اسرائیل لبنان پر اتنے شدید حملے کیوں کر رہا ہے؟

لبنان

?️

سچ خبریں:الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق صیہونی حکومت نے لبنان کے جنوب میں اپنی جنایات اور راکٹ حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے۔ نیتن یاہو کے اس اقدام کے پیچھے اسٹریٹجک اور ذاتی وجوہات ہیں۔

صیہونی حکومت نے حالیہ دنوں میں جب امریکی حلقے تل ابیب اور بیروت کے درمیان براہ راست مذاکرات کی باتیں کر رہے تھے، لبنان کے مختلف علاقوں پر اپنی حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے۔

الجزیرہ کے مطابق، جنوبی لبنان میں صیہونی حکومت کی جارحیت، میزائل حملوں اور جنایات کا سلسلہ خطے میں تنازعات کے پھیلاؤ اور امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے آئندہ مذاکرات کی رفتار پر اس کے اثرات کے خدشات کے درمیان جاری ہے۔

 یہ اس وقت ہو رہا ہے جب صیہونی حکومت نے لبنان میں اپنی فوجی کارروائیوں کو تیز کر دیا ہے اور شمالی محاذ پر نام نہاد "فیصلہ کُن فتح” کے حصول کے لیے جنگ کا دائرہ بڑھانے کی دھمکی دی ہے۔

الجزیرہ کے رام اللہ بیورو کے ڈائریکٹر ولید العمری نے صیہونی حکومت کے اس دعوے کے حوالے سے جو بیروت میں حزب اللہ کی القوت الرضوان کے کمانڈر احمد بلوط کے قتل کا دعویٰ کرتا ہے، بتایا کہ یہ حملے ایک خطرناک سنگ میل تھے جس کی وجہ سے جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیوں میں توسیع ہوئی۔

انہوں نے اس اقدام کو صیہونی حکومت کی واشنگٹن میں مذاکرات کے اگلے دور سے قبل میدانی حقائق مسلط کرنے کی کوشش قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ تل ابیب امریکہ کے ایران کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے سے فکر مند ہے جو شاید لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو محدود کر سکتا ہے۔ انہیں حزب اللہ کے غیر مسلح کیے بغیر جنگ کے خاتمے کے اپنے سیاسی مستقبل اور آئندہ انتخابات پر پڑنے والے اثرات کا بھی خدشہ ہے۔

اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ صیہونی حکومت نے حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان میں اپنی فوجی کارروائیوں میں شدت پیدا کر دی ہے، جن میں دیہات کی تباہی کے کاموں میں توسیع اور لیتا نی دریا سے آگے کے علاقوں تک "پیلی لکیر” کی گہرائی میں اضافہ شامل ہے۔ اس کا مقصد ایک ایسی میدانی حقیقت کو مستحکم کرنا ہے جو آئندہ مذاکرات میں اسرائیل کے حق میں ہو۔

بڑھتا ہوا غصہ 

الجزیرہ کے رام اللہ بیورو کے ڈائریکٹر نے کہا کہ نیتن یاہو اسٹریٹجک اور ذاتی وجوہات کی بنا پر جو اندرونی انتخابات سے منسلک ہیں، جنگ کو طول دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی حلقے لبنان، غزہ، یمن اور ایران میں کھلی محاذوں کے درمیان رابطہ قائم کر رہے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ حزب اللہ اور حماس کی تحریک کو غیر مسلح کرنے جیسے اہداف کے حصول کے بغیر جنگ کا خاتمہ سیاسی اور فوجی شکست تصور کیا جائے گا۔

العمری نے ایران کے ساتھ جنگ کے امکانات کے حوالے سے بتایا کہ تل ابیب ایران پر حملوں کی بحالی اور اس کے تیل کے اداروں اور معاشی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ مذاکرات کے ذریعے اس کیس کے حل میں رکاوٹ پیدا کی جا سکے۔

مشہور خبریں۔

لبنان میں جنگ بندی کے لیے اسرائیلی وزیر جنگ کی ناممکن شرائط

?️ 12 نومبر 2024سچ خبریں:اسرائیل کے نئے وزیر جنگ یسرائیل کاٹزنے لبنان میں جنگ بندی

حکومت کا لگژری اشیاء کی درآمد پر پابندی ختم کرنے کا اعلان

?️ 18 اگست 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان مسلم لیگ ن کی مخلوط حکومت کی

صنعا نے ریاض کو خبردار کیا: یمن پر اقتصادی دباؤ باہمی ردعمل لائے گا

?️ 28 اکتوبر 2025سچ خبریں:  یمن میں سعودی کرائے کی اور کٹھ پتلی حکومت نے

اقوام متحدہ میں صیہونی نمائندے کی یمنیوں کو دھمکی

?️ 31 دسمبر 2024سچ خبریں:اقوام متحدہ میں صیہونی حکومت کے نمائندے نے سلامتی کونسل کے

بھارت کا غرور خاک میں مل گیا، کشمیر، پاکستان یک جان ہیں۔ حافظ نعیم

?️ 16 مئی 2025مظفرآباد (سچ خبریں) امیر جماعت اسلامی بھارت کا غرور خاک میں مل

اسرائیل اور سعودی عرب کو معمول پر لانے میں کافی وقت لگے گا: بائیڈن

?️ 14 جولائی 2022سچ خبریں:   امریکی صدر نے ایک صیہونی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے

جب تک امریکہ اسرائیل کی مدد کرتا رہے گا تباہی جاری رہے گی:امریکی رکن کانگریس

?️ 25 فروری 2023سچ خبریں:امریکی کانگریس کی فلسطینی نژاد رکن راشدہ طلیب نے صیہونی حکومت

سعودی عرب نے اسرائیل کو بحیرہ احمر تک کی اجازت دی

?️ 13 نومبر 2021سچ خبریں:  بحیرہ احمر امریکی بحریہ اور صیہونی حکومت اور نئے نارملائزرز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے