?️
سچ خبریں:حمورابی مطالعاتی مرکز نے عراق میں داعش کی سرگرمیوں میں دوبارہ اضافے کا جائزہ لیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ سیاسی عدم استحکام، سکیورٹی میں خلا اور عدالتی کمزوریاں اس گروہ کی واپسی میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔
رپورٹ میں داعش کے مستقبل کے 4 ممکنہ منظرنامے اور اس کے مکمل خاتمے میں حائل 8 بنیادی رکاوٹوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
ایک مطالعاتی مرکز نے عراق میں داعش کی سرگرمیوں کی بحالی اور اس کے پس منظر کا جائزہ لیتے ہوئے اس گروہ کا مقابلہ کرنے کے لیے سکیورٹی رابطہ کاری مضبوط بنانے اور عدالتی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
حمورابی مطالعاتی مرکز نے ایک تجزیہ میں عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلا اور خطے میں دوبارہ اپنی فوجی موجودگی قائم کرنے کی امریکی کوششوں کا ذکر کیا ہے۔
تجزیہ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ دہشت گرد گروہ داعش کو دوبارہ فعال کرنے کو اس مقصد کے لیے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرسکتا ہے۔
مرکز کے مطابق، عراق میں داعش کی فوجی شکست 9 دسمبر 2017 کو اس وقت مکمل ہوئی، جب عراقی سرزمین پر اس کے زیر تسلط آخری علاقے بھی اس کے ہاتھ سے نکل گئے اور اس کی نام نہاد ریاست کا ڈھانچہ عملاً منہدم ہوگیا۔
تاہم، رپورٹ کے مطابق، کسی گروہ کا علاقے پر قبضہ ختم ہوجانے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کا نظریاتی اور نیٹ ورک پر مبنی وجود بھی لازماً ختم ہوگیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 26 ستمبر سے 14 اکتوبر 2026 کے درمیان عراق میں داعش کی 6 دہشت گرد کارروائیاں ریکارڈ کی گئیں۔ ان میں سے 5 کارروائیاں کرکوک اور اس کے نواحی علاقوں میں ہوئیں، جبکہ الحویجہ میں 3 حملے ریکارڈ کیے گئے، جو مجموعی تعداد میں سب سے زیادہ ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، یہ صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ داعش کرکوک اور الحویجہ میں اپنی عملیاتی صلاحیت اور کمانڈ ڈھانچے کی موجودگی ثابت کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
داعش کے مستقبل کے 4 ممکنہ منظرنامے
اس تجزیہ میں داعش کے مستقبل کے لیے 4 ممکنہ منظرنامے پیش کیے گئے ہیں۔
پہلا منظرنامہ: کارروائیوں کا مکمل خاتمہ
اس منظرنامے کے مطابق، داعش اپنی کارروائیاں مکمل طور پر روک سکتی ہے۔ رپورٹ اسے تنظیمی صلاحیت کی کمی کے باعث ایک ممکنہ امکان قرار دیتی ہے، تاہم زمینی شواہد کی بنیاد پر اس کے وقوع پذیر ہونے کا امکان کم سمجھتی ہے۔
دوسرا منظرنامہ: بتدریج اثر و رسوخ قائم کرنا
اس منظرنامے میں داعش بتدریج ایسے علاقوں میں اپنی موجودگی اور اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوشش کرے گی جہاں سکیورٹی کنٹرول کمزور ہے۔ ان علاقوں میں الحویجہ، کرکوک کے بعض حصے، وادی الشائے، وادی زغیتون اور مغربی الانبار شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، اگر حکومت ان علاقوں پر مؤثر کنٹرول قائم کرنے میں ناکام رہی تو اس منظرنامے کے حقیقت بننے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
تیسرا منظرنامہ: شطرنجی حکمت عملی کے تحت منتشر کارروائیاں
اس حکمت عملی میں مختلف علاقوں میں الگ الگ کارروائیاں کرکے ذرائع ابلاغ میں توجہ حاصل کرنا اور بدامنی پیدا کرنا شامل ہے۔ رپورٹ اسے داعش کے لیے سب سے زیادہ ممکنہ منظرنامہ قرار دیتی ہے، کیونکہ تنظیم بغداد اور وسطی و جنوبی صوبوں میں موجود اپنے خفیہ عناصر کو اس مقصد کے لیے استعمال کرسکتی ہے۔
چوتھا منظرنامہ: داعش کی جگہ کسی متبادل یا تبدیل شدہ تنظیم کا ظہور
اس منظرنامے میں داعش کی جگہ کوئی نئی تنظیم سامنے آسکتی ہے یا موجودہ گروہ اپنی شکل تبدیل کرکے دوبارہ منظم ہوسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، یہ چاروں امکانات میں سب سے بعید اور کم امکان رکھنے والا منظرنامہ ہے۔
داعش کے مکمل خاتمے میں حائل 8 بنیادی رکاوٹیں
حمورابی مطالعاتی مرکز کے تجزیے میں 8 بنیادی عوامل کی نشاندہی کی گئی ہے جو داعش کے مکمل خاتمے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
1: عراق میں سیاسی عدم استحکام
سیاسی کشمکش اور بعض سیاسی دھڑوں کی جانب سے داعش کے معاملے سے اپنے مفادات کے لیے فائدہ اٹھانے کی کوششیں۔
2: علاقائی مداخلتیں
ایران کے خلاف 12 روزہ اور 40 روزہ جنگوں کے بعد علاقائی مداخلتوں اور ان کے عراق پر پڑنے والے اثرات کو بھی ایک اہم عامل قرار دیا گیا ہے۔
3: امریکی انخلا اور سکیورٹی خلا کا بیانیہ
امریکی فوجیوں کے انخلا کو بہانے کے طور پر استعمال کرنا اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے نام نہاد سکیورٹی خلا کا بیانیہ پیش کرنا۔
4: سماجی اور قبائلی ڈھانچہ
جون 2014 کے بعد تشکیل پانے والے سماجی اور قبائلی ڈھانچے سے متعلق مسائل۔
5: مرکزی حکومت اور کردستان کے درمیان اختلافات
کرکوک کے معاملے پر عراقی مرکزی حکومت اور کردستان ریجن کے درمیان اختلافات، جن کے نتیجے میں ایسے علاقے وجود میں آئے ہیں جہاں سکیورٹی کنٹرول کمزور ہے۔
6: عدالتی نظام کی کمزوریاں
عام معافی کے قانون کے بعد عراقی عدالتی نظام کی کمزوری اور دہشت گردی کے مقدمات میں ملوث تقریباً 7 ہزار ملزمان کی جیلوں میں آمد کو بھی ایک اہم مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔
7: کمانڈ اور کنٹرول کے نظام میں تقسیم
مشترکہ کمانڈز کے خاتمے اور کمانڈر ان چیف کے دفتر کے قیام کے بعد کمانڈ اور کنٹرول کے نظام میں تقسیم پیدا ہونا، جس سے غیر ارادی طور پر 2014 کے فوجی طریقۂ کار اور موصل کے سقوط سے پہلے جیسی صورت حال کی واپسی کا خدشہ پیدا ہوا۔
8: سابقہ زیر قبضہ علاقوں کے نوجوانوں پر نفسیاتی اثرات
داعش کے سابقہ زیر قبضہ علاقوں میں رہنے والے دسیوں ہزار نوجوانوں کو پہنچنے والے نفسیاتی نقصانات بھی اس گروہ کے دوبارہ ابھرنے کے خطرے سے متعلق ایک عامل قرار دیے گئے ہیں۔
شہری علاقوں یا صحراؤں میں داعش کی سرگرمیوں کے محدود امکانات
موجودہ حالات کے پیش نظر، رپورٹ کے مطابق عراق میں داعش کی سرگرمیوں کے امکانات بتدریج محدود ہوتے جارہے ہیں۔ 2014 میں زیر قبضہ علاقوں سے محرومی، مالی وسائل میں کمی، اتحادیوں اور درمیانی درجے کے کمانڈروں کا ساتھ چھوڑ دینا، رسد کا نظام تباہ ہونا اور حشد الشعبی کی انٹیلی جنس صلاحیت میں اضافہ، اس گروہ کی نقل و حرکت اور کارروائیوں کی گنجائش کم کررہے ہیں۔
اسی بنیاد پر رپورٹ میں داعش کی جانب سے شہری علاقوں میں کارروائیوں کو نسبتاً کم امکان والا قرار دیا گیا ہے، کیونکہ اس طرح کی کارروائیوں کے لیے مرکزی کمانڈ اور کنٹرول درکار ہوتا ہے۔
