باب المندب صنعا کا فیصلہ کن پتّا؛ یمن خطے کی مدافعاتی قوت بن گیا

باب المندب

?️

سچ خبریں:یمن کی جغرافیائی حیثیت، باب المندب پر کنٹرول، بحری و میزائل صلاحیتوں اور علاقائی اثر و رسوخ نے صنعا کو مغربی ایشیا کی سلامتی کی نئی مساوات میں ایک اہم مدافعاتی قوت بنا دیا ہے۔

جنوب مغربی ایشیا میں پہاڑی جغرافیے اور طویل ساحلی پٹی کے حامل یمن نے اپنی سرحدوں سے کہیں آگے ایک اہم کردار حاصل کرلیا ہے۔ یہ ملک نہ صرف جزیرہ نمائے عرب کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک کا مرکز ہے بلکہ آبنائے باب المندب اور بحیرہ احمر کے مشرقی ساحل پر اپنی جغرافیائی حیثیت کے باعث عالمی تجارت اور توانائی کی سلامتی کے لیے بھی اہم مقام رکھتا ہے۔

اس بحری گزرگاہ کی اہمیت اس بات سے واضح ہوتی ہے کہ عالمی بحری تجارت کا ایک بڑا حصہ بحیرہ احمر اور باب المندب سے گزرتا ہے۔ یہ راستہ یورپ کو ایشیا اور مشرق وسطیٰ سے ملاتا ہے اور مشرق و مغرب کے درمیان توانائی اور تجارتی سامان کی ترسیل کے اہم راستوں میں شمار ہوتا ہے۔

دوسری جانب یہ خطہ ہمیشہ سے بیرونی طاقتوں کی رقابت کا میدان رہا ہے۔ گزشتہ دہائیوں کے دوران امریکہ، برطانیہ اور صہیونی حکومت کی یمن کے گرد سمندری علاقوں میں فوجی موجودگی بحیرہ احمر کی سکیورٹی کی مساوات کا حصہ رہی ہے، تاہم حالیہ برسوں کے واقعات، بالخصوص طوفان الاقصیٰ کے بعد یمنی فورسز کی بحیرہ احمر کی مساوات میں شمولیت نے سابقہ نظام کو چیلنج کردیا ہے۔

آج یمن جنگ اور داخلی بحران میں گھرے ایک ملک سے بڑھ کر علاقائی مساوات میں ایک اسٹریٹجک دباؤ بن چکا ہے۔ انصار اللہ اور یمنی مسلح افواج نے اپنی میزائل اور بحری صلاحیتوں پر انحصار کرتے ہوئے ظاہر کیا ہے کہ اس ملک کی جغرافیائی حیثیت علاقائی اور بیرونی طاقتوں کے حساب کتاب کو تبدیل کرنے کے ایک مؤثر ذریعے میں تبدیل ہوسکتی ہے۔

اس دوران اسلامی جمہوریہ ایران اور خطے میں مزاحمت کی دیگر تحریکوں کے ساتھ یمن کی اسٹریٹجک ہم آہنگی نے بھی مغربی ایشیا کی مساوات میں اس ملک کی اہمیت بڑھا دی ہے۔ یہ کردار حالیہ برسوں میں محض دفاع سے آگے بڑھ کر یمنی حلقوں کی اصطلاح میں ’’فعال قوت مدافعت‘‘ کی شکل اختیار کرچکا ہے۔

اسی تناظر میں یمن کی مستقبل العدالہ تحریک کے ترجمان ابو مہدی نے خصوصی گفتگو میں اس ملک میں ہونے والی حالیہ تبدیلیوں، صنعا اور ریاض کے تعلقات، امریکہ کے کردار، باب المندب کی حیثیت، فلسطین کے لیے یمن کی حمایت اور یمن میں جنگ و امن کے مستقبل کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔

انہوں نے کہا کہ یمن کے سیاسی حلقوں کے سعودی عرب کے بارے میں موجودہ نقطہ نظر کو سمجھنے کے لیے حالیہ جنگ سے پہلے کے برسوں کی طرف لوٹنا ضروری ہے۔ اس دور میں دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور سرحدی اختلافات کئی مرتبہ یمن کی داخلی صورتحال اور علاقائی طاقتوں کی رقابت سے متاثر ہوئے۔

