?️
سچ خبریں: وزیر اعظم شہباز شریف نے چند ہفتے قبل قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپنے حریف عمران خان اور ان کی جماعت تحریک انصاف کو مذاکرات کی پیشکش کی تھی، تاہم اچانک ان کی حکومت نے عمران خان پر غداری کا مقدمہ درج کرنے اور ان کی جماعت پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا۔
یہ اعلان ہوتے ہی حکمراں جماعت کی الجھن واضح ہو گئی اور یہ بھی سامنے آیا کہ اتحادی جماعتیں اس فیصلے میں ان کے ساتھ نہیں ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی سمیت حکومتی اتحاد میں شامل کئی سیاسی جماعتوں نے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ انہیں اس معاملے پر اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اگر پاکستان کو بچانا ہے تو کیا کرنا ہوگا؟ عمران خان کی زبانی
بیشتر سیاسی رہنماؤں نے اسے ’غیر جمہوری‘، ’غیر سیاسی‘ اور ’جلد بازی‘ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
یاد رہے کہ 12 جولائی کو سپریم کورٹ کے فل بینچ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس میں پشاور ہائی کورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کو مخصوص نشستوں کا حقدار قرار دیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد حکمراں اتحاد دو تہائی اکثریت کھو سکتا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے اس فیصلے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے تحریک انصاف پر سیاست کا دروازہ بند کرنے کی بات کی۔
انہوں نے کہا کہ سائفر، فارن فنڈنگ اور دیگر مثالوں کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ عمران خان اور ان کی جماعت ملکی سالمیت کے لیے خطرہ ہیں۔
تاہم، یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ حکومت کے لیے ایسا کوئی فیصلہ کرنا آسان نہیں ہوگا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے حکومتی اتحاد کے برقرار رہنے پر سوال اٹھایا اور کہا کہ ’اتحاد اس طرح نہیں چل سکتے۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کی ’اعلیٰ قیادت‘ کو اعتماد میں لیا گیا تھا اور وہ اس فیصلے سے لاعلم نہیں تھے۔
وزیر خارجہ اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے تسلیم کیا کہ اس فیصلے پر ابھی ’حتمی فیصلہ‘ ہونا باقی ہے۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’پی ٹی آئی پر پابندی کا فیصلہ ابھی حتمی نہیں، کل وزیرِ اطلاعات نے جو اعلان کیا اس پر سیاسی جماعتوں اور اتحادیوں سے مشاورت کریں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ کوئی فیصلہ سیاسی نہیں ہوگا، بلکہ آئین اور قانون کے مطابق ہوگا۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی غیرملکی فنڈنگ لینے والی جماعت ہے، جسے یہودیوں اور مسیحوں نے بھی فنڈز دیے ہیں۔ پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کے لیے آئینی و قانونی پہلو مد نظر رکھے جائیں گے، اور ملکی سلامتی و استحکام کو مقدم رکھا جائے گا۔
مسلم لیگ ن اس وقت ایک متنازع فیصلہ کیوں کر رہی ہے جب اس کی مقبولیت کے گراف میں کمی محسوس کی جا رہی ہے؟ اور کچھ عرصہ پہلے جو جماعت مذاکرات کی پیشکش کر رہی تھی، اب ایک سخت فیصلہ کیوں کر رہی ہے؟
کچھ سیاستدان اسے ’ٹائم بائینگ حربہ‘ قرار دے رہے ہیں، جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ یہ عدلیہ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے۔
مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چوہدری نے کہا کہ ’جب عدلیہ اپنا کام نہیں کرے گی تو ہمیں مشکل فیصلے کرنا پڑیں گے۔‘
نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے سینیئر رہنما افراسیاب خٹک کے مطابق یہ حکومت کی ایک چال ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے جواب میں دو کام کیے ہیں: چار ایڈہاک ججز کے نام دیے تاکہ عدالت میں اکثریت بدلی جا سکے اور تحریک انصاف کے اراکینِ اسمبلی کو کنفیوز کرنے کے لیے ان پر پابندی کا اعلان کیا۔
عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر میاں افتخار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی کی حمایت نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہمارے پی ٹی آئی سے شدید نظریاتی اختلافات ہیں، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ پابندی لگا دی جائے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ مایوسی، بوکھلاہٹ اور جذبات میں آ کر کیا گیا فیصلہ ہے۔‘
مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر طلال چوہدری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں کوئی ڈر نہیں کہ کل کیا ہوگا۔ آج ہم نے وہ کیا ہے جو درست ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کو ریلیف آؤٹ آف بوکس ملا ہے تو ہمارا فیصلہ اور ردعمل بھی آؤٹ آف بوکس ہیں۔
انہوں نے نو مئی کو فوجی تنصیبات پر حملوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’اگر داڑھی اور شلوار قمیض میں کوئی شخص فوجی تنصیبات پر حملہ کرے تو وہ دہشتگرد ہے لیکن جینز پہنے، پڑھا لکھا، شہر میں رہنے والا شخص دفاعی تنصیبات پر حملہ کرے تو وہ سیاسی جماعت کا رکن ہے؟‘
یاد رہے کہ نو مئی کو ہونے والے پرتشدد واقعات کے بعد پی ٹی آئی کے درجنوں کارکنوں کو فوجی عدالتوں میں دہشتگردی کے مقدمات کا سامنا ہے۔
اس فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے افراسیاب خٹک نے کہا کہ ’ایک ایسے وقت میں جب ملک سیاسی اور معاشی بحران کا شکار ہے، خیبر پختونخوا میں دو دن سے جنگ جیسی صورتحال ہے، بلوچستان میں ایک الگ لڑائی ہے، تو یہ ملک کیسے اس قسم کی سیاسی نادانی سہہ پائے گا؟
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کا ایک اور مطالبہ
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کے اعلان پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بھی حکومت ’سیاسی جماعتوں پر پابندی لگانے اور انھیں ملک دشمن قرار دینے کے نتائج کو آسانی سے فراموش نہیں کر سکتی۔۔۔ اس طرح کے اقدامات سے وہ خود کو ہی نقصان پہنچائے گی۔‘


مشہور خبریں۔
فرقہ پرستی کا خاتمہ وقت کی ضرورت، علما کردار ادا کریں۔ وزیراعظم
?️ 10 دسمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ فرقہ
دسمبر
ہم فلسطینی قیدیوں کی حوالگی میں تاخیر کریں گے: اسرائیل
?️ 1 فروری 2025سچ خبریں: اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے کہا کہ نیتن یاہو
فروری
ٹرمپ کا مخالفین کو کمیونسٹ قرار دینا؛ امریکی تاریخ میں ایک دہرایا جانے والا لیبل
?️ 4 مئی 2025سچ خبریں: برسوں سے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے قانونی اور سیاسی
مئی
قومی، صوبائی اسمبلی کے 3 حلقوں میں ضمنی انتخابات کا شیڈول جاری، پولنگ 18 ستمبر
?️ 29 جولائی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اور صوبائی
جولائی
عمران خان آئی ایم ایف پروگرام بحالی ناکام بنانے کی کوشش کر رہا ہے، وزیراعظم شہباز شریف
?️ 12 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی
مارچ
اسرائیلی حملے کے بعد ٹرمپ کی قطر کے وزیراعظم کے اعزاز میں ضیافت
?️ 13 ستمبر 2025اسرائیلی حملے کے بعد ٹرمپ کی قطر کے وزیراعظم کے اعزاز میں
ستمبر
کیا اسرائیل اور حماس قیدیوں کے تبادلے پر بات چیت کریں گے ؟
?️ 11 نومبر 2023سچ خبریں:نیویارک ٹائمز نے جمعہ کے روز اطلاع دی ہے کہ حماس
نومبر
عبرانی میڈیا: غزہ کے ایک ملین باشندوں میں سے صرف 10,000 کو نکالا گیا ہے
?️ 31 اگست 2025سچ خبریں: عبرانی زبان کے ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی فوج اور
اگست