?️
سچ خبریں:ترکی کی عدلیہ کی جانب سے استنبول کے میئر اکرم امام اوغلو کی گرفتاری نے ملک کے حکومتی ڈھانچے کے لیے ایک سنگین چیلنج کھڑا کر دیا ہے، جو مسئلہ کرد اور پی کے کے کے ساتھ امن مذاکرات سے گہری وابستگی رکھتا ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس وقت، صدر رجب طیب اردگان کی کردوں کے ساتھ امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی خواہش کے پس پردہ کئی مبہم پہلو اب واضح ہوتے جا رہے ہیں۔
اردگان اور ان کی قوم پرست اتحادی جماعتیں، جو گزشتہ کئی دہائیوں سے ترکی کی سیاسی و سماجی فضا سے کردوں کو الگ تھلگ کرنے اور ان کی قومی شناخت کو حتیٰ کہ ہمسایہ ممالک میں بھی تسلیم نہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا تھیں، اب ترکی میں ترک-کرد برادری کی بات کرتے نظر آ رہے ہیں اور کردوں کو ملکی نظم و نسق میں شراکت داری کا حق دینے کی بات کر رہے ہیں۔
اردگان کے بیانات میں ایک اہم تبدیلی دیکھی گئی ہے، اب وہ عبداللہ اوجالان (پی کے کے کے قید رہنما) کی رہائی اور پی کے کے کے رہنماؤں کی ترکی واپسی کو جرم تصور نہیں کرتے، نوروز کے موقع پر دیار بکر میں منعقد ہونے والی روایتی تقریب، جو ایک سیاسی رنگ رکھتی ہے، میں 28 سال بعد پہلی بار اوجالان کی آواز اور تصویر نشر کی گئی۔ اردوان نے نوروز کی آگ جلا کر اور اس تہوار کو منا کر کردوں اور حکومت کے درمیان خلیج کو کم کرنے کی کوشش کی۔
امن مذاکرات کا آغاز ہوئے چند ہفتے ہی گزرے ہیں، لیکن اب واضح ہوتا جا رہا ہے کہ اردوان کا اصل مقصد ملک میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنا اور ری پبلکن پیپلز پارٹی (CHP) کو تنہا کرنا تھا، جو 2019 کے پارلیمانی انتخابات کے بعد سے کردوں کی اتحادی رہی ہے، اب یہ سوال زیادہ واضح ہو گیا ہے کہ آخر اردوان نے اچانک اوجالان کی رہائی کا خیال کیوں پیش کیا۔
2003 سے اردگان کے طرز حکومت کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ کردوں اور ترکوں کے درمیان بھائی چارے یا کرد مسئلے کا حل ان کی ترجیحات میں شامل نہیں رہا، جب تک اس میں کوئی ذاتی یا سیاسی فائدہ نہ ہو۔
اگر یہ واقعی ان کے لیے اہم ہوتا تو ان کے دور اقتدار میں ہزاروں کرد شہریوں کو صرف پی کے کے سے تعلق کے شبہ میں گرفتار نہ کیا جاتا۔ درحقیقت، اردوان ترکی میں اپوزیشن کی طاقت کو کمزور کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔
انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ اگر کردوں کی جماعت نے پارلیمنٹ میں ان کی جماعت، یعنی جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (AKP) کی آئینی ترامیم کی حمایت نہ کی، تو وہ 2028 میں صدارتی انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ اس صورت میں استنبول کے قانونی میئر اور CHP کے نمائندے، اکرم امام اوغلو، اردگان کے سیاسی کیریئر کی طرح، صدارتی انتخابات جیت کر اقتدار میں آ سکتے ہیں۔
اسی تناظر میں، اردگان نے ری پبلکن پیپلز پارٹی کے کانگریس سے قبل، جس میں اکرم امام اوغلو کو آئندہ انتخابات کا امیدوار نامزد کیا جانا تھا، انہیں دہشت گردی سے تعلق، مالی بدعنوانی اور جعلی دستاویزات جیسے الزامات کے تحت گرفتار کر کے جیل بھیج دیا۔
اس اقدام کے بعد گزشتہ ہفتے ترکی کے بڑے شہروں بشمول انقرہ اور استنبول میں شدید عوامی احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ ان مظاہروں کو ترک پولیس نے سختی سے دبایا، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی اور سینکڑوں شہری گرفتار ہو کر جیل پہنچا دیے گئے۔
ایسے اقدامات اردگان کی حکومت میں پہلے بھی ہو چکے ہیں۔ کردوں کے معتدل سیاسی رہنما اور سابق صدارتی امیدوار صلاح الدین دمیرتاش کئی سالوں سے دہشت گردی سے روابط کے الزامات کے تحت قید ہیں، ہر وہ کرد میئر جسے عوام میں مقبولیت حاصل ہوئی، اسے برطرف کر کے اس کی جگہ حکومت نے اپنا نمائندہ مقرر کر دیا۔
تجزیہ نگار کے مطابق، ترکی میں موجودہ حالات کے تناظر میں دو ممکنہ منظرنامے سامنے آتے ہیں:
پہلا امکان:
اگر اردگان اور ان کی حکومت، اوجالان کی رہائی کے ذریعے پی کے کے کو اس بات پر آمادہ کر لیں کہ وہ اپنی جماعت کا اجلاس بلائے، خود کو تحلیل کرے اور اسلحہ چھوڑ دے، اور اسی دوران کرد اراکین پارلیمنٹ (دموکریسی پارٹی) اوجالان کی ہدایت پر AKP اور نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی (MHP) کے ساتھ آئینی اصلاحات کے لیے مل جائیں، تو اس کا مطلب ہوگا کہ کرد جماعت CHP اتحاد سے علیحدہ ہو جائے گی۔
اس صورت میں ترکی کی اپوزیشن کو سخت شکست کا سامنا ہوگا اور اکرم امام اوغلو کو دمیرتاش یا اوجالان کی طرح طویل عرصے کے لیے قید کر دیا جائے گا۔
تاہم، پی کے کے کی جانب سے جاری کردہ بیان، جس میں انہوں نے ترک فوج کی مسلسل کارروائیوں کی وجہ سے پارٹی اجلاس منعقد کرنے سے معذوری ظاہر کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر اوجالان کو رہا نہ کیا گیا یا وعدے پورے نہ ہوئے، تو نہ کوئی اجلاس ہوگا، نہ اسلحہ رکھا جائے گا—یہ تمام باتیں اس امکان کو فی الحال کمزور کر دیتی ہیں۔
دوسرا امکان:
اگر ترکی میں احتجاجی مظاہرے مزید شدت اختیار کرتے ہیں اور آنے والے دنوں میں بھی جاری رہتے ہیں، تو یہ دوسرا منظرنامہ زیادہ قوی ہو جائے گا،ایسے وقت میں جب ترکی کو حالیہ دہائی کی بدترین معاشی صورتحال کا سامنا ہے، سیاسی اور سیکیورٹی چیلنجز مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں کردوں سمیت دیگر گروہ بھی سڑکوں پر نکل سکتے ہیں، اور ملک میں شورش مزید پھیل سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: ترکی میں اقتصادی بحران پر سیاسی تناؤ کا اثر
اگر انقرہ میں فیصلہ سازی کا عمل بحران کا شکار ہوتا ہے، تو قندیل (پی کے کے کا مرکز)، جو اس وقت اوجالان کی ہدایات پر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں اور داخلی بحران پر نظریں جمائے ہوئے ہے، امن مذاکرات کو بے معنی سمجھے گا۔ اس صورت میں 27 فروری کو اوجالان کی جانب سے کیا گیا مطالبہ غیر مؤثر ہو جائے گا، اور بعید نہیں کہ کرد، CHP کے حامی اور دیگر اپوزیشن جماعتیں ترک حکومتی جماعت کے خلاف متحد ہو جائیں۔ ایسی صورت میں اردگان کی حکومت کو ایک سخت بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
لاپیڈ ایران کے بارے میں بات کرنے جرمنی روانہ
?️ 11 ستمبر 2022سچ خبریں: صیہونی حکومت کے وزیر اعظم یائر لاپیڈ آج اتوار 11
ستمبر
طالبان نے کابل کے بش بازار کا نام بدل کر مجاہدین رکھا
?️ 14 اکتوبر 2021سچ خبریں: باخبر ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ طالبان نے افغانستان کے
اکتوبر
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی نائب وزیرخارجہ نے ملاقات کی
?️ 9 اکتوبر 2021راولپنڈی (سچ خبریں)پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر
اکتوبر
امریکی نمائندے کی دمشق کو مزاحمتی محاذ کے خلاف ساتھ ملانے کی کوششیں
?️ 13 نومبر 2025 امریکی نمائندے کی دمشق کو مزاحمتی محاذ کے خلاف ساتھ ملانے
نومبر
دشمن حزب اللہ کو جنگ میں ڈھکیلنا چاہتا ہے:نصراللہ
?️ 4 اگست 2021سچ خبریں:لبنانی حزب اللہ کے سکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے لبنان
اگست
صیہونی کیسے حقیقتوں کو بدلتے ہیں؟
?️ 23 اکتوبر 2023سچ خبریں: فلسطین اور غزہ کے عوام کے بنیادی حقوق کی طرف
اکتوبر
اعداد و شمار کے مطابق غزہ میں صیہونی جرائم کے 380 دن
?️ 21 اکتوبر 2024سچ خبریں: گزشتہ رات غزہ کی پٹی میں سرکاری اطلاعات کے دفتر
اکتوبر
غزہ کی پٹی شدید بمباری کی زد میں
?️ 27 جولائی 2024سچ خبریں: اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے سیاسی بیورو کے رکن فتحی
جولائی