?️
سچ خبریں:ایران کے ساتھ فوجی محاذ آرائی میں امریکہ کو ایک اسٹریٹجک شکست کا سامنا کرنا پڑا جس کے نتیجے میں اس ملک کی داخلی اور بین الاقوامی ساکھ پر تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ایران کے ساتھ محاذ آرائی میں امریکہ کی مبینہ اسٹریٹجک ناکامی کے بعد عالمی سطح پر اس کی ساکھ، داخلی سیاسی استحکام، صہیونی حکومت کے ساتھ تعلقات اور خلیج فارس میں اثر و رسوخ پر مرتب ہونے والے ممکنہ نتائج کا تفصیلی جائزہ۔
امریکی فوج کو اپنی فوجی محاذ آرائی کے دوران یہ گمان تھا کہ چار دہائیوں سے زائد عرصے سے ایران کا محاصرہ اور امریکی فوجی اڈوں کے ذریعے اس محاصرے کا دائرہ مزید تنگ کرنا، ایران کے نظام حکومت کے خاتمے کے عمل کو تیز کرے گا، لیکن اسے یہ احساس ہوا کہ یہ جنگ اس کے لیے ایک ایسے بھیانک خواب میں تبدیل ہو گئی جس نے بین الاقوامی تنازعات میں امریکہ کی حیثیت اور ساکھ کے ساتھ ساتھ اس کی داخلی صورتحال کے لیے بھی بدترین نتائج پیدا کیے اور اس کی بالادستی کے لیے وجودی خطرہ بن گئی۔
خبری ویب سائٹ العہد نے اپنے ایک تجزیہ میں ایران اور مزاحمتی محاذ کے خلاف جنگ میں امریکہ کی شکست کے خطرناک نتائج کا جائزہ لیا ہے:
1۔ امریکہ کی بین الاقوامی ساکھ میں کمی
امریکہ کئی دہائیوں تک اقتصادی محاصروں، رنگین انقلابات اور مخالف حکومتوں کے سیاسی و فوجی خاتمے کے ذریعے اپنی بالادستی دنیا پر مسلط کرنے میں کامیاب رہا۔ واشنگٹن نے اسلحے کی فروخت اور سکیورٹی تحفظ کے دعووں کے ذریعے بھی اتحادیوں کا ایک وسیع جال قائم کیا، جس کے بدلے میں مختلف ممالک سے مالی اور سیاسی فوائد حاصل کیے گئے اور ان کے خودمختار فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کئی برسوں تک ایران کے خلاف اقتصادی محاصرہ برقرار رکھا۔ جب وہ ایران کی خودمختاری کے اصولوں اور مزاحمتی تحریکوں کی حمایت روکنے کے حوالے سے اپنی شرائط مسلط کرنے میں ناکام رہے اور ایران مخالف گروہوں کی حمایت، کرائے کے عناصر اور جاسوسوں کے استعمال کے باوجود اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکے تو انہوں نے فوجی آپشن کا رخ کیا۔
امریکہ نے آخری حربے کے طور پر ایران کے خلاف خوف اور صدمے کی حکمت عملی نافذ کرنے کی کوشش کی، لیکن اسے ایران کی استقامت اور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔
تہران نے صہیونی حکومت کو بڑے اسباق سکھانے میں کامیابی حاصل کی اور مقبوضہ علاقوں کے اندر گہرائی تک حملے کیے، جن میں اسے غیر معمولی اہداف حاصل ہوئے۔ ایران نے اپنے جدید اور بھاری میزائلوں اور بغیر پائلٹ طیاروں کے ذریعے صہیونی حکومت اور امریکہ کے متعدد میزائل شکن نظاموں کو عبور کرنے میں کامیابی حاصل کی۔
مزاحمتی گروہوں نے اس جنگ کے دوران محاذوں کے اتحاد کی حکمت عملی کو فعال کیا اور اسے خطے میں ایک ناقابل واپسی قوت مدافعت میں تبدیل کر دیا، جو ایک اہم اسٹریٹجک کامیابی سمجھی جاتی ہے۔ اس کامیابی نے امریکہ کے بحران کو مزید گہرا کیا اور اس کی بازدارتی طاقت اور ساکھ کو نقصان پہنچایا۔
امریکہ کی حیثیت میں آنے والی یہ گراوٹ ایک خطرناک مثال بن سکتی ہے جو ان تمام قوتوں کو حوصلہ دے گی جو امریکہ سے خوفزدہ تھیں اور اس کے مقابلے کے تجربے سے گریز کرتی تھیں۔
اسی طرح فوجی جنگ اور ایران کی جانب سے غیر متوازن جنگی ذرائع کے استعمال نے امریکی فوجی طاقت کو ایک کاغذی شیر کے طور پر پیش کیا، جس کا مقابلہ کم لاگت والے ہتھیاروں سے بھی ممکن ہے اور جس کی فوجی حکمت عملیوں کو غیر روایتی ذرائع سے شکست دی جا سکتی ہے۔
یہ صورتحال امریکی بالادستی کے لیے ایک وجودی خطرہ تصور کی جاتی ہے اور بین الاقوامی تنازعات میں امریکہ کی حیثیت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، کیونکہ اس کا بڑا انحصار نرم طاقت، اپنی قوت کی تشہیر اور دوسروں کو خوفزدہ کرنے کی پالیسی پر رہا ہے۔
2۔ امریکہ کی شکست کے داخلی خطرات
