ایران امریکہ مذاکرات میں ایران کی بالادستی؛ امریکہ کا چند مطالبات سے پیچھے ہٹنے کا عندیہ 

?️

سچ خبریں:ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں ایران اس وقت جوہری میدان میں ایک مضبوط پوزیشن پر فائز ہے اور وہ اپنے ایٹمی پروگرام کو روکنے سے واضح انکار کر چکا ہے۔

المیادین نیوز چینل کی ویب سائٹ نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جوہری مذاکرات پر ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ بالواسطہ مذاکرات مسقط (عمان) میں منعقد ہوئے، جہاں دیگر ممالک کی شمولیت اور ان کے کردار کا بھی جائزہ لیا گیا۔
 رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اقتدار میں آنے کے بعد ایران کے خلاف معاشی دباؤ اور محدود فوجی دھمکیوں پر مبنی جارحانہ حکمت عملی اپنائی۔
ٹرمپ نے ہر محاذ پر طاقت کے مظاہرے کے ساتھ دھمکیاں دیں، جس میں تجارتی جنگ اور محدود فوجی کارروائیاں شامل ہیں۔ تاہم ایران کے حوالے سے صورتحال خاصی پیچیدہ اور مبہم رہی۔
ایران کی مذاکراتی حکمت عملی
رپورٹ کے مطابق، ایران نے مذاکرات کی میز پر آنے کی دلچسپی دو اہم وجوہات کی بنا پر ظاہر کی:
1. معاشی پابندیوں کا خاتمہ
2. خطے میں اپنی اسٹریٹجک حکمت عملی کو ازسر نو ترتیب دینے کے لیے وقت کا حصول
ایران نے امریکہ کی سیاسی بلیک میلنگ کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگرچہ مذاکرات خفیہ رکھے گئے، تاہم ان کے دوران خطے میں فوجی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا، جس سے مذاکرات کی پیچیدگی کا اندازہ ہوتا ہے۔
اب ایران، 2015 کے جوہری معاہدے کی طرز پر بات چیت شروع کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ایران اب ایک بلند تر جوہری سطح پر فائز ہے اور وہ کسی بھی قسم کی پروگرام کی بندش یا معطلی کو قبول نہیں کرتا۔
دوسری طرف، ٹرمپ نے بھی واضح کیا ہے کہ وہ صرف ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی مخالفت کرتا ہے، نہ کہ خود اس کے پرامن جوہری پروگرام کی۔
 یہ امریکی موقف میں ایک واضح لچک اور پسپائی کے مترادف ہے، کیونکہ ماضی میں امریکہ مکمل طور پر ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے پر زور دیتا رہا ہے۔
بین الاقوامی فریقین کا مؤقف
رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو مذاکرات کے عمل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور وہ ایران پر دباؤ بڑھانے کے ساتھ ساتھ داخلی سیاسی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
چین بھی ان مذاکرات میں ایک اہم فریق کے طور پر موجود ہے۔ اس دوران ٹرمپ عالمی سطح پر تمام تنازعات کو ختم کر کے اپنی توانائی کو چین کے خلاف بڑی تجارتی جنگ کے لیے مختص کرنا چاہتے ہیں۔
 یورپ سے ایشیا تک پھیلنے والی ان کی تجارتی پالیسی، ایک ہمہ جہت طاقت کے حصول کی جنگ کی تیاری ہے، جس میں امریکہ کو برتری حاصل ہو۔
ٹرمپ کے عالمی اقتدار کے منصوبے کی ناکامی
المیادین کے مطابق، ٹرمپ کسی بھی متوازن معاہدے پر راضی نہیں بلکہ عالمی وسائل پر مکمل قبضہ چاہتے ہیں، خاص طور پر اپنے اتحادی ممالک میں۔ ان کا مقصد طاقت کے زور پر دنیا کو جھکانا ہے، نہ کہ مفاہمت کی بنیاد پر عالمی نظم قائم کرنا۔
اگر یہ منصوبہ ناکام ہو جاتا ہے تو ٹرمپ مجبور ہوں گے کہ وہ زیادہ سخت معاشی پابندیاں اور ممکنہ فوجی جنگوں کی راہ اختیار کریں، تاہم، یہ راستہ دیگر عالمی طاقتوں کے مفادات سے متصادم ہے اور عالمی سطح پر تنازعات میں اضافے کا باعث بنے گا۔
ٹرمپ کی داخلی کمزوریاں بھی اس منصوبے میں رکاوٹ ہیں۔ مظاہرے، معاشی دباؤ، سیاسی مخالفت اور ممکنہ خطرات ان کی پالیسیوں کو غیر مستحکم کر رہے ہیں۔
 رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ کے سب سے بڑے دشمن صرف بیرون ملک نہیں بلکہ خود امریکی میڈیا، مالیاتی ادارے اور سیاسی حلقے بھی ان کی حکمت عملی کو عالمی امن کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔
خلاصہ
المیادین نے اپنی رپورٹ کے اختتام پر لکھا کہ ٹرمپ کی انتہا پسندانہ پالیسیوں نے نہ صرف عالمی سیاسی نظم کو درہم برہم کیا ہے بلکہ طاقت کے اصول پر مبنی ایک نیا تصور پیش کیا ہے۔ دنیا کے مختلف گروہ اس وقت منتظر ہیں کہ وہ لمحہ کب آئے گا جب وہ شخص زوال پذیر ہو گا جس نے عالمی سیاست کی ترتیب کو ہلا کر رکھ دیا۔

مشہور خبریں۔

اپوزیشن کو حکومتی فیصلے کو خوش آئند قرار دینا چاہیے

?️ 21 ستمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین

اسرائیل کے علاقائی اقدامات پر ایک نظر

?️ 27 جون 2025سچ خبریں: جمہوریہ اسلامی ایران کے مسلح افواج کے اسرائیلی ریاست پر

یمن پر امریکی حملے کے دوران ٹرمپ کا متکبرانہ انداز

?️ 16 مارچ 2025 سچ خبریں:امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے یمن پر جاری وحشیانہ

سعودی لڑاکا طیاروں نے صنعا کے ایک اسپتال پر بمباری کی

?️ 13 جنوری 2022سچ خبریں:  یمن کے نہتے اور بے گناہ عوام کے خلاف سعودی

فرانسیسی پارلیمنٹیرینز کا حکومت پر عدم اعتماد

?️ 18 مارچ 2023سچ خبریں:ایمینوئل میکرون کی حکومت کے متنازعہ پنشن پلان پر ردعمل کے

ہفتہ وار مہنگائی بدستور 44 فیصد سے زائد

?️ 8 اپریل 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق 6 اپریل کو

خطے میں امریکہ کا نیا اشتعال انگیز قدم

?️ 8 اگست 2023سچ خبریں:امریکی بحریہ کے پانچویں بحری بیڑے نے 3,000 سے زیادہ امریکی

چین یوکرین بحران کے حل کے لیے تمام فریقوں کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار

?️ 27 اپریل 2023سچ خبریں:روس میں چین کے سفیر نے کہا کہ چین یوکرین کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے