?️
سچ خبریں:معروف لبنانی روزنامہ الاخبار کے چیف ایڈیٹر ابراہیم الامین نے پیجر دھماکوں کی تفصیلات، حزب اللہ کے خلاف صیہونی کارروائیوں اور سید حسن نصراللہ کے قتل کے بعد مزاحمتی تحریک کے ممکنہ ردعمل پر تفصیلی تجزیہ لکھا ہے۔
لبنانی روزنامہ الاخبار کے چیف ایڈیٹر ابراہیم الامین نے پیجر دھماکوں کی کارروائی کی بعض نئی اور پوشیدہ تفصیلات بیان کرتے ہوئے صیہونی حکومت کی جانب سے سید حسن نصراللہ کے قتل کے بعد انتقام سے متعلق اہداف اور محرکات پر روشنی ڈالی ہے۔
ابراہیم الامین نے اپنے تجزیہ میں پیجر دھماکوں کی صیہونی کارروائی کی نئی تفصیلات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ عام کاغذ جتنی موٹائی رکھنے والی ایک انتہائی باریک چپ ہی کافی تھی تاکہ ہاتھ میں استعمال ہونے والے پیجرز کو حقیقی بم جیسے دھماکہ خیز اثر کا حامل بنایا جاسکے۔ یہ چپ پیجرز کی بیٹری میں استعمال ہونے والے مواد کے اندر نصب کی گئی تھی۔
اس عرب تجزیہ کار نے اس کارروائی میں امریکہ کے کردار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ یہ مواد اسرائیل میں تیار نہیں کیا گیا تھا بلکہ امریکہ میں موجود اس ملک کے ایک فوجی اڈے پر امریکی فوج کے ایک فوجی مرکز میں تیار کیا گیا تھا۔
ان کے مطابق، ابتدائی طور پر کیے گئے متعدد تجربات خود پیجر کے عمل سے متعلق نہیں تھے بلکہ دیگر امور سے متعلق تھے جنہیں اس سے قبل دنیا کے مختلف علاقوں، بشمول فلسطین، میں آزمایا جاچکا تھا۔ ان میں یحییٰ العیاش کو نشانہ بنانے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
الاخبار نے لکھا ہے کہ یہ فریب کاری دنیا کی خفیہ ایجنسیوں کے لیے کوئی غیر معمولی طریقہ نہیں بلکہ ان کے ڈھانچے اور طریقۂ کار کی بنیادی خصوصیت ہے۔ تاہم، تجزیہ کے مطابق اسرائیل کے معاملے میں اس فریب کاری کی کوئی حد نہیں۔
صہیونیوں کی پیجر کارروائی کی ماسٹر چابی
ابراہیم الامین پیجر کارروائی کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یوسی کوہن، جو بعد میں موساد کے سربراہ بنے، نے میئر داگان کے ساتھ اپنی نئی ذمہ داریاں شروع کیں۔ تجزیہ میں داگان کو موساد کا ایک انتہائی سخت گیر سربراہ قرار دیا گیا ہے جس نے حزب اللہ کے خلاف متعدد منصوبے شروع کیے۔
الامین کے مطابق، داگان نے 2000 میں اپنی رہائی کے بعد ایک خصوصی پروگرام شروع کیا، جبکہ 11 ستمبر 2001 کے واقعات کے بعد حالات نے اس کے لیے نئے مواقع پیدا کردیے۔ اس وقت امریکہ کی قیادت میں دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر سکیورٹی سرگرمیاں شروع ہوگئی تھیں۔
کچھ عرصے بعد داگان نے یوسی کوہن کو لبنان بھیجا۔ تجزیہ کے مطابق کوہن کئی مرتبہ لبنان گیا۔ وہ لبنان میں کس طرح داخل ہوا، کہاں قیام کیا اور کس سے ملاقاتیں کیں، یہ اس تجزیہ کے مطابق اہم نہیں؛ تاہم کوہن حزب اللہ کے اندر انسانی نفوذ کے منصوبے کو منظم کرنے میں پہلے ہی کردار ادا کرچکا تھا۔
اس کی بنیادی ذمہ داری مزاحمت کے اعلیٰ سطح کے کمانڈروں تک رسائی حاصل کرنا تھی۔ تجزیہ کے مطابق اس کی مطلوبہ فہرست میں حزب اللہ کے علاوہ اس جماعت کی جہادی کونسل کے تمام ارکان بھی شامل تھے، خواہ وہ عوام میں معروف ہوں یا پس پردہ کام کررہے ہوں۔
الامین کے مطابق، کوہن کے پاس ان افراد سے متعلق وہ تمام معلومات موجود تھیں جو اسرائیل نے مزاحمت کی صلاحیتوں کو فروغ دینے میں کردار ادا کرنے والے افراد کے بارے میں جمع کی تھیں۔
نصراللہ صہیونی دشمن کا اولین ہدف کیوں تھے؟
تجزیہ کے مطابق، صیہونی حکومت اسی سوچ کے ساتھ لبنان میں مزاحمت کے خلاف اپنی جنگ کو آگے بڑھا رہی تھی۔ اس پورے عمل میں سید حسن نصراللہ کو ایک ایسے رہنما کے طور پر دیکھا جاتا تھا جو اسرائیل کے لیے ایک بڑا خطرہ تھے۔
تجزیہ میں کہا گیا ہے کہ صیہونی نقطۂ نظر سے وہ صرف وسیع اختیارات رکھنے والے حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نہیں تھے بلکہ ایک ایسے مرکز اور ڈھال کی حیثیت اختیار کرچکے تھے جو دنیا بھر میں اسرائیل کے خلاف مزاحمتی سرگرمیوں کے ایک وسیع نیٹ ورک کو سہارا فراہم کرتی تھی۔
تجزیہ کے مطابق، صیہونی حکومت کا اہم ترین مقصد سید حسن نصراللہ کی نقل و حرکت اور سرگرمیوں کے طریقۂ کار کو سمجھنا تھا اور جب یہ معلومات حاصل ہوگئیں تو کارروائی کے مرحلے کا آغاز کیا گیا۔
شہید سید حسن نصراللہ کا انتقام کیسے لیا جاسکتا ہے؟
ابراہیم الامین اپنے تجزیہ کے آخری حصے میں لکھتے ہیں کہ سید حسن نصراللہ کی شہادت کو 2 سال گزر چکے ہیں اور عوام اس صدمے سے آسانی سے باہر نہیں آسکیں گے۔
تاہم، ان کے مطابق معاملہ صرف کسی عزیز رہنما کی جدائی کے غم تک محدود نہیں، کیونکہ مزاحمت کے حامی ماضی میں بھی اپنے نقصان اور قربانیوں کا سامنا کرتے رہے ہیں اور ان کے ذہن و دل میں ایسے محرکات موجود ہیں جو اس نقصان کو ایک قوت میں تبدیل کرتے ہیں۔
الاخبار کے مطابق، اگر تمام محاذوں پر وسیع جنگ کا مقصد مخالف فریق کو آرام کرنے اور مستقبل کے بارے میں سوچنے کے لیے مہلت نہ دینا ہے تو صیہونی حکومت اچھی طرح جانتی ہے کہ جنگ ختم نہیں ہوئی اور نہ ہی ختم ہوگی۔
تجزیہ میں کہا گیا ہے کہ طوفان الاقصیٰ کے بعد سامنے آنے والے تجربات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مزاحمت ایک ایسے دشمن کا سامنا کررہی ہے جس کے ساتھ بقائے باہمی ممکن نہیں۔
الامین کے مطابق، انتقام کا تصور محض غصے میں کی جانے والی قبائلی کارروائی نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ ایک مکمل ذمہ داری ہے جو انصاف کے تصور اور بہترین نتائج حاصل کرنے کے عزم کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ تاہم اس کے لیے صیہونی فریب کاری سے زیادہ ذہانت اور حکمت عملی کی ضرورت ہوگی۔
تجزیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس مقصد کے لیے ثابت قدمی ضروری ہے، جو نئی نسل اور طوفان کے ذریعے اپنا راستہ تلاش کرے گی۔
