اسرائیل کے خلاف ممکنہ اتحاد؛ قاہرہ اجلاس کے پس پردہ کیا حقائق ہیں؟

قاہرہ اجلاس

?️

سچ خبریں:قاہرہ میں مصر، سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے چوتھے اجلاس کے قریب آنے کے ساتھ ہی اس علاقائی ڈھانچے کی حقیقی نوعیت کے بارے میں قیاس آرائیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔

مصر، سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے قاہرہ اجلاس کے تناظر میں مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے علاقائی نظم، اسرائیلی پالیسیوں کے مقابلے اور خطے کی خودمختار سلامتی کے امکانات کا تفصیلی جائزہ۔

قاہرہ میں مصر، سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے چوتھے اجلاس کے قریب آنے کے ساتھ ہی اس علاقائی ڈھانچے کی حقیقی نوعیت کے بارے میں قیاس آرائیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ اگرچہ چاروں ممالک کے حکام اب بھی ہم آہنگی، مشاورت اور علاقائی تعاون جیسی محتاط اصطلاحات استعمال کر رہے ہیں، تاہم متعدد مبصرین کا خیال ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیاں، خصوصاً غزہ جنگ کے بعد کے حالات، لبنان، شام اور ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت اور امریکی سلامتی ضمانتوں پر کم ہوتے اعتماد نے ایک نئی علاقائی صف بندی کے لیے زمین ہموار کر دی ہے۔

قاہرہ میں ہونے والا یہ اجلاس ان چار علاقائی ممالک کے درمیان مشترکہ مشاورت کا چوتھا دور ہے۔ اس سے قبل تین اجلاس ریاض، اسلام آباد اور ترکی کے شہر انطالیہ میں منعقد ہو چکے ہیں۔

اگرچہ بظاہر ان اجلاسوں کا مقصد کشیدگی میں کمی اور علاقائی بحرانوں کے حل کے طریقہ کار پر غور کرنا بتایا جاتا ہے، لیکن حالیہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان اجلاسوں کا ایجنڈا صرف سفارتی مباحث سے آگے بڑھ کر علاقائی سلامتی کے انتظامات، توانائی کے تحفظ، سمندری راستوں کی حفاظت اور مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی مستقبل جیسے تزویراتی موضوعات تک پھیل چکا ہے۔

اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں کا مقابلہ

بہت سے علاقائی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ان چار ممالک کے قریب آنے کی بنیادی وجہ اسرائیلی حکومت کی جارحانہ علاقائی پالیسیاں ہیں۔

اکتوبر ۲۰۲۳ میں شروع ہونے والی غزہ جنگ، لبنان پر اسرائیلی حملے، شام کی سرزمین پر بار بار کی جارحیت اور بعد ازاں ایران کے خلاف جنگ نے خطے کے متعدد ممالک کو اسرائیلی پالیسیوں کے طویل المدتی نتائج کے بارے میں تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

ان تجزیہ کاروں کے مطابق مسئلہ صرف ایک جنگ یا عارضی بحران کا نہیں بلکہ اس منصوبے سے متعلق ہے جس کا ذکر اسرائیلی حکام کئی مرتبہ کر چکے ہیں، یعنی فوجی طاقت کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ کے نئے سیاسی نقشے کی تشکیل اور خطے کے ممالک پر نئی حقیقتیں مسلط کرنا۔

گزشتہ برسوں کے دوران بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ کے نقشے کی تبدیلی کے حوالے سے دیے گئے بیانات کو خطے کے مختلف دارالحکومتوں میں اسرائیل کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور سلامتی ڈھانچوں میں مداخلت کی خواہش کے طور پر دیکھا گیا ہے۔

اسی لیے بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ مصر، سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون دراصل خطے کے ممالک کی جانب سے ایک نئے توازنِ قوت کی کوشش ہے۔

اسی تناظر میں بعض اسرائیلی حکام اور ذرائع ابلاغ نے اس بات پر تشویش ظاہر کی ہے جسے وہ نیا سنی محور قرار دے رہے ہیں۔

چند ماہ قبل بنیامین نیتن یاہو نے بھی واضح طور پر ایک نئے علاقائی محور کے امکان کا ذکر کیا تھا جو مستقبل میں اسرائیل کے لیے چیلنج بن سکتا ہے۔ اس سے پہلے بھی اسرائیلی سیاسی اور سلامتی شخصیات ترکی، مصر، سعودی عرب اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے تعلقات پر تشویش ظاہر کر چکی ہیں۔

چار ممالک کے دفاعی اور سلامتی تعاون پر اسرائیل کی تشویش

تل ابیب کی تشویش صرف سیاسی پہلوؤں تک محدود نہیں ہے بلکہ سلامتی اور دفاعی تعاون کے امکانات بھی اسرائیلی حلقوں کے لیے باعثِ تشویش ہیں۔

گزشتہ چند برسوں میں مصر اور ترکی کے تعلقات ایک طویل کشیدگی کے بعد نئے مرحلے میں داخل ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کے حکام کے بار بار کے دورے، اقتصادی تعاون میں اضافہ اور بعض فوجی و سلامتی روابط کی بحالی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں فریق ماضی کے اختلافات سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

اسی دوران سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون بھی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا ہے۔ ریاض اور اسلام آباد کے درمیان سلامتی اور عسکری معاہدوں نے، خصوصاً اس تناظر میں کہ پاکستان عالمِ اسلام کی چند جوہری طاقتوں میں شامل ہے، تجزیہ کاروں کی توجہ حاصل کی ہے۔

تزویراتی اعتبار سے اس تعاون کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب اسے امریکہ پر خطے کے ممالک کے کم ہوتے ہوئے اعتماد کے تناظر میں دیکھا جائے۔

گزشتہ برسوں کے دوران خطے کے کئی ممالک اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ واشنگٹن اب اپنے اتحادیوں کی سلامتی کی ضمانت دینے کی سابقہ صلاحیت یا خواہش نہیں رکھتا۔

افغانستان کے واقعات، علاقائی بحرانوں پر امریکہ کی محدود اثر پذیری اور اس کی خارجہ پالیسی میں بار بار کی تبدیلیوں نے متعدد علاقائی طاقتوں کو زیادہ خودمختار سلامتی ڈھانچوں کی جانب متوجہ کیا ہے۔

اس سلسلے میں ایران کے خلاف حالیہ جنگ نے بھی اس رجحان کو تیز کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ خطے کے کئی ممالک نے مشاہدہ کیا کہ ایک وسیع تنازع بہت کم وقت میں توانائی کی سلامتی، بحری تجارت اور پورے خطے کے معاشی استحکام کو متاثر کر سکتا ہے۔

اسی وجہ سے نئی علاقائی سلامتی ترتیبات اور مقامی تعاون کے طریقہ کار پر بحث پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہے۔

ایران کے نقطۂ نظر سے خطے کی سلامتی خطے کے ممالک کے ذریعے ہی یقینی بنائی جانی چاہیے اور بیرونی طاقتوں کی مداخلت نہ صرف استحکام میں مددگار نہیں بلکہ بہت سے بحرانوں کی بنیادی وجہ ہے۔

تہران گزشتہ برسوں کے دوران بارہا مقامی سلامتی ڈھانچوں اور اسلامی و علاقائی ممالک کے درمیان تعاون کی ضرورت پر زور دیتا رہا ہے۔

ایسے حالات میں اہم علاقائی طاقتوں کے درمیان کسی بھی قسم کی قربت کو بیرونی طاقتوں پر انحصار میں کمی اور زیادہ خودمختار سلامتی نظام کی جانب ایک قدم سمجھا جا سکتا ہے۔

اگرچہ ایران اس چار ملکی ڈھانچے کا حصہ نہیں ہے، لیکن اس کے بعض اعلانیہ مقاصد جیسے جنگ کی مخالفت، عدم استحکام کی روک تھام اور علاقائی حل پر زور دینا، تہران کے سرکاری مؤقف سے ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں۔

تاہم اس تعاون کو ایک منظم اور پائیدار اتحاد میں تبدیل کرنے کا راستہ آسان نہیں ہوگا۔

بعض علاقائی مسائل پر مختلف نقطۂ نظر، جغرافیائی سیاسی رقابتیں اور رکن ممالک کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں فرق اب بھی اس عمل کی راہ میں اہم رکاوٹیں ہیں۔

اس کے علاوہ امریکہ اور اسرائیل بھی اس تعاون سے متعلق صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

مغربی اور اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تل ابیب خطے کے اہم ممالک کے درمیان کسی بھی سلامتی ہم آہنگی کو انتہائی حساسیت کے ساتھ دیکھتا ہے۔

اسرائیل کے نقطۂ نظر سے ایسا کوئی بھی ڈھانچہ جو علاقائی توازنِ قوت کو تبدیل کر سکتا ہو، مستقبل میں اس کی آزادانہ کارروائی کی صلاحیت کو محدود کر سکتا ہے۔

نتیجہ

ان تمام چیلنجوں کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی تبدیلیوں نے بہت سی روایتی سیاسی مساوات کو بدل دیا ہے۔

غزہ جنگ، تعلقات کی معمول پر لانے کی بعض کوششوں کی ناکامی، عالمِ اسلام کی عوامی رائے میں صیہونی پالیسیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی مخالفت اور امریکہ کے کردار پر کم ہوتا ہوا اعتماد ایک ایسی نئی صورتحال پیدا کر چکا ہے جس میں علاقائی ممالک پہلے سے زیادہ باہمی تعاون کی جانب مائل ہو رہے ہیں۔

قاہرہ اجلاس کو اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اگرچہ ابھی اسے باضابطہ طور پر اتحاد یا ائتلاف کا نام نہیں دیا گیا، تاہم یہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے علاقائی نظم کی تشکیل کی اہم علامت بن سکتا ہے۔

یہ ایسا نظم ہو سکتا ہے جس میں خطے کے ممالک بیرونی طاقتوں پر انحصار کے بغیر اپنی سلامتی اور مستقبل کے بارے میں خود فیصلے کرنے کی کوشش کریں۔

آخرکار اس عمل کا سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ خطے کے بہت سے ممالک اب یہ نہیں چاہتے کہ مشرق وسطیٰ کا مستقبل صرف تل ابیب، واشنگٹن یا دیگر بیرونی طاقتوں کے ہاتھوں میں طے ہو۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خطے کی سلامتی، خطے کے ممالک کے ذریعے کا تصور پہلے سے کہیں زیادہ ایک تزویراتی ضرورت کی شکل اختیار کر رہا ہے، اور قاہرہ اجلاس اس مقصد کے حصول کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔

مشہور خبریں۔

پنشن بم کی شکل اختیار کرچکی، روکنے کیلئے قانون سازی کرنی ہوگی، وزیر خزانہ

?️ 10 ستمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان کی زیرِ صدارت

برطانیہ میں پولیس کے خلاف شدید احتجاج، لندن پولیس اور مظاہرین کے مابین شدید جھڑپیں ہوگئیں

?️ 14 مارچ 2021لندن (سچ خبریں) برطانیہ میں پولیس کی دہشت گردی کے خلاف شدید

وزیراعظم شہباز شریف کا پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور

?️ 30 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان تجارت،

آخری سانس تک فلسطینی قوم کی جدوجہد کا ساتھ دیں گے: یمنی وزیر دفاع

?️ 14 اکتوبر 2025سچ خبریں:یمن کے وزیر دفاع محمد ناصر العاطفی نے 14 اکتوبر کے

مغربی کناے میں صیہونی درندہ صفت فوج کے ہاتھوں متعدد فلسطینی شہری اغوا

?️ 30 دسمبر 2021سچ خبریں:صیہونی قابض فوج نے مغربی کنارے کے متعدد علاقوں پردہشتگردانہ کاروائیاں

حکومت کو عدالت میں وہی پروٹوکول ملے گا جو عام آدمی کو ملتا ہے۔ سپریم کورٹ

?️ 20 فروری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے سروس میٹر میں وفاقی حکومت

صہیونی حکومت کا ڈرائیونگ انجن بند

?️ 14 ستمبر 2024سچ خبریں: مقبوضہ علاقے میں 5 ٪ سے زیادہ ٹکنالوجی کمپنیوں کو

ڈاکٹر فیصل سلطان نے کورونا کی نئی لہر کی تصدیق کر دی، عوام سے احتیاطی تدابیر اپنانے کی اپیل

?️ 12 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے قومی صحت ڈاکٹر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے