انصار اللہ کی کثیر الجہتی فتح؛ باب المندب کے بارے میں امریکی منصوبہ کیسے ناکام ہوا؟

باب المندب

?️

سچ خبریں:یمن کے مغربی ساحل پر انصار اللہ کی بڑی کامیابی نے باب المندب میں طاقت کا توازن تبدیل کردیا ہے اور خطے میں امریکی منصوبوں، سعودی عرب اور مزاحمتی محاذ کے لیے نئی اسٹریٹجک صورتحال پیدا کردی ہے۔

انصار اللہ کی کثیر الجہتی فتح اور باب المندب کے بارے میں امریکی منصوبے کی ناکامی

یمن کے مغربی ساحل پر صنعا کی حیران کن پیش قدمی اور باب المندب پر مکمل کنٹرول ایک ایسی کثیر الجہتی کامیابی ہے جس کے اثرات پورے خطے میں نمایاں ہورہے ہیں۔

یمنی عوام کی مغربی ساحل پر بڑی کامیابی اور باب المندب پر مکمل کنٹرول اگرچہ ایک اہم فوجی کامیابی ہے، تاہم اس کے متعدد سیاسی پیغامات بھی ہیں جن کے علاقائی اور ممکنہ طور پر عالمی سطح پر دور رس اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

سعودی دشمن کے مقابل یمنی اتحاد

اردنی سیاسی تجزیہ کار عماد الحطبہ نے المیادین کے لیے اپنے ایک مختصر تجزیہ میں صنعا کی اس کامیابی کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا کہ فوجی سطح پر انصار اللہ کی یہ کامیابی ایک بار پھر سعودی قیادت میں قائم جارح اتحاد کی کسی بھی قابل ذکر فوجی فتح حاصل کرنے میں ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔

 ان کے مطابق یہ امر بھی ثابت ہوتا ہے کہ انصار اللہ یمن کے داخلی تنازع کو اس ملک کے بحران کے حل کا راستہ نہیں سمجھتی بلکہ اس کی جنگ کا اصل رخ بیرونی دشمن کے خلاف ہے۔

اس کا اظہار ان سینکڑوں یمنی جنگجوؤں کے تیزی سے ہتھیار ڈالنے سے بھی ہوا جو اس سے قبل جارح اتحاد کی صفوں میں کرائے کے جنگجو کے طور پر لڑ رہے تھے۔ یمنی قیادت کی جانب سے عام معافی کے اعلان اور ان افراد کے استقبال نے بھی اس عمل کو تقویت دی جنہیں گمراہ کرکے جنگ میں شامل کیا گیا تھا۔

اس صورتحال میں کہا جاسکتا ہے کہ انصار اللہ نے یمنیوں کو اپنے ہی ہم وطنوں کے خلاف جنگ سے روکنے میں کامیابی حاصل کی ہے اور سعودی عرب اس جنگ میں تنہا رہ گیا ہے، بالخصوص اس لیے کہ اس کے کسی بھی بڑے اتحادی، خصوصاً امریکہ، نے یمن کے خلاف براہ راست جنگ میں مؤثر مدد یا شمولیت پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔

انصار اللہ کی کامیابی کی اہمیت صرف المخا بندرگاہ پر قبضے تک محدود نہیں، بلکہ اس کے نتیجے میں بحیرہ احمر کے داخلی راستے پر کنٹرول حاصل ہوا ہے اور صنعا کی فورسز کو اس کے سامنے واقع تمام جزائر پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی صلاحیت بھی حاصل ہوگئی ہے۔

انصار اللہ کی کامیابی؛ پورے مزاحمتی محاذ کے لیے اسٹریٹجک فائدہ

دوسری جانب یمنی عوام کی یہ بڑی کامیابی امریکہ اور صہیونی حکومت کے خلاف جاری وسیع تر محاذ آرائی کا حصہ بھی ہے۔ غزہ اور لبنان کی مزاحمت کی حمایت کے ذریعے یمن نے مزاحمتی محاذ میں اپنی پوزیشن پہلے ہی واضح کردی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ضرورت پڑنے پر انصار اللہ اس فوجی برتری اور اسٹریٹجک فائدے کو ایران کے امریکہ کے ساتھ جنگی محاذ اور مستقبل میں ہونے والے کسی بھی مذاکرات میں تہران کے مؤقف کی حمایت کے لیے استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گی۔

باب المندب کے بارے میں امریکی منصوبے کی ناکامی

امریکہ نے 2015 سے یمن کے خلاف تباہ کن جنگ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ بنیادی طور پر واشنگٹن کی ہدایت پر ہی سعودی عرب نے ایک اتحاد کی قیادت کرتے ہوئے یمن کے خلاف جارحیت شروع کی تھی۔

موجودہ مرحلے میں بھی امریکہ نے یمن میں کشیدگی بڑھانے میں کردار ادا کیا، جس کا مقصد انصار اللہ اور مجموعی طور پر مزاحمتی محاذ کو باب المندب سے محروم کرنا تھا تاکہ علاقائی جنگ کے دوران اس اہم آبنائے کو دباؤ کے ایک مؤثر ذریعے کے طور پر استعمال نہ کیا جاسکے۔

