ایران کو تقسیم کرنے کا منصوبہ اور علیحدگی پسند گروہوں کا کردار

ایران کو تقسیم

?️

سچ خبریں:رپورٹ کے مطابق ایران کو تقسیم کرنے کا منصوبہ کئی برسوں سے امریکہ اور صہیونی حکومت کی حکمت عملی کا حصہ رہا ہے، جسے حالیہ جنگ کے دوران دہشت گرد اور علیحدگی پسند گروہوں کے ذریعے عملی شکل دینے کی کوشش کی گئی۔

ایران کو تقسیم کرنے کا منصوبہ کئی برسوں سے امریکہ اور صہیونی حکومت کے پالیسی ساز اداروں کی حکمت عملی کا حصہ رہا ہے۔ حالیہ جنگ کے آغاز کے بعد اس منصوبے کو ایک مرتبہ پھر دہشت گرد اور علیحدگی پسند گروہوں کے ذریعے عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی گئی، تاہم ایرانی عوام کی بیداری اور مسلح افواج کی کارروائیوں کے باعث یہ منصوبہ ناکام ہو گیا۔

کتاب حکومت کی تبدیلی، جسے نیویارک ٹائمز کے 2 صحافیوں میگی ہیبرمین اور جوناتھن سوان نے تحریر کیا ہے، میں ایران کے حوالے سے امریکہ کی بعض حکمت عملیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق منصوبے کے اہم نکات میں سے ایک یہ تھا کہ فوجی حملوں کے ساتھ ہی دہشت گرد اور علیحدگی پسند گروہوں کو ایران کی مغربی سرحدوں سے اندر داخل کیا جائے۔

یہ منصوبہ نیا مشرق وسطیٰ نامی نئے منصوبے کا تسلسل قرار دیا جاتا ہے، جس کا ذکر سابق امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے 2005 میں کیا تھا۔

 انہوں نے لبنان کی جنگ کو نئے مشرق وسطیٰ کی ولادت کا درد قرار دیتے ہوئے ایسے منصوبے کی جانب اشارہ کیا تھا جس کا مقصد خطے کے طاقتور ممالک کو چھوٹی، کمزور اور نسلی و مذہبی اختلافات میں الجھی ہوئی اکائیوں میں تبدیل کرنا بتایا گیا۔

اس سے قبل 1989 میں بھی صہیونی حکومت کے ایک سیاسی مشیر سے منسوب ایک مضمون میں شام، عراق، لبنان اور مصر سمیت متعدد اسلامی ممالک کو نسلی اور مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی، جسے صہیونی حکومت کی سلامتی کے لیے مفید قرار دیا گیا تھا۔

 اسی تناظر میں ایران کو بھی اس منصوبے کا ایک اہم ہدف بتایا گیا۔

شائع شدہ معلومات کے مطابق جنگ شروع ہوتے ہی امریکہ اور صہیونی حکومت نے دہشت گرد اور علیحدگی پسند گروہوں کے درمیان اتحاد قائم کرنے، انہیں اسلحہ، مواصلاتی آلات اور دھماکا خیز مواد فراہم کرنے اور مالی معاونت بڑھانے کی کوشش کی تاکہ وہ ایران کے اندر داخل ہو سکیں۔ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ان گروہوں کو حملوں کے آغاز کے 72 گھنٹوں کے اندر ایران میں داخل ہونا تھا۔

بعض رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ امریکی مرکزی انٹیلی جنس ادارے نے بعض مسلح کرد گروہوں کے ساتھ رابطے قائم کیے تھے، جبکہ جنگ سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی خطے کے بعض کرد رہنماؤں سے مشاورت کی تھی۔

بعد ازاں ٹرمپ کے ان بیانات، جن میں انہوں نے ایرانی مظاہرین کو اسلحہ فراہم کرنے کی بات کی، کو بعض حلقوں نے ملک کے اندر عدم استحکام پیدا کرنے کے ایک مربوط منصوبے کا حصہ قرار دیا۔

تاہم رپورٹ کے مطابق دشمن کے اندازے ایک بار پھر غلط ثابت ہوئے۔ منصوبہ سازوں کی توقعات کے برعکس ایران کی مختلف قومیتوں اور طبقات سے تعلق رکھنے والے عوام نے ملک کی ارضی سالمیت کے دفاع کے لیے متحد ہو کر یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔

اسی دوران اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے انٹیلی جنس اور عسکری کارروائیوں کے ذریعے سرحد پار موجود دہشت گرد گروہوں کے لاجسٹک مراکز اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں انہیں منظم کارروائی کا موقع نہیں مل سکا۔

ان کارروائیوں کے نتیجے میں دراندازی کا منصوبہ مکمل طور پر ناکام ہو گیا اور دہشت گرد گروہ ایران کی سرزمین کا ایک انچ بھی اپنے قبضے میں لینے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اسی طرح شمال مغرب اور جنوب مشرق سے عدم استحکام کا راہداری منصوبہ بھی ناکامی سے دوچار ہوا۔

رپورٹ کے مطابق میدان میں ناکامی کے بعد علیحدگی پسند گروہ اب اندھا دھند دہشت گرد کارروائیوں، بے گناہ شہریوں اور سرحدی علاقوں کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر اپنے بیرونی سرپرستوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان کارروائیوں کو وہی سلسلہ قرار دیا گیا ہے جو اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد سے ایران کے دشمنوں کی جانب سے ان گروہوں کے سپرد کیا گیا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ جنگ کے تجربے نے ایک بار پھر ظاہر کیا کہ ایران کو تقسیم کرنے کا منصوبہ صرف ایک سیاسی خواہش نہیں بلکہ امریکہ اور صہیونی حکومت کی مسلسل حکمت عملی کا حصہ ہے، تاہم قومی اتحاد، عوامی بیداری اور ایرانی مسلح افواج کی طاقت کے سامنے یہ منصوبہ ایک مرتبہ پھر ناکام ثابت ہوا۔

رپورٹ کے مطابق ایران نے قومی یکجہتی اور تمام قومیتوں کے باہمی تعاون کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کے ہر حصے کا دفاع کرے گا اور تقسیم کے منصوبے کو ناکام حکمت عملیوں کی فہرست میں شامل کر دے گا۔

مشہور خبریں۔

مقبوضہ فلسطین کے شہر یوکنیم الیت کے پاور گرڈ میں خلل

?️ 22 دسمبر 2025سچ خبریں: مقبوضہ علاقوں کے شہر یوکنیم الیت کی میونسپلٹی نے ایک

ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد منظور

?️ 28 جولائی 2022لاہور: (سچ خبریں) ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے لیے قرارداد منظور

وزیراعظم کی زیرصدارت مسلم لیگ (ن) کا اجلاس، سپریم کورٹ سے ’ابہام‘ دور کرنے پر زور دیا جائے گا

?️ 3 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قانونی

عمران خان مقدمہ درج نہیں کروا سکتے تو پنجاب حکومت سے استعفیٰ دے کر گھر جائیں، قمر زمان کائرہ

?️ 7 نومبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم کے مشیر برائے کشمیر و گلگت بلتستان

ایران انٹرنیشنل کی مردہ لڑکی بی بی سی فارسی پر زندہ!

?️ 27 ستمبر 2022سچ خبریں:حالیہ دنوں میں ایران سے باہر فارسی زبان کے میڈیا نے

ڈھاکہ اجلاس کے موقع پر سینئر پاکستانی اور ہندوستانی حکام کی ملاقات

?️ 1 جنوری 2026سچ خبریں: پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر اور بھارتی وزیر خارجہ

پنجاب میں تباہی مچانے والا سیلابی ریلا سندھ میں داخل، پنجند پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب برقرار

?️ 7 ستمبر 2025کراچی: (سچ خبریں) صوبہ پنجاب میں تباہی مچانے والا بپھرا ہوا سیلابی

اسرائیلی پولزکی جانب سے نیتن یاہو کی واپسی کا اشارہ

?️ 30 جولائی 2022سچ خبریں:   صیہونی چینل 12 کی طرف سے کل جمعرات کو کرائے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے