ٹرمپ کی نئی اقتصادی جنگ کے مقابلے کے لیے ایران کی ممکنہ حکمت عملیوں کا جائزہ

ایران

?️

سچ خبریں:تجزیاتی رپورٹ میں ٹرمپ کی نئی اقتصادی پابندیوں، ایران کو تنہا کرنے کی کوششوں اور ان کے مقابلے کے لیے سفارتی، تجارتی اور اقتصادی حکمت عملیوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔

امریکہ ایسے وقت میں ایران کے خلاف نئی اقتصادی جنگ شروع کر رہا ہے جب وہ فوجی میدان میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے اور اس کے روایتی اتحادی بھی اس دباؤ میں مکمل تعاون کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتے۔

تجزیاتی رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف فوجی ذرائع سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر اقتصادی دباؤ کے ہتھیار کی طرف متوجہ ہوئے ہیں۔

ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ایران کے خلاف تاریخ کی سب سے بڑی اقتصادی کارروائی قرار دی جانے والی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ واشنگٹن کا مقصد یہ دکھائی دیتا ہے کہ فوجی محاذ پر ناکامی کے بعد اقتصادی دباؤ بڑھا کر تہران کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جائے۔

تاہم ایران گزشتہ کئی دہائیوں سے پابندیوں کا سامنا کرتا آیا ہے اور اس نے غیر ملکی تجارت جاری رکھنے، مالی پابندیوں سے نمٹنے اور غیر مغربی شراکت داروں کے ساتھ تعاون بڑھانے کے لیے مختلف طریقہ کار تیار کیے ہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ آیا بے مثال دباؤ ماضی کے زیادہ سے زیادہ دباؤ سے مختلف ہے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کی جانی چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ بے مثال اقتصادی دباؤ دراصل ایک پرانی پالیسی کا نیا نام ہے۔

ایران پر 1980، 1990 اور 2000 کی دہائیوں میں بھی مختلف شعبوں میں پابندیاں عائد کی جاتی رہی ہیں۔ امریکہ کی جانب سے پہلے بھی سخت اقتصادی پابندیوں کا استعمال کیا گیا، جنہیں مختلف ادوار میں مختلف نام دیے گئے۔

تجزیے کے مطابق ایران کو امریکی ابتدائی اور ثانوی پابندیوں کا طویل تجربہ حاصل ہے، اس لیے صرف دباؤ کا نیا نام تبدیل ہونے سے بنیادی صورتحال میں بڑی تبدیلی کا امکان کم ہے۔

اہم مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ کی اس پالیسی کے ساتھ دوسرے ممالک کس حد تک تعاون کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق چین، روس اور بعض دیگر ایشیائی ممالک ممکنہ طور پر واشنگٹن کی پالیسی کے ساتھ مکمل تعاون نہیں کریں گے اور ایران کے ساتھ اپنے اقتصادی و تزویراتی مفادات کو مدنظر رکھیں گے۔

اگر امریکہ ایران کے خلاف عالمی سطح پر اقتصادی اتحاد قائم کرنے میں ناکام رہتا ہے تو ٹرمپ کی بے مثال اقتصادی کارروائی بھی فوجی مہم کی طرح مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ کا اصل مقصد صرف سمندری راستوں تک محدود نہیں بلکہ ایران کی خشکی کے راستے تجارت کو بھی محدود کرنا اور اسے مکمل طور پر تنہا کرنا ہے۔

اس حکمت عملی میں ایران کے پڑوسی ممالک پر دباؤ ڈالنا، مالی لین دین کو محدود کرنا اور سیاسی تنہائی پیدا کرنا شامل ہے۔

ٹرمپ کا خیال ہے کہ سمندری محاصرہ چند ماہ میں نتائج دے سکتا ہے، اسی لیے وہ اس پالیسی کو جاری رکھنے کے خواہاں ہیں۔

تجزیے کے مطابق ممکنہ طور پر امریکہ خاص طور پر ایران کے ہمسایہ ممالک پر دباؤ ڈالے گا تاکہ وہ تہران کے ساتھ اقتصادی تعلقات کم کریں۔

رپورٹ میں نئی اقتصادی جنگ سے نمٹنے کے لیے چند اہم اقدامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

سب سے پہلے فعال اقتصادی سفارت کاری کو اہم قرار دیا گیا ہے۔

تجزیے کے مطابق مکمل محاصرے کا مقابلہ کرنے کے لیے ایران کو اقتصادی سفارت کاری کو مزید مضبوط کرنا ہوگا اور اپنے اہم تجارتی شراکت داروں کے ساتھ فوری رابطے بڑھانے ہوں گے۔

چین، روس، عراق، ترکی، متحدہ عرب امارات اور افغانستان ایران کے اہم تجارتی شراکت داروں میں شامل ہیں، جن کے ساتھ تعاون کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین، جو ایران سے تیل خریدنے والا بڑا ملک اور اہم تجارتی شراکت دار ہے، اقتصادی دباؤ کے معاملے میں امریکہ کا ساتھ دینے پر آمادہ نہیں۔

اسی طرح روس نے بھی امریکی پالیسی کی مخالفت کی ہے۔

شمالی-جنوبی راہداری، بینکاری تعاون، مقامی کرنسیوں میں تجارت اور برکس و شنگھائی تعاون تنظیم جیسے پلیٹ فارمز میں تعاون اقتصادی دباؤ کم کرنے کے اہم ذرائع قرار دیے گئے ہیں۔

عراق کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ملک بجلی، گیس، خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات کے لیے ایران پر انحصار کرتا ہے، اس لیے امریکی دباؤ کے ساتھ مکمل تعاون عراق کے لیے بھی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔

دوسری اہم حکمت عملی متبادل راستوں کو فعال کرنا اور سپلائی چین کو متنوع بنانا ہے۔

رپورٹ کے مطابق شمالی-جنوبی راہداری، جو جنوبی بندرگاہوں کو بحیرہ خزر کے راستے روس اور یورپ سے ملاتی ہے، آبنائے ہرمز اور نہر سوئز پر انحصار کم کر سکتی ہے۔

اسی طرح مشرقی-مغربی راہداری، افغانستان اور پاکستان کے ذریعے چین اور جنوبی ایشیا تک تجارتی راستے، شمالی بندرگاہوں کی ترقی اور ڈالر کے بجائے روبل، یوآن اور دیگر قومی کرنسیوں میں تجارت کو فروغ دینا بھی اہم اقدامات ہیں۔

تیسری حکمت عملی معاشرتی استحکام اور عوامی برداشت میں اضافہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق اقتصادی جنگ صرف مالی اور تجارتی میدان میں نہیں ہوتی بلکہ عوامی اعتماد اور معلوماتی جنگ بھی اس کا حصہ ہوتی ہے۔

اس سلسلے میں زر مبادلہ اور بنیادی اشیاء کی قیمتوں کو مستحکم رکھنا، کمزور طبقات کے لیے امدادی اقدامات، عوام کو درست معلومات فراہم کرنا اور ادویات، خوراک اور صنعتی ضروریات میں مقامی پیداوار بڑھانا ضروری قرار دیا گیا ہے۔

چوتھی حکمت عملی محاصرے کا مقابلہ سفارت کاری یا دیگر ذرائع سے کرنا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کو طویل المدتی سمندری محاصرے کو معمول نہیں بننے دینا چاہیے، کیونکہ یہ تیل کی برآمد اور بنیادی اشیاء کی درآمد کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔

تجزیے کے مطابق مالی پابندیوں کے برعکس سمندری محاصرہ براہ راست جہازوں اور سامان کی نقل و حرکت کو روک سکتا ہے، جس کے طویل مدتی اثرات زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایران کو سفارتی ذرائع سے محاصرہ ختم کرنے کی کوشش جاری رکھنی چاہیے، تاہم اگر یہ راستے ناکام ہوں تو دیگر آپشنز پر بھی غور کرنا پڑ سکتا ہے۔

آخر میں تجزیے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ ایسے وقت میں ایران کے خلاف نئی اقتصادی جنگ شروع کر رہا ہے جب فوجی میدان میں اسے مطلوبہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی اور اس کے اتحادی بھی مکمل تعاون کے لیے تیار نہیں۔

رپورٹ کے مطابق کئی ممالک ٹرمپ کے فیصلوں کو غیر مستقل سمجھتے ہیں، اس لیے ممکن ہے کہ ایران کے علاقائی شراکت دار اور تجارتی ممالک امریکی دھمکیوں کو مکمل طور پر قبول نہ کریں۔

تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ایران گزشتہ 4 دہائیوں کے تجربات، فعال سفارت کاری، معاشی برداشت میں اضافے اور ضرورت پڑنے پر دیگر اقدامات کے ذریعے نئے دباؤ کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ ایران دفاعی ردعمل کے بجائے فعال سفارتی اور اقتصادی حکمت عملی اختیار کرے، جس میں تجارت کا تحفظ بھی شامل ہو اور ممکنہ محاصرے کے مقابلے کی تیاری بھی برقرار رکھی جائے۔

مشہور خبریں۔

ٹرمپ پر امریکی قومی دستاویزات چوری کرنے کا الزام

?️ 11 فروری 2022سچ خبریں:امریکی نیشنل دستاویزات کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ اس ملک

چین کا ڈیجیٹل اسپیس کلین اپ آپریشن

?️ 7 اکتوبر 2025سچ خبریں:چین نے دو مہنے کے لیے  سائبر اسپیس کو کنٹرول کرنے

خیبر پختونخوا: سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز میں بھارتی حمایت یافتہ 35 خوارج ہلاک، 12 جوان شہید

?️ 13 ستمبر 2025باجوڑ : (سچ خبریں) سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا میں آپریشنز کرتے ہوئے

شمالی شام اور عراق میں دو روز میں 22 جنگجو ہلاک

?️ 29 نومبر 2022سچ خبریں:ترکی کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ گزشتہ 48

ٹرمپ حکومت کا پہلا سال ناکامی سے دوچار، اکثریت عوام ناراض: سی این این

?️ 18 جنوری 2026سچ خبریں:سی این این کے تازہ سروے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ

امریکہ کا افغانستان میں رہنے کا بہانہ

?️ 11 جولائی 2021سچ خبریں:امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان جان کربی نے حال ہی میں

امریکہ نے صیہونی آئرن ڈوم کیوں نہیں خریدا؟

?️ 29 اگست 2021سچ خبریں:عرب دنیا کے ایک معروف تجزیہ کار نے ایک مضمون شائع

فلسطین کی حمایت میں کینیڈا کا سب سے بڑا مظاہرہ

?️ 27 نومبر 2023سچ خبریں: کینیڈا کی آبادی کے ایک بڑے حصے نے اس ملک

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے