?️
سچ خبریں:برطانیہ کے وزیر دفاع جان ہیلی نے اچانک استعفیٰ دے دیا، جس نے برطانوی کابینہ میں دفاعی اخراجات اور جنگی پالیسیوں پر جاری اختلافات کو ایک کھلے بحران میں تبدیل کر دیا ہے۔
برطانیہ کے وزیر دفاع جان ہیلی نے دفاعی بجٹ میں کمی اور فوجی تیاری متاثر ہونے کے خدشات کے باعث استعفیٰ دے دیا۔ اس فیصلے نے لندن کی دفاعی پالیسی، اوکرین جنگ اور مشرق وسطیٰ میں کردار پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جان ہیلی نے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کو لکھے گئے سخت لہجے کے خط میں کہا کہ مجوزہ دفاعی سرمایہ کاری کا بجٹ مسلح افواج کی ضروریات کے لیے ناکافی ہے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ مالی منصوبہ برطانوی فوج کی تیاری کم کر سکتا ہے، فوجی اہلکاروں کے لیے خطرات بڑھا سکتا ہے اور مجموعی طور پر ملک کی سلامتی کو کمزور کر سکتا ہے۔
ہیلی نے اپنے خط میں یہ بھی کہا کہ حکومت دفاعی ضروریات اور بڑھتے ہوئے خطرات کے باوجود مناسب وسائل فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے، جبکہ خزانے کی پالیسی نے دفاعی شعبے کے لیے ضروری فنڈز کو محدود کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دفاعی بجٹ سے متعلق اصل تنازع یہ تھا کہ حکومت آئندہ برس دفاعی اخراجات کو جی ڈی پی کے تقریباً ۲.۶ فیصد سے بڑھا کر ۲۰۳۰ تک صرف ۲.۶۸ فیصد تک لے جانے کی منصوبہ بندی کر رہی تھی، جبکہ وزیر دفاع اسے ۳ فیصد تک بڑھانا چاہتے تھے۔
روئٹرز نے اس استعفے کو کئی ماہ کی ناکام مشاورت اور کابینہ میں گہرے اختلافات کا نتیجہ قرار دیا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ برطانیہ ایک طرف بڑھتے ہوئے دفاعی اخراجات اور دوسری طرف مالی دباؤ کے درمیان پھنس گیا ہے۔
رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ برطانوی فوجی قیادت نے بھی دفاعی بجٹ کی سطح پر تحفظات کا اظہار کیا تھا اور اسے ناکافی قرار دیا تھا۔
یہ استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ یورپ میں اپنے فوجی کردار میں اضافے، یوکرین کی حمایت جاری رکھنے، نیٹو مشنز میں فعال شرکت اور مشرق وسطیٰ میں سلامتی کردار بڑھانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس واقعے نے واضح کر دیا ہے کہ برطانیہ کی دفاعی ذمہ داریوں اور اس کی مالی استطاعت کے درمیان ایک بڑا خلا موجود ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ برطانیہ کے مشرق وسطیٰ میں بعض عسکری اور انٹیلیجنس تعاون، خصوصاً غزہ کے حوالے سے پروازوں اور معلوماتی اشتراک، کو بھی سیاسی تنقید کا سامنا رہا ہے۔
اس استعفے کو صرف مالی یا تکنیکی اختلاف نہیں بلکہ برطانیہ کی وسیع تر دفاعی حکمت عملی کے بحران کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ صورتحال برطانوی وزیر اعظم اسٹیمر کے لیے سیاسی دباؤ میں اضافہ کرے گی، جو پہلے ہی کابینہ میں دیگر استعفوں اور اندرونی اختلافات کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ صورتحال لیبر پارٹی کی قیادت اور حکومت کے مستقبل پر بھی سوالات کھڑے کر رہی ہے۔


مشہور خبریں۔
چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطاء بندیال کو خط دکھانے کا مقصد خط کی حقیقت کو آشکار کرنا ہے:عمران خان
?️ 29 مارچ 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ خارجہ پالیسی
مارچ
امریکہ ایران کے ساتھ کسی قسم کی جنگ نہیں کرنا چاہتا: امریکی جنرل
?️ 16 مارچ 2021واشنگٹن (سچ خبریں) امریکی جنرل نے ایران کے ساتھ کسی بھی قسم
مارچ
اسرائیل کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات نے خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈالا
?️ 20 فروری 2023سچ خبریں:گزشتہ صبح صیہونی حکومت نے دمشق اور اس کے اطراف میں
فروری
قاہرہ نے تل ابیب کو فلسطینی قیدی کی رہائی پر مجبور کیا
?️ 5 ستمبر 2022سچ خبریں: صیہونی حکومت کے عرب امور کے ماہر یونی
ستمبر
اسرائیلی صحافی کا اعتراف: ایران نہ صرف گر کر بکھر گیا، بلکہ مضبوط ہو کر مذاکرات میں بیٹھا
?️ 12 اپریل 2026 سچ خبریں: ایک اسرائیلی صحافی اور میڈیا کارکن نے ایران اور
اپریل
الجزائر کے دورے کے دوران فرانسیسی صدر کی توہین
?️ 28 اگست 2022سچ خبریں:سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی ایک ویڈیو میں الجزائر کے
اگست
تارکین وطن کے ووٹ کا حق ختم نہیں کر رہے:وفاقی وزیر قانون
?️ 27 مئی 2022اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر قانون اعظم نذیرتارڑ کا کہنا ہے کہ اوورسیز
مئی
شمالی وزیرستان؛ سکیورٹی فورسز کے کیمپ پر حملہ ناکام، چار خوارج ہلاک، 4 جوان شہید
?️ 19 دسمبر 2025راولپنڈی (سچ خبریں) خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے بویا
دسمبر