اس صورت میں کارروائیوں کے بے نقاب ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور مالی وسائل کا انتظام بھی زیادہ مشکل ہوجاتا ہے۔ مزید برآں، حشد الشعبی کے پاس شہری علاقوں میں ایک مضبوط انٹیلی جنس نیٹ ورک موجود ہے۔
دوسری جانب، صحراؤں میں موجود رہنا بھی داعش کے لیے خطرات سے خالی نہیں۔ کھلے علاقوں میں اس کے عناصر کا تعاقب کرنا نسبتاً آسان ہوجاتا ہے۔
قبائل کی مزاحمت اور مقامی آبادی میں اس گروہ کے خلاف پائی جانے والی شدید نفرت نے بھی اس کی سماجی حمایت محدود کردی ہے۔
تاہم، رپورٹ کے مطابق، چوتھی اور پانچویں نسل کی جنگوں میں کمزور فریق غیر متوقع کارروائیوں پر انحصار کرتا ہے، جس سے اسے اپنی محدود صلاحیتوں کے باوجود کارروائیوں کا موقع مل سکتا ہے۔
نتیجہ
حمورابی مطالعاتی مرکز نے اپنے تجزیے کے اختتام پر زور دیا ہے کہ عراق میں داعش کی سرگرمیوں کی ممکنہ بحالی کے پیش نظر، آئندہ 5 برس کے دوران بھی اس گروہ کی سرگرمیاں جاری رہ سکتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، سب سے زیادہ ممکنہ منظرنامہ یہ ہے کہ داعش محدود پیمانے پر، مختلف علاقوں میں منتشر اور ذرائع ابلاغ میں نمایاں ہونے والی کارروائیاں جاری رکھے، یا کرکوک، الحویجہ اور مغربی الانبار میں اپنے اثر و رسوخ کے لیے مخصوص علاقے قائم کرنے کی کوشش کرے۔
تاہم، موجودہ حالات میں 2014 کی طرز پر وسیع علاقائی قبضے کی بحالی اور جنگ کو بڑے شہری علاقوں تک پھیلانا کم امکان والا سمجھا گیا ہے۔
اس تجزیے میں داعش کی دوبارہ بحالی کو روکنے کے لیے عراقی مرکزی حکومت اور کردستان ریجن کے درمیان سکیورٹی رابطہ کاری مضبوط بنانے، عدالتی نظام میں اصلاحات کرنے اور امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد پیدا ہونے والے مبینہ سکیورٹی خلا کے بیانیے کا مقابلہ کرنے کو بنیادی شرائط قرار دیا گیا ہے۔


مشہور خبریں۔
9 مئی مقدمات: علی امین گنڈاپور، فیصل جاوید کی راہداری ضمانت منظور
?️ 19 فروری 2024پشاور: (سچ خبریں) پشاور ہائیکورٹ نے نامزد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا و رہنما تحریک
فروری
امریکہ کے نیواورلینز واقعہ میں 2 صیہونی زخمی
?️ 2 جنوری 2025سچ خبریں:صیہونی وزارت خارجہ نے اطلاع دی ہے کہ امریکہ کے نیواورلینز
جنوری
عرب ممالک ابراہیم معاہدے پر توجہ دینے کو تیار نہیں : عبرانی میڈیا
?️ 27 مئی 2026 سچ خبریں: ایک معروف عبرانی اخبار نے اعتراف کیا ہے کہ
مئی
افغانستان میں سکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ، اشرف غنی نے وزیر داخلہ کو عہدے سے برطرف کردیا
?️ 21 مارچ 2021کابل (سچ خبریں) افغانستان میں آئے دن حملوں میں شدید اضافہ ہورہا
مارچ
فدان: نیتن یاہو کی تخریب کاری کا امکان ہے
?️ 5 اکتوبر 2025سچ خبریں: ترک وزیر خارجہ نے حماس کی طرف سے ٹرمپ کے
اکتوبر
مغربی کنارے میں نیتن یاہو کے خلاف مزاحمت کا تھپڑ
?️ 8 جنوری 2025سچ خبریں: عرب دنیا کے معروف تجزیہ کار اور علاقائی اخبار رای
جنوری
راک نے وین ڈیزل پر کیا الزام لگایا؟
?️ 31 دسمبر 2021کیلفورنیا(سچ خبریں) ہالی وڈ اداکار ڈیوائن جانسن ‘دی راک’ نے سوشل میڈیا
دسمبر
بلوچستان: حق دو تحریک کی احتجاجی ریلی، ہدایت الرحمٰن کی رہائی کا مطالبہ
?️ 25 اپریل 2023بلوچستان: (سچ خبریں) حق دو تحریک کے سیکڑوں حامیوں بشمول بڑی تعداد
اپریل