?️
سچ خبریں:ایک تجزیے کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ اس لیے ناکام ہوئی کہ جدید دور میں عسکری طاقت اکیلے سیاسی نتائج کی ضمانت نہیں دے سکتی، جبکہ ایران نے غیر متناسب حکمت عملی سے مزاحمت کا نیا ماڈل پیش کیا۔
ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ اس بات کی واضح مثال ہے کہ جدید بین الاقوامی سیاست میں صرف عسکری برتری سیاسی کامیابی کی ضمانت نہیں رہی۔
رپورٹ کے مطابق روایتی نظریات اب بھی اہم ہیں اور طاقت کا توازن مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، تاہم طاقت کے استعمال کے نتائج پہلے کی نسبت زیادہ غیر یقینی ہو چکے ہیں۔
اب دباؤ، پابندیاں اور فوجی کارروائیاں پہلے جیسے سیدھے اور واضح نتائج پیدا نہیں کرتیں۔
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ بظاہر زیادہ طاقتور اتحاد، جس میں امریکہ، اسرائیل اور خلیجی عرب ممالک شامل تھے، اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا، حالانکہ اس کا ہدف ایران کو تیزی سے کمزور کرنا اور اسے فیصلے پر مجبور کرنا تھا۔
اس حکمت عملی کے تحت یہ توقع کی گئی تھی کہ بیرونی دباؤ کے نتیجے میں تہران جلد جھک جائے گا، تاہم صورتحال اس کے برعکس رہی اور ایران نے غیر متوقع لچک کا مظاہرہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے حملوں کے بعد نہ صرف اپنی حکمت عملی کو ازسرنو منظم کیا بلکہ بعض سابقہ پابندیوں کو ختم کرتے ہوئے مزید فعال ردعمل دیا۔
تجزیہ یہ بھی بتاتا ہے کہ ایران نے غیر متناسب جوابی حکمت عملی اختیار کی، جس کے تحت اس نے براہ راست فوجی برابری کے بجائے دستیاب وسائل کو مختلف انداز میں استعمال کیا۔
اس حکمت عملی کے چند اہم پہلو یہ بتائے گئے ہیں کہ ایران نے اسٹریٹجک آبی گزرگاہوں پر دباؤ بڑھایا، خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا، محدود وسائل کے باوجود مؤثر عسکری صلاحیت دکھائی اور طویل عرصے تک نقصان برداشت کرنے کی صلاحیت ظاہر کی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس تنازع کے بعد کوئی بھی بنیادی مسئلہ حل نہیں ہوا اور تمام فریق ایک بار پھر مذاکرات کی طرف لوٹ گئے ہیں، جہاں ایران کی سفارتی حکمت عملی کو زیادہ صبر اور سخت مؤقف پر مبنی قرار دیا گیا ہے۔
تجزیے کے مطابق جنگ کے نتیجے میں طاقت کے استعمال سے سیاسی اہداف حاصل کرنے کی صلاحیت کمزور ہوئی ہے، جبکہ کمزور فریق کی مزاحمت کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ کی عالمی برتری بھی نسبتا کمزور ہوئی ہے، اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب براہ راست بڑے پیمانے پر فوجی تصادم سے گریز کرتے دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ اس کے نتائج غیر یقینی اور مہنگے ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا وہ پورا ڈھانچہ جس کی بنیاد امریکہ نے علاقائی اتحادوں اور اسرائیل-عرب تعاون پر رکھی تھی، اب کمزور ہو رہا ہے، جبکہ ایران کو مکمل طور پر نظام سے باہر کرنے کا منصوبہ ناکام ہو چکا ہے۔
تجزیے کے مطابق موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ خطے میں طاقت کے ذریعے مکمل فیصلے مسلط کرنے کا دور بتدریج ختم ہو رہا ہے اور مستقبل کی جنگیں زیادہ پیچیدہ، غیر یقینی اور کم قابلِ کنٹرول ہوں گی۔


مشہور خبریں۔
ٹرمپ کی واپسی اسرائیلیوں کے لیے بھی اچھی خبر نہیں؛ وجہ؟
?️ 17 نومبر 2024سچ خبریں: یہ وہ تشریح ہے جو گولن فریلخ نے امریکی صدارتی
نومبر
جماعت اسلامی کا آئی پی پی معاہدوں کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان
?️ 3 ستمبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے بجلی کے بلوں
ستمبر
ڈسپلن سے ہٹ کر ووٹ دینے سے سیاسی پارٹی ’ٹی پارٹی‘ بن جائے گی:چیف جسٹس
?️ 16 مئی 2022اسلام آباد(سچ خبریں)آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس کی
مئی
صہیونی فوجی جنک کی تیاریوں میں مصروف
?️ 13 جون 2023سچ خبریں:صہیونی اخبار اسرائیل ہیوم نے آج منگل کی صبح خبر دی
جون
غزہ میں ناکامی کی وجہ سے صہیونیوں کا پاگل پن
?️ 24 جون 2024سچ خبریں: غزہ حکومت کے اطلاعاتی دفتر نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے
جون
اسرائیل کے شام کے نئے حکمرانوں کے ساتھ مذاکرات
?️ 15 دسمبر 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت کے چینل 13 نے اپنی ایک رپورٹ میں
دسمبر
اسلامی جہاد نے شام اور حماس کے تعلقات کا خیر مقدم کیا
?️ 15 ستمبر 2022سچ خبریں: فلسطین کی اسلامی جہاد تحریک کے رہنماؤں میں سے خضر
ستمبر
اربعین؛ امام حسین کے عقیدت مندوں کے جم غفیر کی عراق میں پرسکون آمد
?️ 13 ستمبر 2022سچ خبریں:اربعین زائرین کی کربلا کی طرف آمد و رفت جاری ہے
ستمبر