ابو مہدی کے مطابق یمن میں سعودی مداخلت کی ایک طویل تاریخ ہے اور حالیہ برسوں کی جنگ کو اس تاریخی پس منظر سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ہر 20 سال بعد یمن پر حملہ کرتا رہا ہے۔ ان کے مطابق پہلی مرتبہ 1934 میں سعودی عرب نے یمن کے بعض علاقوں پر قبضہ کیا، اس کے بعد 1954، 1974 اور 1994 میں بھی داخلی اور سیاسی جنگوں کو ہوا دے کر یمن کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی۔

مستقبل العدالہ تحریک کے ترجمان نے 1994 کی سیاسی تبدیلیوں کو بھی اسی علاقائی رقابت کے تناظر میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ 1990 میں شمالی اور جنوبی یمن کے اتحاد کا معاہدہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی رضامندی کے بغیر ہوا، جس سے دونوں ممالک ناراض ہوئے اور انہوں نے فوری طور پر اختلافات پیدا کرکے یمن کے استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔

یہاں سے یمن کے جغرافیے کا معاملہ مرکزی حیثیت اختیار کرتا ہے۔

ابو مہدی کے مطابق یمن کے ساحل اور باب المندب کی اہمیت نے اس ملک کے بارے میں بیرونی طاقتوں کے حساب کتاب میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔

 ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کا تاریخی ہدف یمن کے اسٹریٹجک ساحلی علاقوں پر قبضہ اور باب المندب پر کنٹرول حاصل کرنا رہا ہے، تاہم مزاحمت کرنے والے یمن نے اس مرتبہ پوری بیداری کے ساتھ ان منصوبوں کا مقابلہ کیا ہے۔

یمن میں برسوں کی جنگ، محاصرے اور کشیدگی نے اگرچہ ملک کے بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے، لیکن ابو مہدی کے خیال میں اسی عرصے میں ایسی صلاحیتیں بھی پیدا ہوئی ہیں جو اب علاقائی سکیورٹی کے حساب کتاب میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔

وہ حالیہ تبدیلیوں کو ایک اسٹریٹجک موڑ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ یمن 2018 سے سعودی عرب کے ساتھ جنگ بندی کی حالت میں تھا، لیکن سعودی عرب نے نہ صرف تعمیر نو اور انخلا سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں بلکہ مالی اور عسکری مدد کے ذریعے اپنے حمایت یافتہ گروہوں کو مضبوط کرکے یمن کو کمزور کرنے کی کوشش جاری رکھی۔

ان کے مطابق اصل فرق ان صلاحیتوں کا ہے جو یمن نے جنگ کے برسوں میں حاصل کی ہیں۔ ابو مہدی کا کہنا ہے کہ مزاحمت کا یمن اب جنگ کے ابتدائی برسوں والا یمن نہیں رہا؛ آج یمن کے پاس میزائل طاقت، بحری قوت مدافعت اور انٹیلی جنس نگرانی کی صلاحیت موجود ہے، جس نے علاقائی مساوات کو اس کے حق میں تبدیل کردیا ہے۔

یمن کی جغرافیائی حیثیت، جو اسے دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں سے ایک کے قریب رکھتی ہے، اس ملک کی تبدیلیوں کے اثرات کو اس کی سرحدوں سے کہیں آگے لے جاتی ہے۔

 اسی حوالے سے ابو مہدی نے خبردار کیا کہ اگر سعودی عرب نئی جنگ شروع کرتا ہے تو اسے ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی، کیونکہ یمن نے جنگ کو سعودی عرب کے اسٹریٹجک گہرائی، یعنی تیل پیدا کرنے والے علاقوں اور اہم تنصیبات تک منتقل کردیا ہے۔

ابو مہدی کے مطابق یمن کی جنگ کو صرف سعودی عرب تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے نزدیک یمن میں ہونے والے واقعات بحیرہ احمر اور یمنی ساحلوں پر علاقائی اور بیرونی طاقتوں کے درمیان وسیع تر رقابت کا حصہ ہیں۔

مستقبل العدالہ تحریک کے ترجمان نے امریکہ کو اس میدان کے اہم ترین فریقوں میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ یمن میں سعودی عرب کی تمام سرگرمیوں کے پیچھے بلا شبہ امریکہ موجود ہے۔

ان کے مطابق امریکی کردار محض فوجی اور انٹیلی جنس تعاون تک محدود نہیں رہا بلکہ امریکی فورسز یمن کے بعض اسٹریٹجک علاقوں میں براہ راست بھی موجود ہیں۔

 انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی فورسز انٹیلی جنس اور ہتھیاروں کے شعبے کے علاوہ باب المندب، بحیرہ احمر، جزیرہ سقطری اور حتیٰ کہ عدن میں بھی براہ راست موجود ہیں۔

ابو مہدی نے مزید کہا کہ خطے میں صیہونی اور برطانوی فورسز کی موجودگی کے حوالے سے سعودی اور امریکی فوجی کمانڈروں کے درمیان مسلسل رابطے موجود ہیں۔

ان کے مطابق ان تمام سرگرمیوں کا بنیادی مقصد یمن کے ساحلی علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کا اصل ہدف یمن کے اسٹریٹجک ساحلی علاقوں پر قبضہ اور آبنائے باب المندب پر کنٹرول حاصل کرنا ہے، تاہم یمن نے اپنی بازدار صلاحیت کے بل پر ان منصوبوں کو ناکام بنادیا ہے۔

یمن کے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تعلقات بھی اس ملک کی صورتحال کے تجزیے میں اہم ترین موضوعات میں شامل ہیں۔ یمن کی مزاحمتی تحریکوں کے ناقدین اس تعلق کو ایران پر انحصار قرار دیتے ہیں، جبکہ مزاحمت کے قریب حلقے اسے تعاون اور اسٹریٹجک ہم آہنگی سمجھتے ہیں۔

ابو مہدی نے اس تنقید کے جواب میں تعاون اور انحصار کے درمیان واضح فرق کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر انحصار کا الزام ایک پرانا اور بے بنیاد بیانیہ ہے جسے سعودی عرب پر منحصر عناصر فروغ دیتے ہیں۔

تاہم انہوں نے ایران کے تجربات اور صلاحیتوں سے استفادہ کرنے کی تردید نہیں کی۔ ان کے مطابق یمن اپنی دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے کے لیے ایران کی طاقت اور تجربے سے فائدہ اٹھاتا ہے، لیکن اس کے فیصلے مکمل طور پر آزاد اور یمن کے قومی مفادات پر مبنی ہیں۔

ان کے مطابق تہران اور صنعا کے تعلقات ایک وسیع تر فریم ورک کا حصہ ہیں جس کا محور امریکہ اور صہیونی حکومت کا مقابلہ ہے۔

ابو مہدی نے کہا کہ ایران اور یمن کے درمیان فوجی، انٹیلی جنس اور سیاسی تعاون صہیونی حکومت اور امریکی تسلط کے خلاف مشترکہ دشمنی کی بنیاد پر ایک فطری ہم آہنگی ہے۔

انہوں نے مزاحمت کی مختلف تحریکوں کے درمیان موجودہ رابطہ کاری کے ڈھانچے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حضرت سید علی حسینی خامنہ ای کی شہادت اور مزاحمتی محور میں نئی قیادت کے بعد یمن، لبنان، عراق اور ایران کے درمیان زیادہ وسیع رابطہ قائم ہوا ہے، جس نے آپریشنل ہم آہنگی کو بے مثال سطح تک پہنچا دیا ہے۔

ابو مہدی کے مطابق اس ہم آہنگی نے سابقہ مساوات تبدیل کردی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں ہر گروہ الگ الگ کارروائی کرتا تھا، لیکن آج میدان میں اتحاد نے دشمن کے خلاف بے مثال قوت مدافعت پیدا کردی ہے۔

حالیہ برسوں میں یمن کی علاقائی پالیسی میں سب سے نمایاں تبدیلی شاید مسئلہ فلسطین کی بڑھتی ہوئی اہمیت ہے۔ غزہ کی جنگ کے بعد فلسطین کا مسئلہ یمن کی خارجہ اور سکیورٹی پالیسی کے ساتھ پہلے سے زیادہ جڑ گیا اور یمنی قیادت کے مؤقف کا ایک بنیادی محور بن گیا۔