حالیہ جنگ نے امریکہ کے داخلی حالات پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی ہے اور اس کے ساتھ ہی امریکی سیاسی حلقوں، حتیٰ کہ ریپبلکن جماعت کے اندر بھی شدید اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔
ایران کے خلاف امریکہ کی جنگی پالیسی نے ایندھن اور کھاد کی قیمتوں میں اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں امریکہ میں مہنگائی بڑھی اور عوامی بے چینی میں اضافہ ہوا۔
اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ امریکی عوام کا اپنے ملک کی تنازعات حل کرنے کی صلاحیت پر اعتماد متزلزل ہوا، جس کے دور رس نتائج سامنے آ سکتے ہیں اور درمیانی مدت میں بعض ریاستوں کی علیحدگی یا خودمختاری کی تحریکوں کو تقویت مل سکتی ہے۔
3۔ امریکہ اور صہیونی حکومت کے ساختی تعلقات کو خطرہ
اگرچہ امریکہ صہیونی حکومت کی بڑی فوجی پالیسیوں کا بنیادی فیصلہ ساز سمجھا جاتا ہے اور اپنے مفادات کے لیے اس حکومت سے فائدہ اٹھاتا ہے، تاہم حالیہ جنگ کے تجربے نے اس حکومت کو برقرار رکھنے کی لاگت میں اضافہ کر دیا ہے۔
امریکہ کے اندر پہلی مرتبہ کھلے عام اور غیر معمولی انداز میں دونوں فریقوں کے مفادات میں تضاد کے بارے میں آوازیں بلند ہوئیں۔ صہیونی حکومت کی حمایت کے مخالفین نے واضح کیا کہ اس حمایت کے نتیجے میں امریکہ غیر ضروری تنازعات میں الجھتا ہے، اس کی ساکھ متاثر ہوتی ہے اور امریکی عوام کو نقصان پہنچتا ہے۔
4۔ خلیج فارس میں امریکہ کے وجودی کردار کو خطرہ
سن ۱۹۴۵ میں کوئنسی معاہدے پر دستخط کے بعد سے تحفظ کے بدلے وسائل کا اصول سعودی عرب اور خلیج فارس کے ممالک کے ساتھ امریکی تعلقات کی بنیاد رہا ہے۔
اس جنگ نے ان ممالک کے لیے امریکی تحفظ کی کمزوری کو آشکار کر دیا، کیونکہ امریکہ اپنے آپ اور خطے میں موجود اپنے فوجی اڈوں کی حفاظت میں بھی ناکام دکھائی دیا، جس کے نتیجے میں خلیج فارس کے ممالک کے لیے وجودی خطرات پیدا ہوئے۔
یہ صورتحال عرب ممالک کو اس اسٹریٹجک کمزوری کے حوالے سے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ خلیج فارس کے اندر اس جنگ، اس کے اخراجات، امریکہ کی ناکامی اور صہیونی حکومت کی حمایت کو ترجیح دینے والی امریکی پالیسی کے حوالے سے تشویش اور ناراضی کی علامات پہلے ہی نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔


مشہور خبریں۔
گوگل نے اسرائیل کے ساتھ معاہدے کے خلاف احتجاج کرنے والے 28 ملازمین کو برطرف کردیا
?️ 18 اپریل 2024سچ خبریں: امریکا میں گوگل نے اسرائیلی حکومت کے ساتھ معاہدے کے
اپریل
ہم انتخابات کو شفاف بنانا چاہتے ہیں
?️ 17 نومبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق شاہ محمود قریشی نے ای وی
نومبر
اسرائیل بہت کمزور ہوچکے ہیں اور بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے: صہیونی سکیورٹی عہدہ دار
?️ 9 اگست 2021سچ خبریں:صہیونی حکومت کی قومی سلامتی کونسل کے سابق سربراہ ، جنہوں
اگست
ایم کیو ایم پاکستان کا ’غیرشفاف‘ مردم شماری کے خلاف احتجاج کا اعلان
?️ 21 اپریل 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) ایم کیو ایم پاکستان نے اصرار کیا ہے
اپریل
حکومت کی کے-الیکٹرک صارفین کیلئے بجلی مزید 10.32 روپے مہنگی کرنے کی درخواست
?️ 12 ستمبر 2023کراچی 🙁سچ خبریں) کراچی کی صنعتی برادری اور سیاسی رہنماؤں کی شدید
ستمبر
شام کا خونی دور؛جولانی کا دورِ حکومت
?️ 20 دسمبر 2025سچ خبریں:شام میں بشار الاسد کے نظام کے خاتمے کے بعد جولانی
دسمبر
ایران میں صدارتی انتخابات کی تازہ ترین صورتحال
?️ 29 جون 2024سچ خبریں: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے آج ایک مضمون ایران میں صدارتی
جون
کیا حقیقت میں امریکہ غزہ میں امن چاہتا ہے یا سیاسی فریب ہے؟
?️ 19 اکتوبر 2025سچ خبریں:امریکہ خود کو غزہ میں امن کا حامی اور ثالث ظاہر
اکتوبر