اب یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ دشمن کے خلاف جدوجہد کی کئی شکلیں ہوسکتی ہیں، لیکن تجزیہ کے مطابق لبنان اور فلسطین میں مزاحمت کو ایک مختلف نوعیت کی کارروائی کی ضرورت ہے؛ ایسی کارروائی جس میں دشمن کے پیچیدہ اور تکلیف دہ اقدامات کو سمجھنے اور ان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت موجود ہو۔
اسی لیے، تجزیہ میں کہا گیا ہے کہ دشمن کو اس کی معاشرتی ساخت اور تمام پہلوؤں سمیت گہرائی سے سمجھنا ضروری ہے۔
ابراہیم الامین نے آخر میں لکھا ہے کہ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ صیہونی حکومت اپنے کاغذی گھر کے اندر کس طرح کام کرتی ہے اور اس کی سوچ تک رسائی حاصل کرنی ہوگی۔
ان کے مطابق، اس صورت میں ہمارے پاس انتقام کا ایسا ذریعہ ہوگا جو صرف ایک کاغذ کے ٹکڑے جتنا نہیں بلکہ تاریخ کی تمام کتابوں جتنا وسیع ہوگا۔
تجزیہ کے مطابق، تب ہی سید حسن نصراللہ کے مزار کے سامنے اس مقصد سے کھڑا ہوا جاسکے گا کہ صرف فاتحہ پڑھ کر آنسو بہانے کے بجائے اس شخصیت کو حقیقی خراج عقیدت پیش کیا جائے جو مزاحمت کے حق پر ہونے اور اس کی فتح حاصل کرنے کی صلاحیت کی گواہی کے طور پر زندہ رہے گی۔


مشہور خبریں۔
پاکستان نے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے میں امریکہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا:پاکستانی وزیر دفاع
?️ 22 دسمبر 2022سچ خبریں:پاکستان میں ایک سکیورٹی سینٹر میں یرغمالی کے واقعے کے بعد
دسمبر
اسرائیل کے جنگی رجحانات کی تسکین کے لیے نئی امریکی قرارداد
?️ 21 فروری 2024سچ خبریں:الجزائر کی جانب سے غزہ میں فوری جنگ بندی سے متعلق
فروری
اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس میں 697 پوائنٹس کا اضافہ
?️ 11 جنوری 2024کراچی: (سچ خبریں) پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں آج مثبت
جنوری
سیکا سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے وزیراعظم قازقستان پہنچ گئے
?️ 12 اکتوبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف دو روزہ سرکاری دورے پر
اکتوبر
افغانستان میں بھارت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا
?️ 4 ستمبر 2021لاہور(سچ خبریں) بین الاقوامی امور کے ماہر ، کالمسٹ ، پنجاب یونیورسٹی
ستمبر
امریکی ڈاکٹروں کی نظر میں فلسطینی بچوں کے خلاف صیہونی جرائم
?️ 6 اکتوبر 2024سچ خبریں: غزہ میں رضاکارانہ خدمات انجام دے کر واپس آنے والے
اکتوبر
عراق کے وزیر اعظم کے خلاف شکایت درج
?️ 13 اگست 2022سچ خبریں: عراقی صحافی زہیر قاسم حسن نے ملک کے وزیر
اگست
مأرب کی آزادی سعودی اتحاد کی سب سے خوفناک شکست ہوگی؛فرانسیسی اخبار
?️ 1 مارچ 2021سچ خبریں:ایک فرانسیسی اخبار نے یمنی فوج اور عوامی کمیٹیوں کے ذریعہ
مارچ