اس منصوبے کی کامیابی سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کو نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ایوان نمائندگان میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے بڑی سیاسی مدد مل سکتی تھی۔

تاہم امریکی حکمت عملی ساز اس بنیادی حقیقت کو سمجھنے میں ناکام رہے کہ ایران اور یمن کی افواج انتخابی کامیابیوں کے لیے جنگ نہیں لڑ رہیں اور نہ ہی یہ جنگیں محض نیابتی جنگیں ہیں۔

مزاحمتی محاذ کا جنگی نظریہ قومی وقار، مکمل خودمختاری، آزادی اور سامراجیت و اس کے منصوبوں کی مخالفت جیسے اصولوں پر مبنی ہے۔ یہ ایسا نظریہ ہے جو مفاہمت یا نفع و نقصان کے حساب کتاب کا پابند نہیں بلکہ قربانی اور ثابت قدمی کو اپنی بنیاد سمجھتا ہے۔

اگرچہ ٹرمپ نے براہ راست شکست تسلیم نہیں کی اور اب بھی اس کا اعتراف کرنے سے گریز کررہے ہیں، لیکن وہ جنگ کے نتائج پر اپنی مایوسی چھپا نہیں سکتے۔ درحقیقت ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی خود کو اب ایک ایسے خطرناک اور ناگزیر بحران میں پھنسا ہوا محسوس کررہے ہیں جس سے نکلنا آسان نہیں۔

ٹرمپ کا دو طرفہ نقصان کا جال

ایک جانب ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوئی بھی کوشش آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں کی بندش کا خطرہ پیدا کرے گی، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر پہلے سے موجود سنگین اقتصادی بحران مزید شدت اختیار کرسکتا ہے۔

اس کے علاوہ اس بات کا بھی امکان ہے کہ یمن اگلے مرحلے میں براہ راست میدان میں اترے اور صہیونی حکومت کے خلاف اپنے حملے دوبارہ شروع کرنے کے ساتھ ساتھ افریقہ میں موجود امریکی اڈوں، بشمول جبوتی اور کینیا، کو بھی نشانہ بنائے۔

دوسری جانب امریکہ وسط مدتی انتخابات سے قبل یمن میں براہ راست جنگ میں داخل نہیں ہوسکتا، کیونکہ ایسا کرنے سے امریکی عوام کے ذہنوں میں ایران کے ساتھ جنگ کے تباہ کن نتائج ایک بار پھر تازہ ہوجائیں گے اور شکست کا امکان ایک یقینی اور ممکنہ طور پر تباہ کن شکست میں تبدیل ہوسکتا ہے۔

چنانچہ ٹرمپ آج اسی جال میں پھنس چکے ہیں جو انہوں نے خود بچھایا تھا اور انہیں ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ احساس بڑھتا جارہا ہے کہ ان کا سیاسی مستقبل خطے میں شروع کی گئی جنگ کے نتائج سے تیزی سے جڑتا جارہا ہے۔ دوسری جانب میدان جنگ میں مزاحمتی محاذ کی کامیابیوں کے باعث اس کا سیاسی اثر و رسوخ بھی مسلسل بڑھ رہا ہے۔

مشہور خبریں۔

ایران پر صیہونی حملے پر چین کا شدید ردعمل 

?️ 16 جون 2025سچ خبریں: چین کے وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اسرائیل

20 سال بعد ’میں ہوں نا‘ کا سیکوئل بنائے جانے کا امکان

?️ 7 فروری 2025سچ خبریں: بولی وڈ بادشاہ ’شاہ رخ خان‘ کی 2004 کی بلاک

امریکی یونیورسٹیوں میں مسلح تشدد کا تسلسل / انڈیانا یونیورسٹی میں 9 افراد زخمی

?️ 26 اپریل 2026 سچ خبریں: امریکہ کی یونیورسٹیوں اور دیگر تعلیمی مراکز میں مسلح تشدد

عدلیہ کو کمزور کرنے کے لیے آئین میں ترمیم کی گئی، شاہد خاقان عباسی

?️ 26 فروری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) عوام پاکستان پارٹی ( اے پی پی) کے

شام میں دہشت گردی کا خاتمہ ہونا چاہیے:روس

?️ 16 فروری 2021سچ خبریں:شام کے لئے روس کے ایلچی نے آستانہ مذاکرات میں شام

اسرائیلی حملے کی مذمت کرنے والے ممالک 

?️ 14 جون 2025سچ خبریں: صہیونی ریاست کے ایران پر کھلے حملے کے بعد متعدد

9 مئی کیسز: عمران خان کی درخواست ضمانت، پراسیکیوٹرز کی عدم حاضری پر عدالت کا اظہار برہمی

?️ 17 جنوری 2024اسلام آباد:(سچ خبریں) نو مئی پرتشدد واقعات کے مقدمات میں بانی پی

ٹک ٹاک کی جانب سے صارفین کے لئے اہم اعلان

?️ 5 دسمبر 2021کراچی (سچ خبریں) ٹک ٹاک نےصارفین کے لئے  آج خصوصی ٹرانسپیرنسی سینٹر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے