وہ گولہ بارود اور فوجی ذخائر کی کمی ہے، جو ایران کے ساتھ جنگ کے باعث مزید سنگین ہوئی ہے۔
ایسے میں انصاراللہ کے خلاف ایک نیا فوجی آپریشن شروع کرنا امریکی فوجی ذخائر پر مزید دباؤ ڈال سکتا ہے، جبکہ یہ ذخائر پہلے ہی ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث دباؤ میں ہیں۔
انصاراللہ ایران کی محض آلۂ کار نہیں
پولیٹیکو نے موجودہ اور سابق امریکی عہدیداروں کے حوالے سے لکھا ہے کہ یمن کی انصاراللہ ایران کے ہاتھ میں محض ایک آلہ نہیں بلکہ اس کی ایک شراکت دار ہے۔ انصاراللہ کا اپنا مخصوص سیاسی اور عسکری ایجنڈا بھی ہے، جس کی وجہ سے اس کے خلاف فوجی کارروائی مزید پیچیدہ ہوجاتی ہے۔
ٹرمپ یمنی فریق کی اس یقین دہانی پر بھی زور دیتے ہیں کہ وہ امریکی بحری جہازوں کو نشانہ نہیں بنائیں گے۔ یہی ان وجوہات میں سے ایک ہے جن کی بنا پر ٹرمپ گزشتہ سال واشنگٹن اور یمنی فریق کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی پر قائم رہنے کے لیے آمادہ ہیں۔
دوسری جانب امریکہ خفیہ معلومات کے تبادلے اور اسلحے کی فروخت کے ذریعے سعودی عرب کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم یہ تعاون لازماً اس بات کا مطلب نہیں کہ امریکی افواج دوبارہ براہِ راست یمن کی جنگ میں داخل ہوں گی۔


مشہور خبریں۔
امریکہ کا افغانستان کے منجمد اثاثے جاری نہ کرنے کا اعلان
?️ 16 اگست 2022سچ خبریں:امریکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن افغانستان کے ضبط
اگست
اسرائیلی میڈیا نے لیزر ڈیفنس سسٹم کی لاگت کا انکشاف کیا ہے
?️ 31 دسمبر 2025سچ خبریں: عبرانی زبان کے ایک میڈیا آؤٹ لیٹ نے انکشاف کیا
دسمبر
صہیونی فوج کے 100 اعلیٰ افسروں کی شناخت ظاہر کرنے پر حنظلہ کا بیان
?️ 26 اپریل 2026 سچ خبریں:ہیکنگ گروپ حنظلہ نے ایک بیان میں صہیونی حکومت کی
اپریل
جنیوا دورے پر کروڑوں ڈالر خرچ کرنے پر پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت پر کڑی تنقید
?️ 10 جنوری 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف سمیت وفاقی کابینہ کے دیگر اراکین
جنوری
تائیوان کا امریکہ سے 619 ملین ڈالر کا اسلحہ لینے کا اعلان
?️ 4 مارچ 2023سچ خبریں:تائیوان کی فوج کو امریکہ سے619 ملین ڈالر کا اسلحہ ملے
مارچ
شاہ محمود قریشی افغانستان سے متعلق ہمسایہ ممالک کے تیسرے اجلاس میں شرکت کے لیے چین روانہ
?️ 29 مارچ 2022اسلام آباد(سچ خبریں)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے چین روانہ ہوتے ہوئے
مارچ
اسرائیل کا الصمود بیڑے پر حملہ دہشت گردی اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے:ترکی
?️ 2 اکتوبر 2025 اسرائیل کا الصمود بیڑے پر حملہ دہشت گردی اور بین الاقوامی قوانین
اکتوبر
ٹرمپ اور ایلون مسک کیوں آمنے سامنے آئے؟
?️ 7 جون 2025 سچ خبریں:ٹرمپ اور ایلون مسک کے درمیان ٹیکس لایحہ پر اختلافات
جون