ابو مہدی کے مطابق فلسطین کی حمایت یمن کے لیے محض نظریاتی مسئلہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطین کی حمایت اب صرف جذباتی یا نظریاتی مؤقف نہیں بلکہ یمن کی قومی سلامتی کا ایک اسٹریٹجک اصول بن چکی ہے۔

انہوں نے فلسطین کے لیے عوامی حمایت کی لہر پیدا کرنے میں یمنی رہنما کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام کی حمایت کے لیے عوامی سطح پر میدان میں آنے کی ان کی اپیل نے یمن میں بڑے پیمانے پر اجتماعات اور عوامی متحرک کاری کی بنیاد رکھی۔

ابو مہدی کے مطابق فلسطین کی حمایت کے لیے یمنی رہنما کی اپیل کو معاشرے میں وسیع پذیرائی ملی اور غزہ کے عوام کی حمایت میں بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔

انہوں نے کہا کہ غزہ کی جنگ کے دوران یمن میں تقریباً 1 ملین افراد نے عوامی متحرک کاری میں شرکت کی اور میدان میں آئے۔

مستقبل العدالہ تحریک کے ترجمان نے مزید کہا کہ یمنی رہنما نے فلسطین کی حمایت کے لیے عوام کو میدان میں آنے کی دعوت دی اور عوام نے بھی اس کا بھرپور خیر مقدم کیا۔ ان کے مطابق اس بڑے پیمانے کی شرکت نے ثابت کیا کہ یمن میں فلسطین کا مسئلہ صرف ایک سیاسی موضوع نہیں بلکہ عوامی مطالبہ بن چکا ہے۔

ابو مہدی کے بیانیے کے مطابق اس وسیع عوامی شرکت نے بالآخر یمن کے سیاسی اور سکیورٹی فیصلوں کو بھی متاثر کیا، یہاں تک کہ فلسطین کی حمایت محض بیان دینے سے آگے بڑھ کر غزہ کی جنگ سے متعلق علاقائی مساوات میں یمن کی براہ راست شمولیت کا باعث بنی۔

ان کے مطابق فلسطینی مزاحمت کی حمایت کا مطلب جنگ کو اندرون ملک سے باہر منتقل کرنا اور علاقائی و بین الاقوامی دشمنوں پر قیمت عائد کرنا ہے۔

یوں مستقبل العدالہ تحریک کے ترجمان کے بیانیے میں فلسطین کی حمایت کے لیے یمنی رہنما کی عوامی اپیل، یمن میں بڑے پیمانے پر سماجی متحرک کاری پیدا کرنے والے اہم عوامل میں شامل ہوگئی؛ ایسی لہر جس نے غزہ کی حمایت کو محض سیاسی مؤقف سے نکال کر یمن کی علاقائی سرگرمی کا حصہ بنا دیا۔

ابو مہدی کے بیانیے میں اگر ایک خصوصیت دوسری تمام خصوصیات سے زیادہ نمایاں ہے تو وہ مزاحمت اور ثابت قدمی ہے۔ وہ اسے محض فوجی طاقت نہیں بلکہ سماجی، اعتقادی اور سیاسی صلاحیتوں کے مجموعے کے طور پر بیان کرتے ہیں۔

ان کے مطابق اس صورتحال کو 3 نکات میں بیان کیا جاسکتا ہے: قومی اتحاد، مذہبی یقین اور جنگ کو بیرون ملک منتقل کرنا۔

ان کے خیال میں تنازعے کے جغرافیے میں اسی تبدیلی نے جنگ کے دباؤ کو اس کی روایتی شکل سے باہر نکال دیا ہے۔

ابو مہدی کا کہنا ہے کہ یمن نے جنگ کو اپنی گلیوں سے نکال کر سمندروں اور دشمن کے فوجی اڈوں تک منتقل کردیا ہے۔

انہوں نے یمن کی جنگ برداشت کرنے کی صلاحیت کا سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے موازنہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یمنی معاشرہ طویل جنگ کے تجربے کے باعث دباؤ برداشت کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتا ہے۔

ان کے مطابق یمن کو 20 سالہ مسلط کردہ جنگ کا تجربہ ہے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات طویل مدت تک جنگ کے اخراجات برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

مستقبل العدالہ تحریک کے ترجمان نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی معاشی صورتحال سے متعلق بعض دعوے بھی کیے، جن میں یہ دعویٰ شامل ہے کہ سعودی عرب نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے 8 ارب ڈالر قرض لیا ہے اور متحدہ عرب امارات نے امریکہ سے مالی مدد کی درخواست کی ہے۔ ان کے نزدیک معاملہ بالآخر صبر اور برداشت کی ایک طویل جنگ بن جاتا ہے۔

یمن کے مستقبل کے بارے میں بات کرتے ہوئے ابو مہدی نے اس ملک کی صورتحال کو خطے کی بڑی مساوات، بالخصوص ایران اور امریکہ کے تعلقات سے جوڑا، تاہم ان کے خیال میں اس تعلق کی وجہ یمن کے حوالے سے سعودی عرب کی علاقائی پالیسی میں امریکی کردار ہے۔

ابو مہدی کے مطابق سعودی عرب جنگ میں داخل ہونے کے فیصلے میں مکمل طور پر آزاد فریق نہیں اور یمن کے حوالے سے اس کی فوجی پالیسی بڑی حد تک امریکی فیصلوں اور خواہشات سے متاثر ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اپنے طور پر اپنی خواہش سے جنگ میں داخل نہیں ہوتا بلکہ امریکہ کی خواہش پر لڑتا ہے۔ اسی لیے اگر ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی معاہدہ ہوجاتا ہے تو اس کا سعودی عرب کے یمن کے حوالے سے رویے پر بھی براہ راست اثر پڑ سکتا ہے۔

اسی بنیاد پر ان کا کہنا ہے کہ یمن میں جنگ کے مستقبل کا تجزیہ صرف صنعا اور ریاض کے تعلقات کے دائرے میں نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ سب کچھ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدے پر منحصر ہے۔

ان کے مطابق پہلے منظرنامے میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان معاہدہ علاقائی کشیدگی میں کمی اور اس کے نتیجے میں یمن پر فوجی دباؤ میں کمی کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔

ابو مہدی کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکہ کسی معاہدے تک پہنچتے ہیں تو یمن میں جنگ کی شدت کم ہوجائے گی اور سعودی عرب یمن کے ساتھ ایک باعزت معاہدہ قبول کرنے پر مجبور ہوگا۔

دوسرے منظرنامے میں، یعنی ایران اور امریکہ کے درمیان محاذ آرائی جاری رہنے اور دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی بڑھنے کی صورت میں، وہ ایک مختلف مستقبل کی تصویر پیش کرتے ہیں۔

 ان کے مطابق اگر ایران اور امریکہ کی جنگ جاری رہتی ہے تو یمن جنگ کے مرکزی محاذ میں تبدیل ہوجائے گا اور یمن کو سعودی عرب کی سرزمین کی گہرائی میں مزید طاقت کے ساتھ حملے کرنا ہوں گے۔

اس کے باوجود وہ واضح کرتے ہیں کہ یمن کی ترجیح جنگ جاری رکھنا نہیں ہے۔ ان کے مطابق یمن دونوں منظرناموں کے لیے تیار ہے، تاہم اس کی ترجیح ایک باوقار امن ہے جس میں سعودی عرب اپنی 8 سالہ کارروائیوں کی قیمت ادا کرے اور یمن کے اندر موجود اپنے حمایت یافتہ گروہوں کی حمایت ختم کردے۔

ابو مہدی نے سعودی عرب کی جانب سے یمن کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ بھی تقریباً 300 سے 400 ارب ڈالر لگایا۔

ابو مہدی کے ساتھ گفتگو محض یمن کی داخلی جنگ کی ایک داستان نہیں بلکہ یمنی سیاسی حلقوں کے ایک حصے کے اس تصور کی عکاسی کرتی ہے کہ خطے میں اس ملک کی حیثیت تبدیل ہوچکی ہے۔

اس نقطہ نظر کے مطابق یمن ایک ایسی ریاست سے، جو داخلی اور بیرونی جنگ میں گھری ہوئی تھی، ایسے فریق میں تبدیل ہوگیا ہے جو اپنے اردگرد کی سکیورٹی مساوات پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس بیانیے میں یمن کا جغرافیہ اور باب المندب، فوجی صلاحیتیں، جنگ کے برسوں کا تجربہ، عوامی متحرک کاری اور خطے میں ہم خیال تحریکوں کے ساتھ روابط، یمن کی نئی طاقت کے اہم عناصر ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں علاقائی مساوات میں یمن کی حیثیت تبدیل ہوئی ہے۔ غزہ کی جنگ، بحیرہ احمر میں ہونے والی تبدیلیوں اور امریکہ و برطانیہ کے ساتھ براہ راست کشیدگی نے علاقائی حساب کتاب میں یمن کی اہمیت بڑھا دی ہے اور یہ ظاہر کیا ہے کہ یمن کی صورتحال اب محض داخلی مسئلہ نہیں رہی۔

آج اس ملک کا مستقبل کئی بڑے معاملات کے سنگم پر کھڑا ہے؛ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات، بحیرہ احمر کی صورتحال، غزہ کی جنگ، ایران اور امریکہ کے تعلقات، بیرونی طاقتوں کی موجودگی اور یمن کی داخلی صورتحال۔

اسی لیے اگر مستقبل میں یمن مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کی طرف بھی بڑھتا ہے تو جنگ سے پہلے کی حیثیت پر اس کی واپسی بعید از قیاس ہے۔ برسوں کی جنگ نے یمن کو ایسی مساوات میں داخل کردیا ہے جس کا دائرہ یمنی سرحدوں سے باب المندب، بحیرہ احمر اور مغربی ایشیا کے سکیورٹی ڈھانچے تک پھیل چکا ہے۔

آج یمن صرف ایک میدان جنگ نہیں بلکہ ان اہم مقامات میں شامل ہے جہاں مشرق وسطیٰ کے نئے سکیورٹی نظام کا ایک حصہ تشکیل پارہا ہے۔

مشہور خبریں۔

ہم لبنان میں خانہ جنگی میں کبھی داخل نہیں ہوں گے: حزب اللہ

?️ 18 اکتوبر 2021سچ خبریں:لبنان کی حزب اللہ ایگزیکٹو کونسل کے سربراہ نے زور دے

اسلام آباد ہائیکورٹ کے 8 ججوں کو پاؤڈر بھرے مشکوک خطوط موصول، ڈرانے والا نشان بھی موجود

?️ 2 اپریل 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ کے 8 ججوں کو پاؤڈر

صہیونی حکام کا تل ابیب پر زیادہ حجم کے بیلسٹک میزائلوں کے داغے جانے کا خدشہ

?️ 9 اپریل 2023سچ خبریں:غاصبوں کے خلاف استقامت کے غیر متوقع اقدامات کے خوف کی

آج سے ملک بھر میں عالمی ہفتہ برائے حفاظتی ٹیکہ جات منارہے ہیں، عبدالقادر پٹیل

?️ 25 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وفاقی وزیر برائے صحت عبدالقادر پٹیل نے کہا ہے

سائفر کیس: عمران خان، شاہ محمود قریشی مرکزی ملزم قرار، چالان جمع

?️ 1 اکتوبر 2023سچی خبریں:(سچ خبریں) سائفر کیس میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے)

چین پورے مغرب کے لیے خطرہ ہے:وائٹ ہاؤس کے سابق مشیر

?️ 30 اکتوبر 2021سچ خبریں:وائٹ ہاؤس کے سابق مشیر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ

سعودی عرب اور ترکیہ کو ایف-۳۵ کی فروخت روکنے کے لیے نیتن یاہو کی خفیہ مہم

?️ 13 دسمبر 2025 سعودی عرب اور ترکیہ کو ایف-۳۵ کی فروخت روکنے کے لیے

صیہونیوں کے ہاتھوں فلسطینی صحافی کو زندہ جلانے کا کیا مطلب ہے؟

?️ 8 اپریل 2025سچ خبریں: کل بروز اتوار کو صیہونی حکومت نے اپنے مجرمانہ اقدامات

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے