ایران عراق تعلقات؛ مشترکہ تعاون اور روشن مستقبل کی نئی امید

عراق

?️

سچ خبریں:تہران میں عراق کے سفیر نے ایران کے ساتھ تعلقات کو بغداد کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے وزیراعظم کے متوقع دورۂ تہران کو دوطرفہ تعاون، اقتصادی شراکت اور علاقائی استحکام کے فروغ کی علامت قرار دیا۔

تہران میں عراق کے سفیر ڈاکٹر یاسر عبدالزہرا الحجاج نے ایران کے ساتھ تعلقات کو بغداد کی خارجہ پالیسی کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات تاریخی، جغرافیائی، ثقافتی اور مذہبی بنیادوں پر استوار ہیں اور مستقبل میں انہیں مزید وسعت دی جائے گی۔

اپنے ایک کالم میں انہوں نے لکھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں عراق کے سفیر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سنبھالنا ان کے لیے باعثِ فخر ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات محض ہمسائیگی تک محدود نہیں بلکہ گہرے انسانی، ثقافتی اور دینی رشتوں پر مبنی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ تجربات نے ثابت کیا ہے کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام صرف باہمی تعاون، مکالمے اور اعتماد سازی کے ذریعے ہی ممکن ہے، جبکہ اقتصادی ترقی علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ اسی لیے عراق اپنے ہمسایہ ممالک کو اپنی تزویراتی گہرائی اور مشترکہ مستقبل کا بنیادی شراکت دار سمجھتا ہے۔

سفیر کے مطابق گزشتہ برسوں میں عراق اور ایران کے درمیان سیاسی، اقتصادی، ثقافتی اور سماجی شعبوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ دونوں ممالک تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، نقل و حمل اور رابطہ کاری کے منصوبوں میں مزید تعاون کو فروغ دیں تاکہ مشترکہ مفادات کو تقویت مل سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ عراق اپنی متوازن خارجہ پالیسی پر کاربند ہے، جو تمام ممالک کے ساتھ مثبت تعلقات، سیاسی بلاک بندی سے گریز اور اختلافات کے حل کے لیے مکالمے پر مبنی ہے۔ ان کے بقول، عراق کا یقین ہے کہ علاقائی تعاون ہی خطے میں امن اور استحکام کی حقیقی ضمانت فراہم کر سکتا ہے۔

ڈاکٹر الحجاج نے کہا کہ عراق اپنی تاریخی، تمدنی، سماجی اور ثقافتی حیثیت کے باعث خطے میں نرم قوت کا اہم مرکز ہے، جو مختلف ممالک کے درمیان اعتماد اور مفاہمت کے فروغ میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ ایران کے ساتھ تعلقات عراق کی ترجیحات میں سرفہرست ہیں، کیونکہ ان کی سیاسی، اقتصادی اور سماجی اہمیت غیر معمولی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران میں ان کی سفارتی ذمہ داری کا بنیادی مقصد باہمی احترام، عدم مداخلت اور مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے تاکہ دونوں ممالک اور عوام کے مشترکہ مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

عراقی سفیر نے وزیراعظم علی الزیدی کے متوقع دورۂ تہران کو بھی انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون، شراکت داری اور مختلف مشترکہ امور پر ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ برسوں میں عراق نے اپنے ریاستی اداروں کو مضبوط بنانے، متوازن خارجہ پالیسی اپنانے اور علاقائی و بین الاقوامی تعلقات کو ترقی اور استحکام کے لیے بروئے کار لا کر اپنی علاقائی اور عالمی حیثیت کو مستحکم کیا ہے۔

سفیر کے مطابق عراق اور ایران کے تعلقات صرف حکومتی سطح تک محدود نہیں بلکہ دونوں اقوام کے درمیان صدیوں پر محیط تمدنی، ثقافتی، سماجی اور مذہبی رشتوں پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان روابط کی نمایاں مثال ہر سال ہونے والا اربعین کا عظیم اجتماع ہے، جو دونوں قوموں کے درمیان اخوت، یکجہتی اور مشترکہ تہذیبی ورثے کی عملی تصویر پیش کرتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مستقبل میں عراق اور ایران کے تعلقات کو مشترکہ صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اقتصادی، ثقافتی اور سیاسی تعاون کے فروغ پر استوار ہونا چاہیے، تاکہ دونوں ممالک کے عوام کے مفادات کے ساتھ ساتھ پورے خطے میں امن اور استحکام کو بھی تقویت مل سکے۔

انہوں نے کہا کہ تہران میں عراق کے نمائندے کے طور پر وہ یہی پیغام لے کر آئے ہیں کہ حسنِ ہمسائیگی صرف خارجہ پالیسی کا ایک اصول نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے ایک پُرامن، مستحکم اور خوشحال مستقبل کی تزویراتی ضرورت ہے۔

مشہور خبریں۔

عارضی جنگ بندی سے جیت کس کی ہوئی؟ حماس کی یا صیہونی حکومت کی؟

?️ 25 نومبر 2023سچ خبریں: اس میں کوئی شک نہیں کہ 4 روزہ عارضی جنگ

داسو حملے کے بارے میں وزیر خارجہ کا اہم بیان سامنے آگیا

?️ 12 اگست 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ

پیوٹن کے ترجمان نے جوہری ہتھیاروں کے بارے میں بائیڈن کو جواب دیا

?️ 18 ستمبر 2022سچ خبریں:   روسی ایوان صدر کے ترجمان نے امریکی صدر کے الفاظ

’’اہلاً و سہلاً، مرحبا‘‘، صدر یو اے ای کی پاکستان آمد پر خصوصی استقبالی نغمہ جاری

?️ 26 دسمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) ’’اہلاً و سہلاً، مرحبا‘‘، متحدہ عرب امارات کے

امریکی کمپنی کی جانب سے اسرائیل کا بائیکاٹ، اسرائیلی وزیر اعظم بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے

?️ 22 جولائی 2021تل ابیب (سچ خبریں) امریکی کمپنی کی جانب سے اسرائیل کے بائیکاٹ

فلسطینی یمن کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے سڑکوں پر

?️ 11 جنوری 2025سچ خبریں: فلسطین کی اسلامی جہاد موومنٹ نے یمن کے خلاف دہشت

تائیوان کے تحفظ کے بارے میں چین کا امریکہ کو انتباہ

?️ 16 ستمبر 2022سچ خبریں:    جزیرے کے معاملات میں مداخلت کے بارے میں چین

صہیونی متحدہ عرب امارات کی حمایت کرنے سے عاجز

?️ 1 فروری 2022سچ خبریں: عبدالباری عطوان نے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کے حالیہ دورہ متحدہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے