?️
سچ خبریں: پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے سوموار کو ایک پریس کانفرنس میں فوج اور اس کی قیادت پر مبینہ فیک نیوز کے ذریعے تنقید کرنے والوں کو ‘ڈیجیٹل دہشت گرد‘ قرار دیا،انہوں نے کہا کہ ایسے افراد کو قانون اور سزائیں ہی روک سکتی ہیں۔
پاکستان فوج کے شعبہ ابلاغ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل احمد شریف چودھری نے پریس کانفرنس کے دوران شدت پسندوں اور ‘ڈیجیٹل دہشت گردوں’ کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں کا مقصد فوج کو نشانہ بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس پاکستان کی شہریوں پر فوجی قوانین کے اطلاق کی مخالفت
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل دہشت گرد فیک نیوز کی بنیاد پر فوج، فوج کی قیادت اور عوام کے رشتے کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے مزید کہا کہ جیسے دہشت گرد ہتھیاروں کے ذریعے اپنی بات منوانے کی کوشش کرتے ہیں، ویسے ہی ڈیجیٹل دہشت گرد موبائل، کمپیوٹر، جھوٹ، فیک نیوز اور پراپیگنڈے کے ذریعے اضطراب پھیلا کر اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ بیان اُس دن سامنے آیا جب اسلام آباد میں پولیس اور ایف آئی اے کی مشترکہ کارروائی میں تحریک انصاف کے ترجمان رؤف حسن کی گرفتاری کے بعد وزارتِ داخلہ نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی ‘ریاست مخالف پروپیگنڈا’ میں ملوث ہے۔
وزارتِ داخلہ کے ترجمان کے مطابق، اسلام آباد پولیس اور ایف آئی اے کی ٹیم نے یہ کارروائی ‘ابتدائی تفتیش اور ڈیجیٹل مواد کی روشنی میں’ کی۔
پاکستان فوج کے ترجمان کی پریس کانفرنس پر ردِعمل دیتے ہوئے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے سوال اٹھایا کہ جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ قوانین کا غلط استعمال کیوں کیا جا رہا ہے، تو کیا یہ بھی ڈیجیٹل دہشت گردی ہے؟ کیا انہیں سوال کرنے کا حق نہیں؟ صحافی سوال پوچھیں تو کیا وہ بھی ڈیجیٹل دہشت گرد ہیں؟
یاد رہے کہ پاکستان فوج نے ‘ڈیجیٹل دہشت گردی’ کی اصطلاح اس سال مئی میں کور کمانڈر کانفرنس کے اعلامیے میں بھی استعمال کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ ڈیجیٹل دہشت گردی کا مقصد پاکستانی قوم میں مایوسی پھیلانا اور قومی اداروں کے درمیان اختلافات پیدا کرنا ہے۔
یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ ڈیجیٹل دہشت گردی کی تعریف کیا ہے اور کس بنیاد پر کسی کو ڈیجیٹل دہشت گرد قرار دیا جا سکتا ہے؟ اس کے ساتھ ہی، کیا دنیا کے دیگر ممالک میں ‘ڈیجیٹل دہشت گردی’ کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے؟
دنیا بھر میں ‘سائبر ٹیرارزم’ کی اصطلاح عام ہے۔ ڈوروتھی ڈیننگ، جو کہ ایک معروف امریکی محقق ہیں اور سائبر سیکیورٹی کے امور پر مہارت رکھتی ہیں، سائبر ٹیرارزم کی تعریف یوں کرتی ہیں: سیاسی یا معاشرتی مقاصد کے حصول کے لیے کمپیوٹرز یا ان سے منسلک نیٹ ورک پر کسی حکومت کو نقصان پہنچانے کے لیے کیے گئے حملے سائبر ٹیرارزم کہلاتے ہیں۔
یہاں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا آن لائن پروپیگنڈا یا غلط معلومات پھیلانے کو ‘دہشت گردی’ قرار دیا جا سکتا ہے؟
ڈیجیٹل رائٹس ایکسپرٹ حجا کامران کا کہنا ہے کہ پروپیگنڈا اور غلط معلومات کو ڈیجیٹل دہشت گردی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ دہشت گردی کا مطلب مختلف ہے اور اس سے سخت کارروائی کا تاثر ملتا ہے، جو بغیر منصفانہ ٹرائل کے ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس اصطلاح کا استعمال دراصل آن لائن اسپیس پر کنٹرول بڑھانے اور خوف پیدا کرنے کے لیے کیا جاتا ہے تاکہ لوگ اپنے بنیادی حقوق کا استعمال نہ کریں۔
حجا کامران کے مطابق پروپیگنڈا اور غلط معلومات کی روک تھام شواہد پر مبنی فیکٹ چیکنگ کے ذریعے ہونی چاہیے، نہ کہ اسے دہشت گردی قرار دے کر جرم بنایا جائے۔
پاکستانی فوج کی جانب سے ‘ڈیجیٹل دہشت گردی’ کی اصطلاح کے استعمال پر بات کرتے ہوئے، سنگاپور میں مقیم سکیورٹی محقق عبدالباسط کہتے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی اصطلاح افراد یا گروہوں کو بُرا دکھانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس اصطلاح کے استعمال کا مقصد عوام کی ذہن سازی، بیانیہ بنانا یا کسی گروہ کے خلاف کریک ڈاؤن کی راہ ہموار کرنا ہوتا ہے۔
سیکیورٹی کی تکنیکی زبان میں کسی جرم کو دہشت گردی تب تک نہیں کہا جا سکتا جب تک اس کے پیچھے کوئی نظریہ نہ ہو۔
عبدالباسط کے مطابق، موجودہ سیاسی صورتحال میں ‘ڈیجیٹل دہشت گردی’ کے خلاف کارروائی کا ہدف پی ٹی آئی ہو سکتی ہے جو سوشل میڈیا پر متحرک ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اپنی تنقید کے اظہار کے لیے مناسب زبان استعمال کرنی چاہیے اور تاریخی حقائق کو مسخ نہیں کرنا چاہیے۔
تاہم، وہ اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ اس رویے کو ڈیجیٹل دہشت گردی کہا جائے، لیکن 9 مئی کے پُرتشدد مظاہروں کے پیچھے کسی سیاسی نظریہ کی موجودگی کی صورت میں آئی ایس پی آر کا اسے دہشت گردی کہنا بجا ہے۔
حجا کامران کا کہنا ہے کہ ریاستی اداروں کی کارکردگی پر تنقید کو دہشت گردی قرار دینا نامناسب ہے اور اس سے لوگوں کے آئینی حقوق پر قدغن لگے گی۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں کو تنقید پر اپنے نقطہ نظر پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور تنقید اور پروپیگنڈا میں فرق کرنا چاہیے۔
برطانیہ میں واقع تھنک ٹینک ‘اسلامک تھیولوجی آف کاؤنٹر ٹیرارزم’ کے ڈپٹی ڈائریکٹر فاران جعفری کے مطابق، ڈیجیٹل دہشت گردی ایک غیر واضح اصطلاح ہے۔
مغربی لبرل جمہوریتوں میں ریاست یا فوج پر تنقید کو آزادی اظہار کے زمرے میں دیکھا جاتا ہے۔
فاران جعفری نے کہا کہ سرکاری افسر کو مذہب، فرقہ یا قومیت کی بنیاد پر تنقید کرنا نفرت انگیزی ہے، اور فوج پر حملے کے اکسانے پر دہشت گردی سمیت دیگر دفعات لاگو ہو سکتی ہیں۔
ان کے مطابق پاکستانی فوج کی جانب سے خود پر ہونے والی تنقید کے لیے سخت اصطلاح کا استعمال سمجھ سے بالاتر ہے۔
مزید پڑھیں: امریکہ میں کتنی پاکستانی خواتین فوجی تربیت حاصل کر رہی ہیں؟
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر فوج پر کی جانے والی بعض تنقید حد سے تجاوز کرتی ہے، جیسے کہ کچھ اکاؤنٹس ہلاک ہونے والے فوجیوں کا مذاق اڑاتے ہیں یا طالبان کے حملوں کی تعریف کرتے ہیں۔ یہ ریڈ لائن عبور کرنے کے مترادف ہے۔
فاران جعفری کے مطابق، پاکستان کے موجودہ قوانین سوشل میڈیا پر نفرت انگیزی کو روکنے کے لیے کافی ہیں اور انہیں نئے قوانین یا غیر واضح اصطلاحات کی ضرورت نہیں۔


مشہور خبریں۔
نیتن یاہو غزہ کی جنگ ختم نہیں کرنا چاہتے
?️ 12 اگست 2025نیتن یاہو غزہ کی جنگ ختم نہیں کرنا چاہتے یروشلم میں صہیونی
اگست
جنرل سلیمانی کا قتل امریکی غلطی:کوئنسی تھنک ٹینک
?️ 6 ستمبر 2022سچ خبریں:امریکہ کے ہاتھوں جنرل سلیمانی اور المہندس کی شہادت صرف عراق
ستمبر
لاہور: مونس الہٰی کے قریبی دوست بازیاب، عدالت میں پیش کردیا گیا
?️ 11 جنوری 2023لاہور:(سچ خبریں) کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) لاہور نے
جنوری
سیاسی جماعتوں کی ممنوعہ فنڈنگ سے متعلق رپورٹ 15 روز میں طلب
?️ 11 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کو مبینہ طور پر
مئی
ایون فیلڈ، العزیزیہ ریفرنسز میں وارنٹ معطل، اسلام آباد ہائیکورٹ کا 24 اکتوبر تک نواز شریف کو گرفتار نہ کرنے کا حکم
?️ 19 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) احتساب عدالت اسلام آباد نے پاکستان مسلم لیگ
اکتوبر
پرویز الٰہی اور پی ڈی ایم میں اتحاد کا خوف، پی ٹی آئی کی (ق) لیگ سے مذاکرات کیلئے کمیٹی تشکیل
?️ 20 دسمبر 2022 اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے
دسمبر
کشمیری قوم کی قربانیوں کو ہرگز ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا: حریت رہنما
?️ 17 مارچ 2021سرینگر (سچ خبریں) مقبوضہ کشمیر میں حریت رہنماؤں اور تنظیموں نے ضلع شوپیان
مارچ
اسرائیلی فوجی خون میں لت پت
?️ 29 اگست 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت کے ذرائع ابلاغ نے مقبوضہ فلسطین کے شمال میں
اگست