?️
سچ خبریں:فروری کے اواخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد عالمی توانائی کا شعبہ بڑے پیمانے پر تبدیلیوں سے گزر رہا ہے۔
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے بعد عالمی توانائی کی منڈی میں بڑی تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے، زمینی پائپ لائنوں کی توسیع اور قابل تجدید توانائی کی جانب تیز رفتار منتقلی عالمی توانائی کے مستقبل کا نیا رخ بن سکتی ہے۔
تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا اور وہ ان سطحوں تک پہنچ گئیں جو سن 2022 میں روس کی یوکرین پر وسیع فوجی کارروائی کے بعد دیکھی گئی تھیں، تاہم اب قیمتیں دوبارہ جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچ چکی ہیں۔ آبنائے ہرمز پر ایران کے اثر و رسوخ کے باعث توانائی فراہم کرنے والے ممالک متبادل تجارتی راستوں کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ حکومتوں نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات بھی نافذ کیے ہیں۔
اگرچہ امریکہ اور ایران کے درمیان پائیدار امن کے لیے مذاکرات جاری ہیں، لیکن توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس جنگ نے عالمی توانائی کے منظرنامے کو طویل مدت بلکہ ممکنہ طور پر مستقل بنیادوں پر تبدیل کر دیا ہے۔
سینئر توانائی تجزیہ کار آدی ایمسیروویچ نے کہا کہ تیل کی عالمی منڈی اب پہلے جیسی نہیں رہے گی، نئے پائپ لائن منصوبے شروع ہوں گے اور توانائی کی ترسیل کے لیے نئے حفاظتی انتظامات تشکیل دیے جائیں گے۔
آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے باعث بحری نقل و حمل پر بھی طویل مدتی اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔ اگرچہ ایران نے امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر اتفاق کیا ہے، تاہم تہران نے بارہا اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنے کنٹرول کے حق پر زور دیا ہے۔
24 جون کو جہازوں کی آمد و رفت عروج پر پہنچنے کے بعد دو تجارتی جہازوں پر حملے ہوئے، جن کی ذمہ داری ایران پر عائد کی گئی۔ ان واقعات نے ملاحوں کی سلامتی سے متعلق خدشات میں اضافہ کیا اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔
توانائی برآمد کرنے والے ممالک اپنی برآمدات کو زمینی پائپ لائنوں کے ذریعے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، جن میں سعودی عرب کی مشرق۔مغرب پائپ لائن، ابوظہبی خام تیل پائپ لائن اور عراق۔ترکیہ خام تیل پائپ لائن شامل ہیں۔
تاہم ان تمام پائپ لائنوں کی مشترکہ گنجائش اس یومیہ بیس ملین بیرل تیل سے کہیں کم ہے جو جنگ سے پہلے آبنائے ہرمز کے ذریعے منتقل ہوتا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق خدشات طویل عرصے تک برقرار رہ سکتے ہیں، جس کے باعث توانائی پیدا کرنے اور استعمال کرنے والے دونوں ممالک اس گزرگاہ پر انحصار کم کرنے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔
اس جنگ کا ایک اور متوقع نتیجہ قابل تجدید توانائی کی جانب عالمی منتقلی میں مزید تیزی ہے۔ سن 2025 کے دوران دنیا بھر میں قابل تجدید توانائی کی استعداد ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی، جبکہ نئی شامل ہونے والی توانائی کی صلاحیت کا تقریباً چھیاسی فیصد حصہ غیر حیاتیاتی ایندھن کے منصوبوں پر مشتمل تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ برقی گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث اندرونی احتراقی انجن والی گاڑیوں کی طلب میں کمی آئے گی، جس سے زمینی نقل و حمل میں تیل کی اجارہ داری بتدریج ختم ہو جائے گی۔
نئے توانائی منظرنامے میں فائدہ اٹھانے والے اور متاثر ہونے والے ممالک
تجزیہ کاروں کے مطابق قابل تجدید توانائی کے آلات کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہونے کے باعث چین عالمی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکہ تیل اور قدرتی گیس کے بڑے سپلائر کے طور پر اپنی پوزیشن مزید مضبوط کرے گا، جبکہ قطر ایک قابل اعتماد توانائی شراکت دار کے طور پر اپنی اہمیت برقرار رکھے گا۔
اس کے باوجود ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ حیاتیاتی ایندھن پر طویل مدتی انحصار ہمیشہ جغرافیائی سیاسی خطرات سے وابستہ رہے گا، اس لیے قابل تجدید توانائی میں سرمایہ کاری ہی ان خطرات کو کم کرنے کا ناگزیر اور مؤثر راستہ سمجھی جا رہی ہے۔


مشہور خبریں۔
اسرائیل شام کو کیوں تقسیم کرنا چاہتا ہے؟
?️ 9 جنوری 2025سچ خبریں: شام کی سرزمین پر صیہونی حکومت کی جارحیت اور قبضے کا
جنوری
حزب اللہ نے ہرمیس میں اسرائیلی کے450 ڈرون کو مار گرایا
?️ 28 فروری 2024سچ خبریں:لبنانی مزاحمت نے گزشتہ ماہ صہیونی دشمن کے خلاف اپنی کارروائیوں
فروری
صہیونی وزیر کی فلسطینی رہنما کو قتل کی دھمکی
?️ 11 مئی 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کے وزیر توانائی نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا
مئی
آج ہمیں پاکستان کو دنیا میں باوقار مقام دلانے کا عہد کرنا ہوگا۔ مریم نواز
?️ 23 مارچ 2026لاہور (سچ خبریں) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ
مارچ
صیہونی حکومت نے مسجد الاقصی کی بجلی اور انٹرنیٹ منقطع کر دیا
?️ 15 اپریل 2023سچ خبریں:المیادین نیوز چینل کے رپورٹر کا کہنا ہے کہ القدس حکومت
اپریل
مشکل صورتحال ہے، احتیاط سے چلنا ہوگا‘ جسٹس مظاہر نقوی کی آئینی درخواست پر سماعت جاری
?️ 8 جنوری 2024اسلام آباد:(سچ خبریں) جسٹس مظاہر نقوی کی آئینی درخواست پر سپریم کورٹ
جنوری
ڈنمارک کے دارالحکومت کے ایک شاپنگ سینٹر میں فائرنگ
?️ 5 جولائی 2022سچ خبریں:خبر رساں ذرائع نے بتایا کہ کوپن ہیگن میں آج ہونے
جولائی
غزہ میں کسی بھی قسم کی کامیابی 7 اکتوبر کی شکست کے داغ کو نہیں مٹا سکتی
?️ 20 دسمبر 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کی ملٹری انٹیلی جنس سروس کے سابق سربراہ تامر
دسمبر